جاپان کے پہلے وزیر تعلیم آری نوری موری نے 1885ء میں کہا تھا:’’جاپان میں تعلیم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ایسے لوگ تیار کیے جائیں جو فنون اور سائنسز کی تیکنیکوں سے بہرہ ور ہوں بلکہ اس کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ریاست کو درکار ہوں‘‘۔

یہ بیان دراصل اس اصول کا مظہر ہے جس پر مغربی عناصر اور اجزا کے حامل بہت سے ایشیائی ممالک جیسے جنوبی کوریا ، جاپان اور سنگاپور میں تعلیم استوار ہے۔ان تمام ممالک کے مغربی ثقافت کے ساتھ تاریخی تعلقات وروابط استوار ہیں۔

جاپانی لکھاری کینزابرو اوی نے جاپان کے ارتقاء کا دلچسپ پیرائے میں ذکر کیا ہے:’’ ہم مغربی ثقافت میں گردن تک ڈوبے ہوئے ہیں لیکن ہم نے ایک چھوٹا بیج بویا تھا اور جس طرح بیج کی جڑیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور وہ پھلتا پھولتا ہے تو ہم نے بھی اپنے آپ کی ازسرنو تخلیق کی ہے‘‘۔

جاپان کی تہذیبی کامیابیوں کے ممکن ہے کہ کچھ مغربی پہلو ہوں لیکن اس کی جڑیں جاپانی ہیں اور یہ سب کچھ اس ملک کی اختیار کردہ حکمت عملی کی بدولت ہے۔اس تہذیب نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے متاثر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔تعلیم اور اس کی ترقی نے ثقافتی نشاۃ ثانیہ میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

عرب ممالک میں روایتی تعلیم کے آغاز کو ایک صدی ہونے کو آئی ہے لیکن ان ممالک میں تعلیمی تجربے کا دوسرے ممالک سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ممالک اپنے یہاں تعلیم اور تعلیمی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

رٹا پڑھائی

عرب ممالک میں جامعات اور اسکولوں میں ابھی تک کتابی حکمت عملی کا چلن جاری ہے۔انھوں نے ابھی تک رٹا پڑھائی کی اپروچ کو جاری وساری رکھا ہوا ہے۔وہ بچوں میں معلومات کو ٹھونستے ہیں اور طلبہ کو خود کو دریافت کرنا نہیں سکھاتے ہیں۔

عرب ممالک کے تعلیمی نصاب میں سوالات اور ان کے جوابات کی تیاری کو بالادستی حاصل ہے۔دانشورانہ آلے اور فلسفیانہ فارمولے تعلیمی اساسیات کا حصہ نہیں ہیں۔ جاپان نے اپنے تعلیمی تجربے کا عرب دنیا سے بہت بعد میں آغاز کیا تھا لیکن اس نے ہمیں تعلیمی میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ ہمارا اور اس کا کوئی مقابلہ وموازنہ ہی نہیں ہے۔

امریکی مصنف پیٹرک اسمتھ (1927-2014ء) نے اپنی کتاب ’’ جاپان ، ایک نئی تفہیم‘‘ میں جاپانی اسکولوں میں اپنے تجربات اور مشاہدات بیان کیے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:’’میں جس اسکول میں بھی گیا،وہاں سیکھنے کے لبرل اصول پر ہی عمل کیا جارہا تھا۔منامی مڈل اسکول چلانے والے توشیو عجیما کا کہنا ہے کہ ’’ سچائی فقط سائنسی حقیقت نہیں ہے۔اس کا مشاہدہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی روزمرہ کی زندگی میں سچائی تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ طلبہ فطرت میں مسائل تلاش کریں اور انھیں حل کریں‘‘۔پچاس کے پیٹے میں ایک خوش باش جاپانی یو حسونو نے مجھے اسکائی ایلیمینٹری اسکول میں بتایا کہ ’’ میری ذمے داری طلبہ کو ایسے بالغ افراد میں ڈھالنا ہے جو قوم کی مدد کرسکیں۔میرا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر کوئی شخص کوئی نہ کوئی کردار ادا کرسکتا ہے‘‘۔

ایشیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم کردار سازی پر مبنی ہے۔ان میں سب سے پہلے نمبر پر جاپان ہے جس نے دوسری عالمی جنگ میں عبرت ناک شکست اور تباہ کاریوں پر بڑی کامیابی سے قابو پا لیا ہے۔اس نے امریکا ایسی جن اقوام سے شکست کھائی تھی،ان ہی سے تعامل کیا اور پھر پورے قد کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔اس نے تعلیم کو اپنے ورثے سے ہم آہنگ کیا اور اس کا نتیجہ جاپانیوں کی بہت زیادہ آمدن کی صورت میں برآمد ہوا تھا۔

انسانی ترقی کا اشاریہ

جاپان میں انسانی ترقی کا اشاریہ بہت بلند ہے۔وہاں اقتصادی نشاۃ ثانیہ ہوئی ہے۔سماجی بہبود اور سیاسی نظم ونسق ہے کیونکہ معاشرے کو نسلی بنیاد پر تشکیل نہیں دیا گیا ہے حالانکہ جاپان میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔چینی ،کوریائی اور دوسری نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہ رہے ہیں۔جاپان کی تمام تر ترقی کا صرف ایک لفظ میں احاطہ کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے تعلیم۔

جاپان میں تعلیم کی کامیابی کا راز تین نکات میں پنہاں ہے۔ایک تعلیم کا مقصد کردار کی تعمیرہے۔ دوم تعمیری شعبوں میں تعلیم وتخلیق اور سوم شراکت داری کے ذریعے تعلیم ،جس کے تحت طالب علم سیکھتے بھی ہیں اور ایک دوسرے کو سکھاتے بھی ہیں۔مزید یہ کہ طالب علم اور استاد کے درمیان بہت ہی کم فاصلہ ہوتا ہے۔

کنڈر گارٹنز میں ایلیمنٹری تعلیم سے قبل نوّے فی صد سے زیادہ جاپانی بچے جاتے ہیں۔وہاں انھیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ ایک عظیم قوم کی کیسے خدمت کرنا ہے۔ان کا نعرہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کے ذریعے بحرانوں پر کیسے قابو پاسکتے ہیں۔جاپان نے اقتصادی بحرانوں پر قابو پایا ہے۔اس نے زلزلوں کے خطرات کو قابو میں کیا ہے جبکہ وہ ارضیاتی وجوہ کی بنا پر مسلسل زلزلوں کی زد میں ہے۔سائنس اور تعلیم ان چیلنجز کے مقابلے میں سب سے نمایاں ہتھیار ہے۔

1955ء میں فرانسیسی ماہر ارضیات کلاڈے لیوی اسٹراس (1908-2009ء) نے ثقافتوں کے درمیان تعلق کے حوالے لکھا تھا۔وہ کہتے ہیں:’’ ایک کلچر کا دوسرے سے جتنا زیادہ ابلاغ کم ہوگا،اتنے ہی ان میں ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے اور ایک دوسرے کو آلودہ کرنے کے امکانات کم ہوں گے۔ دوسری جانب دوسری ثقافتوں کے تنوع اور خوبیوں کو دریافت کرنے کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔یہ ایک ایسا قضیہ ہے جس کا کوئی حل نہیں ہے‘‘۔

جاپان ایک ایسی قوم ہے جس نے سیکھا اور سکھایا ہے اور وہ یہ کہ آگے کیسے بڑھا جاتا ہے۔

-----------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے