ممتاز امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشنز آنے والے دنوں میں پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کی خبر دے رہا ہے۔ دوسری جانب داعش بھارتی ریاست میں پرورش پا رہی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ، سول سوسائٹی، ریاستی حکومت دہانیاں دے رہی ہے لیکن مودی سرکار کی آنکھیں بند اور زبان کو تالے لگ چکے ہیں۔

داعش، مشرق وسطیٰ کو بربادی کے جہنم میں جھونک کر امربیل کی مانند، اب جنوبی ایشیا اور افغانستان کے ہمسایہ وسط ایشیائی ممالک کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس معما پر اب تک اسرار کی دبیز چادر پڑی ہوئی تھی کہ اس ہشت پا خونین بلا کو خطے کے کون سے ملک کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس کو تربیت کیلئے محفوظ پناہ گاہ کس دھرتی پر حاصل ہو رہی ہے۔ حالیہ کچھ واقعات نے مکمل طور پر نہ سہی، جزوی طور پر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنے اور تخریب کاری کو ہتھیار بنا کر اپنا ایجنڈا نافذ کرنے پر عمل پیرا یہ تنظیم خوشحال ترین بھارتی ریاست کیرالہ سے آپریٹ ہو رہی ہے۔

یہ بات واضح کرتا چلوں کہ داعش کی بنیاد اس کی تشکیل و نشو ونما امریکی سی آئی اے نے کی جس کا بنیادی مقصد اس کو اپنی پراکسی بنا کر، خطے کی مختلف عسکری تنظیموں کے مقابلے میں لانا تھا۔ تاکہ خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے تفریق و انتشار کی فصل کاٹی جا سکے۔ ساری متحارب تنظیموں کو اسلحہ بھی دیا جائے اور جب پانی سر سے گزر جائے تو پھر ان کے درمیان ثالثی کا کردار بھی خود ہی ادا کیا جائے۔ داعش، مشرق وسطیٰ میں اپنے ایجنڈے پر کامیابی سے عمل پیرا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی تھی کہ نسبتاً پرامن خطوں کی جانب رخ کیا جائے۔

امریکہ کا سب سے بڑا پارٹنر اور قابل اعتماد اتحادی جنوبی ایشیا میں بھارت ہے۔ امریکہ کا مسئلہ روس اور بھارت کا سب سے بڑا ایشو پاکستان ہے۔ امریکہ، چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت، خطے میں اثرورسوخ اور روس کے ایک مرتبہ پھر انگڑائی لے کر اٹھنے کو اپنی بالادستی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ جبکہ بھارت، پاکستان کو اپنی بالادستی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ جبکہ بھارت، پاکستان کو اپنی چودہراہٹ کی راہ میں بڑا کانٹا سمجھتا ہے۔ لہٰذا امریکہ اپنے برسوں کے تجربے اور آزمودہ کھیل کے ذریعے، دہشت گردی کو ہتھیار بنا کر میدان عمل میں موجود ہے۔

اب وہ کہانی تو قصہ ماضی بن چکی کہ کس طرح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول جو پاکستان دشمنی کے لئے بدنامی کے تمام مدارج طے کر چکے ہیں۔ اس نے مشرق وسطیٰ کا خفیہ دورہ کیا۔ جس کا بنیادی مقصد داعش، القاعدہ کے بچے کھچے لڑاکوں، ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی العالمی، جماعت الاحرار اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو ایک نظم، ایک لڑی میں پرونا تھا۔ اس ابتدائی مشن کے بعد ان تنظیموں کے باہمی رابطے بڑھتے گئے۔ اس گھناؤنی انسان کش مہم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ امریکہ اس پراکسی وار کو اپنی سرزمین سے دور رکھے۔ داعش اور دیگر تنظیمیں اب باقاعدہ طور پر ایک نظم میں ڈھل رہی ہیں۔ ان کی اس موجودہ شکل کو خود امریکی ادارے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن پس پردہ ڈوریاں ہلانے والی بے چہرہ عالمی اسٹیبلشمنٹ، ایسی رپورٹوں اور اعتراف حقیقت کو خاطر میں نہیں لاتی۔ ان کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔ جس کی تکمیل کا کھیل جاری رہتا ہے۔

ابھی حال ہی میں امریکی فوجی ادارے کمبیٹنگ ٹیرر ازم سنٹر میں افغانستان میں برسرپیکار نیٹو افواج کے سربراہ امریکی جنرل کمانڈر نکلسن کو طلب کیا۔ جہاں انہوں نے خطہ میں سلامتی کی صورتحال پر طویل بریفنگ نما انٹرویو دیا۔ قلم کار پرانی باتوں کو دہرا کر، قارئین کو ہر گز بور کرنے کا روادار نہیں۔ بس چند ایسی باتیں، جو اس دھرتی پر رہنے والوں کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ منظرعام پر لا کر آگے بڑھوں گا۔ امریکی جنرل انکشاف کرتا ہے کہ خطے میں خطرناک وارداتوں میں ملوث متعدد تنظیمیں، ایک لڑی میں پروئی جا چکی ہیں۔ داعش،ازبکستان اسلامی موومنٹ، ایسٹ ترکمانستان لبریشن موومنٹ، پاکستان طالبان نے آپس میں غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے۔ ان پانچ، چھ جماعتوں کا اتحاد بنیادی طور پر مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے ایک دوسرے کی مدد کی خاطر بنایا گیا ہے۔ داعش اور ٹی ٹی پی کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جبکہ ازبک اور ایسٹ ترکمانستان تحریک، چین کے بعض حصوں کو الگ کر کے ایک آزاد اسلامی ریاست بنانے کیلئے دہشت گردی کے راستے پر چل رہی ہے۔ امریکی جنرل کا یہ انکشاف بھی حیرت انگیز تھا۔ امریکہ نے جن 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیکر ان پر پابندی لگائی۔ ان میں سے 20 افغانستان کی سرزمین پر موجود اور برسرپیکار ہیں۔

گذشتہ سال کے وسط سے لیکر چند روز پہلے پے در پے ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے خطے کی سیکورٹی کی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کو چونکا دیا۔ آغا اقرار ہارون کا تعلق معروف صحافتی خانوادے سے ہے۔ وہ جنوبی اور وسط ایشیا کو اسی طرح سمجھتے ہیں جیسے کوئی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو جانتا ہو۔ دہشت گردی کی لعنت ان کی خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں غوطہ زن ہو کر ایسی انفارمیشن نکالتے ہیں کہ عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے۔ گذشتہ سال کے وسط میں ڈھاکہ میں طبقہ امرا کی آماج گاہ ایک بیکری پر ٹیررسٹ اٹیک ہوا۔

آغا اقرار ہارون بنگلہ دیش میں اپنے صحافتی رابطوں کے ذریعے خبر لائے کہ اس حملہ میں ملوث انتہا پسند گروپوں کو بھارتی ریاست کیرالہ سے فنڈنگ کی جا رہی تھی۔ بنگلہ دیشی ذرائع کا دعویٰ تھا کہ انصار الاسلام اور جماعت المجاہدین نامی دو مقامی گروپ، ریاست کیرالہ میں برسرعمل انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انصار الاسلام نامی تنظیم القاعدہ اور جماعت المجاہدین کا رابطہ داعش کے لیے کام کرنے والے عناصر کے ساتھ تھا۔ بنگلہ دیش کے پرائم انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے ڈھاکہ پولیس کو باقاعدہ خط لکھا گیا۔ جس میں ان کو انتباہ کیا گیا کہ مذکورہ مقامی تنظیمیں، جنوبی بھارت کے شدت پسندوں سے فنڈنگ حاصل کر رہی ہیں۔ گلشن کے پوش علاقے میں دہشت گردی کے اس سانحہ میں 36 افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ اس حملے کے بعد ان تنظیموں نے دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کی۔ داعش کے بھارت رابطوں کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ 27 فروری کو بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کی ایک خبر کو پاکستانی نیوز ایجنسی ڈی این ڈی نے اٹھایا۔ اس سٹوری میں انکشاف کیا گیا کہ فروری میں امریکی ڈرون حملہ میں ہلاک ہونے والا سترہ سالہ حفیظ الدین دراصل بھارتی شہری اور کیرالہ کے ایک ضلع Kasaragod کا رہائشی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ننگرہار میں ہلاک ہونے والا یہ نوجوان داعش کیلئے کام کرتا ہے۔ اس نوعمر لڑکے کی ہلاکت کی اطلاع، اس کی والدہ کو گردونواح کے دوسرے نوجوان نے دی۔ جو داعش کیلئے کام کرتا ہے۔ اسی نیوز سٹوری میں انکشاف کیا گیا۔ ایک سال میں 47 بھارتی لڑاکے افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارتی سرکار نے ان خبروں کو میڈیا پر زیادہ اچھلنے نہیں دیا۔ اس سے پہلے ڈھاکہ میں بیکری پر داعش کے اٹیک میں بھارت کی سرزمین کے استعمال کی خبر کو بھی حسینہ واجد کے حکم پر دبا دیا گیا تھا۔

بھارت میں داعش کی موجودگی کی خبر کے تابوت میں آخری کیل کیرالہ ہی کے ایک رکن اسمبلی نے ٹھونکا۔ کیرالہ سے رکن اسمبلی کے ایم شاہ جی کا انٹرویو انڈو ایشین نیوز سروس نے شائع کیا۔ جس میں مسٹر شاہ جی نے انکشاف کیا کہ ان کو داعش کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے دس مرتبہ دھمکی آمیز فون کالیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام انفارمیشن متعلقہ حکام کے گوش گزار کر چکے۔ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایک اور ایم ایل اے سی میموتی نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا کہ داعش کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں۔ لیکن ان کی روک تھام کے لئے کوئی اتھارٹی تیار نہیں۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ریاست کیرالہ کے مارسسٹ چیف منسٹر، مقامی مسلم آبادی کی مدد سے اس عفریت کو کنٹرول کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت، داعش کی سرگرمیوں، تیزی سے پھیلتے لٹریچر کو روکنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کر رہی۔ اس کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ ان تینوں واقعات کے تجزیئے کو اپنے قارئین اور ذمہ دار حکومتوں پر چھوڑ کر آگے بڑھتا ہوں۔ کیونکہ کالم اختتام کی جانب گامزن ہے۔ بس ایک چھوٹی سی رپورٹ کا خلاصہ پڑھ لیجیے۔ بات سمجھ آ جائے گی۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگز کی ضخیم رپورٹ نقل کرنے کی گنجائش نہیں۔ تھنک ٹینک 15 ماہ کی تحقیق کے بعد دعویٰ کرتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کو بھارت سے خطرہ ہے، جو پاکستان میں سرجیکل حملوں کی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہے۔ تھنک ٹینک کا یہ بھی اعلان ہے کہ نئی دہلی کا ایٹمی پروگرام غیر محفوظ ہے۔ اس کے باوجود بھارت ہتھیاروں کے ڈھیر لگا کر پاکستان کو دبانا چاہتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی، امسال اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اس دورے میں بھارت، اسرائیل کے گٹھ جوڑ کی نئی جہتیں سامنے آئیں گی۔ بھارت، اسرائیل، دہشت گردی اور داعش ایک ہی کمان میں چڑھے کئی زہریلے تیر ہیں۔ جن کا رخ پاکستان کی جانب ہے۔

(بہ شکریہ: روزنامہ "نئی بات")

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے