متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نھیان نے حال ہی میں بچوں کے ایک ٹی وی شو "سیسمی سٹریٹ" میں شرکت کی جہاں انہوں نے بچوں کو کہانی پڑھ کر سنائی۔ عزت مآب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس پروگرام میں شرکت کی دعوت متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے سعادت عھود بنت خلفان الرومی نے دی تھی۔ یہ کاوش خلیجی ملکوں کے اس سیاسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مطالعہ کے شوق کی حوصلہ افزائی کرنا مقصود ہے۔

اسی اثناء میں ایک ویڈیو کلپ پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بچوں میں مطالعہ کی عادت کے فروغ سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ شاہ سلمان اپنے بچوں کو ہر ہفتے ایک کتاب دیتے ہوئے اس کے مطالعہ کی ہدایت کرتے۔ مطالعہ کے بعد ان کی اپنے بچوں کو ہدایت تھی کہ وہ کتاب سے اخذ کردہ سبق دوسروں تک پہنچائیں۔ شاہ سلمان کی لائبریری کا شمار دنیا کے بڑے کتب خانوں میں ہوتا ہے۔

مطالعہ کے ذریعے ہی انسان سائنسی اور عملی مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے۔ مطالعہ کا شوق انسان کے اندر بہتری پیدا کرتا ہے۔ اس سے ذہنی آبیاری سمیت انسانی کردار کی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے اپنے بچوں کے اندر اوائل عمری میں ہی کتب بینی کا شوق پیدا کیا۔ بہت سے مغربی اور ایشائی ملک اس کی روشن مثال ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب اور ٹییلٹس کے ظہور سے مطالعہ کا شوق ختم نہیں ہوا۔ ورقی کتب آج بھی بچوں اور بڑوں کے بہترین دوست ہیں۔
____________________________
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے