’’اسلام‘‘ اور ’’مسلم‘‘ کی اصطلاحیں زیادہ تر ان انتہا پسند گروپوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جن کے جرائم نے اب دین اور مسلم عوام کی شہرت کو داغ دار کردیا ہے۔

جب میں نے اگلے روز دو ’’اسلام‘‘ کے دو تصورات کے بارے میں لکھا تو اس کا مقصد اعتدال پسندوں اور انتہاپسندوں کے درمیان فرق کو واضح کرنا تھا۔میں نہ صرف اسلام کی اصطلاح کو درست کرنا چاہتا تھا بلکہ اس تشخص کو بھی درست کرنا چاہتا تھا جو غیرمنصفانہ امتیاز اور عمومیت کی وجہ سے آلودہ ہوچکا ہے۔ میں خود کو اس پروپیگنڈے میں نہیں الجھانا چاہتا جو مختلف حکومتیں اور غلط کار گروپ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر اپنی غلط کاریوں کے جواز کے طور پر کررہے ہیں۔ دراصل ان کے ’’ریڈیکل اسلام‘‘ کا ہمارے اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں۔

پہلے بنیاد پرستانہ مذہبی تصورات کی بنیاد پر ایرانی رجیم اور مغرب کے درمیان سیاسی محاذ آرائی پیدا ہوئی تھی۔پھر القاعدہ ،داعش اور دوسرے گروپوں نے ایرانیوں کی تقلید کی اور انھوں نے پُرامن بقائے باہمی کے بجائے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو مسترد کرنے اور ان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مغرب یا جدید ایشوز کا مطلب ان کے مقدس ماضی پر حملہ آور ہونا ہے۔

نظریاتی تطہیر کا عمل ایرانی زندگی کے ہر پہلو میں بروئے کار آیا ہے اور اس نے سرحدیں پار کرکے دوسرے ممالک میں دراندازی کی ہے۔ چین میں ماؤ کے کلچرل انقلاب کی طرح ایران کے اسلامی انقلاب نے ثقافتی انتہا پسندی کے منصوبے کا آغاز کیا اور اس نے مغرب میں اسلامی معاشروں اور مسلم کمیونٹیوں میں دراندازی کی۔اس منصوبے کی بنیاد پر اسلامی تحریکیں قائم ہوئیں اور انھوں نے ایرانی انتہا پسندی کی تقلید کرنے کی کوشش کی۔

ثقافتی انتہا پسندی کا منصوبہ

ان گروپوں نے تطہیر کی کارروائیاں کی ہیں ،تعزیری تلوار کو بلند کیا ہے اور اعتدال پسند مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا ہے۔وہ اعتدال پسندوں کو دین کے دشمن خیال کرتے ہیں۔ان گروپوں نے ان حکومتوں کے خلاف بھی لڑائیاں لڑی ہیں جو ان کی راہ میں حائل ہوئی تھیں۔ان سب کا مقصد محض یہ تھا کہ وہ اپنے نظریاتی اور مداخلتی منصوبوں کو آگے بڑھا سکیں۔ مسلمانوں کی اکثریت کو ان انتہا پسندوں سے بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔بدقسمتی سے حکومتوں نے انتہا پسندی کے خلاف اسی وقت کوئی کارروائی کی ہے جب انھوں نے یہ دیکھا کہ وہ تو ان کے وجود کے لیے ہی خطرہ بنتی چلی جارہی ہے۔ آج اسلام میں انتہا پسند مکاتب فکر موجود ہیں جو جنگ اور تنازعے کو ہوا دے رہے ہیں۔ یقینی طور پر ایسے انتہا پسند مسلمان موجود ہیں جو دنیا کے لیے خطرناک ہیں۔ جو لوگ ان حقائق سے انکاری ہیں،وہ یا تو خود سر ہیں یا پھر لاعلم ہیں۔

جب مغرب میں ’’ ریڈیکل اسلام‘‘ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو اس سے ان کی مراد تہران ایسا رجیم ہوتا ہے۔جب وہ دہشت گرد اسلام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد داعش ،صومالیہ میں مسلم الشباب تحریک اور لیبیا میں ’’ انصارالشریعہ ‘‘ ایسے انتہا پسند گروہ ہوتے ہیں۔ یہ تمام دہشت گرد گروپ ہیں اور اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اسلام انتہا پسند ہے یا عمومی طور پر ریڈیکل ہے۔

مجھے اعتراف ہے کہ مذکورہ بالا تناظر میں ریڈیکل ازم اور انتہا پسندی شاید درست ہوں لیکن میں ایسی اصطلاحیں استعمال کرنے، ان کے موازنے اور عمومیت سے گریز کرتا ہوں جس سے مسلمانوں کی اکثریت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔حالانکہ ان کا ان تنظیموں سے کچھ تعلق نہیں اور انھوں نے تکفیری نظریے کو کبھی قبول نہیں کیا ہے۔

ہم بہ الفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ انھیں عمومیت کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔یہ تمام مسلمانوں سے ناانصافی ہوگی۔اس بات کا ہم پربھی اطلاق ہوتا ہے۔ہمیں ان تمام نظریات کا دفاع نہیں کرنا چاہیے جو اسلامی تنظیموں کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے دوسروں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔

ہم ایران میں ولی الفقیہ اسلام اور شام کے شہر الرقہ میں ابوبکر البغدادی کے اسلام کا دفاع نہیں کریں گے۔ انھوں نے ڈنمارک کے جریدے میں توہین آمیز خاکوں یا فرانس کے طنزیہ جریدے میں خاکوں کی اشاعت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ مسلمانوں کو سڑکوں پر نکالنا چاہتے تھے جبکہ دنیا میں کسی دین کے ماننے یا نہ ماننے والے دونوں کے لیے کافی جگہ موجود ہے۔

مسلمانوں کو دوسرے مذاہب اور ان کے پیروکار کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنے پر یقین رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ڈیڑھ ارب افراد دنیا بھر میں بدھ مت چین سے لے کر کیتھو لک برازیل تک مل جل کر رہ رہے ہیں۔اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگوں اور بھوک سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت دنیا میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔انھیں پناہ ،عطیات اور انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

اس تمام گفتگو کا ماحصل آخری اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم ان نظریاتی اور تنظیمی مسائل کا شکار ہیں مگر ان کو عمومی طور پر مسترد کرتے ہیں اور تسلیم نہیں کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں پر امن طور پر دوسری اقوام کے ساتھ رہن سہن کی ثقافت اور مواد کو اپنے نصاب کا حصہ بنانا چاہیے اور اس کو تمام تعلیمی درجات میں پڑھایا جانا چاہیے۔ اگر حکومتیں باہمی رہن سہن کو تعلیمی نظام کا حصہ بنا دیتی ہیں تو پھر انتہاپسندوں کو ہمارے درمیان میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے