امریکی ریاست الینوائس کی اسمبلی نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی قرارداد 29 جون 2009ء کو منظور کی۔ اس قرار داد کا متن امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو ارسال کیا گیا۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا تھا کہ ’افغانستان میں جنگ اور امریکی فوج کی اس میں شمولیت نائن الیون کے واقعہ کے بعد ضروری تھی، امریکی فوجیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین اور تاریخی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، امریکا نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام میں مدد دی، امریکی عوام نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ یہ جنگ بہت طول پکڑ چکی ہے، کئی امریکی فوجیوں نے افغانستان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور بہت سے زخمی ہوئے۔

کانگریس نے اس جنگ اور افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے، صرف ریاست الینوائس کے شہریوں کا حصہ دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، لہٰذا ریاست کی اسمبلی کے چھیانویں اجلاس میں یہ قرار داد منظور کی جاتی ہے کہ ریاست الینوائس کے شہریوں کی طرف سے سینٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ امریکا کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی عسکری موجودگی کو وسعت دے، افغانستان میں امریکہ کی بنیادی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ افغانستان کی سیاسی قیادت کو ملک میں تشدد کے خاتمے کے لیے سیاسی فیصلوں کا موقع دیں،اس قرار داد کی نقول صدر باراک اوباما، الینوائس کانگریشنل ڈیلیگیشن کے ارکان، امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر، امریکی ایوان نمائندگان کی حزب اختلاف کے سربراہ، امریکی سینٹ کے چیئر مین اور حزب اختلاف کے سربراہ کو فراہم کی جائیں۔

اس کے بر عکس 16 نومبر 2009 ء کو ایک طرف امریکی حکام اصرار کر رہے تھے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ دفاعی نوعیت کا ہے اور دوسری طرف اقرار کر رہے تھے کہ’’ مزید فوج افغانستان بھیجنے سے بجٹ پر پڑنے والا ممکنہ بوجھ فوجیوں کی تعداد کو کم سے کم رکھنے پر مجبور کر رہا ہے‘‘۔ نیویارک ٹائمز بتا رہا تھا کہ’’مزید 40 ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے اور افغانستان کی سکیورٹی فورس میں قابل ذکر اضافے سے جیسا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل سٹینلے کرسٹل نے تجویز کیا ہے ، امریکی فوج کو 40 ارب ڈالر سے 54 ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔ اگر امریکا 40 ہزار سے کم فوجی افغانستان بھیجتا ہے یا ان کے مشن میں کوئی تبدیلی کرتا ہے تب بھی وائٹ ہاؤس نے جو فارمولا بنایا ہے اس کے تحت ایک فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے، اس صورت میں امریکا کے مجموعی دفاعی بجٹ کا حجم 734 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جو کہ بش انتظامیہ کے دور میں 676 ارب ڈالر کے زیادہ سے زیادہ دفاعی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے‘۔ یہ سب کچھ ان دنوں ہورہا تھا جب امریکی معیشت کمزور تھی اور صدر اوباما ایک مہنگا صحت عامہ کا منصوبہ منظور کروانے کی کوشش میں تھے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر صدر اجلاسوں میں زور دیتے رہے تھے کہ جو بھی دفاعی حل تجویز کیاجائے اس میں افغانستان سے جلد انخلاء کی حکمت عملی بھی شامل ہونی چاہئے۔ ادھر افغانستان میں ممکنہ طور پر مقرر ہونے والے نئے فوجیوں کی مختصر وقت کیلئے تعیناتی کے حامی حکام کے صدر اوباما اور اہم ترین مشیروں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں میں یہ دلیل پیش کی گئی تھی کہ ’’ امریکا کو افغانستان میں صرف اس قدر فوجیں رکھنی چاہئیں جو القاعدہ کو صرف پاکستانی پہاڑی علاقوں تک محدود کر سکیں‘‘۔

اس دلیل کے حامی ایک عہدیدار نے کہا، ’’آپ دلیل دے سکتے ہیں کہ اگر موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو ہمیں اس بات کا امکان نظر نہیں آتا کہ افغانستان سے القاعدہ کی واپسی ہو گی، لہٰذا اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود ہمارے مرکزی ہدف پر کوئی دباؤ نہیں پڑے گا‘‘۔ اس دور کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن سمیت ہر وہ شخص جو افغانستان میں امریکا کی بھر پورفوجی موجودگی کا خواہاں ہے، یہ کہتا کہ ’ اگرچہ فی الوقت افغانستان، القاعدہ کی پناہ گاہ نہیں رہا لیکن طالبان کی مزید پیش قدمی کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے‘۔ 19نومبر 2009 ء کو سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک نے کہا کہ’ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطلب خطے کو طالبان اور القاعدہ کے حوالے کرنا ہو گا، جس سے پاکستان کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، ہم نے افغانستان میں ایک لاکھ ا فواج تعینات کر رکھی ہیں اور ہم سادگی کے ساتھ اس پالیسی کو ریورس نہیں کر سکتے، ہمارے انخلاء سے نہ صرف افغانستان متاثر ہو گا بلکہ حکومت پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی‘۔

حقیقت یہ ہے کہ اگست 2009ء ہی میں امریکا افغانستان میں طویل عرصہ تک رہنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ اس منصوبہ کے تحت امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس امریکی سنٹرل کمانڈ میں نئی انٹیلی جنس تنظیم قائم کر رہے تھے جو پاکستان اور افغانستان کے فوجی افسروں، خفیہ ایجنٹس اور تجزیہ کاروں کو خصوصی طور پر تربیت دے گی۔ پاکستان اور افغانستان کے لئے یہ اسائنمنٹس 10 سال کے لئے ہوں گی۔ ایسے لوگوں کی تربیت کی جائے گی جو کم از کم 5 سال تک ان امور پر کام کرنے پر رضا مند ہوں گے۔ واشنگٹن ٹائمز نے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ یہ خفیہ ادارہ ’’سنٹر فار افغانستان پاکستان ایکسی لینس‘‘ کے نام سے قائم کیا جاچکا ہے، اس کے سربراہ دفاعی خفیہ ایجنسی کے ریٹائرڈ کرنل ڈیرک ہاروے ہوں گے۔ کرنل ڈیرک ہاروے 2007-08ء میں عراق کی جنگ میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں جنرل پیٹریاس کے سب سے زیادہ قابل اعتماد تجزیہ کاروں میں شامل تھے۔ ایک انٹرویو میں ہاروے نے کہا تھا کہ ’یہ سنٹر کچھ ایسے اسباق کے نتائج کو سامنے رکھ کر بنایا جائے گا جو انہوں نے اور ملٹری نے عراق میں نہ صرف بغاوت اور سرکشی کے دوران سیکھے بلکہ اس میں کچھ خفیہ تجزیات کو بھی سامنے رکھا جائے گا،سنٹر سی آئی اے، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی، آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس، ناٹو ایساف اور یورپ میں اتحادی طاقتوں کے سپریم ہیڈ کوارٹر کی معاونت میں کام کرے گا‘۔

یہ سب کچھ کرچکنے اورطول طویل بحث و تمحیص کے بعد آخر 2 دسمبر 2009ء کو امریکی صدر باراک حسین اوباما نے افغانستان میں مزید 34 ہزار امریکی فوجی بھیجنے کی منظوری دی تھی ۔ قوم سے خطاب میں افغانستان پر نئی امریکی حکمت عملی کے اعلان سے قبل امریکی صدر نے اعلیٰ عہدیداروں، کمانڈروں اور اتحادیوں کو آگاہ کیا اور برطانیہ، روس، بھارت ، افغانستان اور فرانس کے رہنماؤں کو ٹیلی فون کیا اور اعلان کے حوالے سے اعتمادمیں لیا۔ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم نے اوباما سے گفتگو کے بعد پارلیمنٹ کو بتایا کہ’ نئی حکمت عملی کا مقصد طالبان کو کمزور اور افغانستان کو مضبوط کرنا ہے، مجوزہ منصوبے کے تحت افغان فوج کی تعداد 90 ہزار سے بڑھا کر 1,34000 (ایک لاکھ چونتیس ہزار) کی جائے گی۔ قبل ازیں امریکی صدر نے افغان صدر سے ویڈیو کانفرنس کی۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا کہ’’ صدر باراک اوباما نے اپنے اعلیٰ عہدے داروں اور کمانڈروں کو افغانستان کے لیے اپنی حکمت عملی سے آگاہ کر دیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے احکامات جاری کر دیئے ہیں‘‘۔ ویسٹ پوائنٹ میں تقریر سے قبل امریکی حکام اور سفارتکاروں کو بریفنگ کے مطابق ’’نئی فوج روانہ ہونے کے بعد افغانستان میں امریکی فوج ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی‘‘۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ’حکام کے مطابق اوباما نیٹو اتحادیوں کو بھی 5 ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کیلئے کہیں گے‘۔ توقع ظاہر کی گئی کہ’ امکان ہے کہ افغانستان میں فوجی اقدامات کے ساتھ سیاسی محاذ پر پیشرفت بھی اہمیت کی حامل ہو گی‘۔

مذکورہ مہینے میں امریکہ کے فوجی ہسپتال ڈرامائی انداز میں افغانستان سے واپس آنے والے زخمی اور کٹے ہوئے اعضاء والے فوجیوں سے بھر چکے تھے۔ صرف اگست، ستمبر اکتوبر2009ء میں ایک ہزار کے قریب زخمی امریکی فوجی افغانستان سے واپس آئے۔ بتایا گیا کہ’ یہ تعداد 2001ء سے اب تک زخمی ہو نے والے امریکی فوجیوں کی ایک تہائی کے برابر ہے’ ۔ اس دور کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے افغان جنگ میں زخمی فوجیوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ’ سڑک کنارے پھٹنے والے بموں سے بچا جائے‘۔ واضح رہے کہ تب افغانستان میں 68 ہزار امریکی فوجی تھے اور ہر ماہ 350 کے قریب فوجی زخمی ہو رہے تھے۔ یاد رہے یہ وہ دور تھا جب فرانس کے وزیر خارجہ برنرڈ کاؤچنر اعتراف شکست ان الفاظ میں کر رہے تھے کہ’ افغانستان میں نیٹو پالیسی ناکام ہو گئی ہے اور وہاں ہمارے فوجی ہلاک ہو رہے ہیں، امریکا اور جرمنی نیٹو کی پالیسی پر تعاون نہیں کرتے اور صدر اوباما افغانستان میں نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بھی نیٹو سے مشورہ نہیں کیا جا رہا۔ اس صورت حال میں اقوام متحدہ نے افغانستان سے اپنے غیر ملکی سٹاف کو عارضی طور پر واپس بلانے کا بھی اعلان کردیا تھا۔ کابل میں اقوام متحدہ کے ترجمان ڈان میکنورٹن نے انٹر ویو میں بتایا تھاکہ ’اس وقت افغانستان میں تعینات اقوام متحدہ کے گیارہ سو میں سے 600 غیر ملکی کارکنوں کو عارضی طور پر افغان سے باہر منتقل کیا جائے گا، اس فیصلہ کی وجہ گزشتہ ہفتے کا بل میں اقوام متحدہ کے زیر استعمال گیسٹ ہاؤس پر طالبان کے حملے میں غیر ملکی کارکنوں کی ہلاکت ہے‘۔

عالم یہ تھا کہ اکتوبر 2009 ء میں افغانستان میں طالبان سے لڑنے والے امریکی فوجی احساس شکست کے باعث چند برسوں میں نفسیاتی مریض بن چکے تھے۔ میدان جنگ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں موجود امریکی فوجی خوف، نااُمیدی ، تھکاوٹ، بے خوابی اور واہموں کا شکار تھے۔ امریکی فوجیوں کی بہت بڑی تعداد باہر نکلنے سے بھی خوف زدہ تھی، تلخ کلامی اور ایک دوسرے کے ساتھ اشتعال انگیز جملوں کا تبادلہ ان کا معمول بن چکا تھا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ جس طرح بن پڑے جنگ کو روکا جائے۔ جس فوجی سے بات کی جاتی ، یہی کہتا کہ ’ علاقے میں طالبان کہیں نہیں لیکن ہر دس منٹ بعد ایک گولی چلنے کی آواز آنے لگتی ہے‘۔ طالبان کے ساتھ 9 مہینے تک محاذ جنگ پر امریکی فوجیوں کے دو پادریوں نے کابل کے نواح میں بنائے گئے عارضی گرجا گھر میں برطانوی اخبار ٹائمز کو بتایا کہ’متعدد ساتھیوں کی ہلاکتوں کے بعد کئی فوجی اپنی زندگی بھی خطرے میں سمجھنے لگے، وہ افغان مشن کو خونیں مشن قرار دیتے ہیں جہاں مقامی آبادی ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتی‘۔ بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے