ترکی میں بھی بُرا ہوا۔ پارلیمان میں نہ صرف ہاتھا پائی ہوئی بلکہ ایک رکن نے اپنے مخالف کو دانتوں سے کاٹا۔ ایک نے پودے کا گملا دے مارا۔ کسی نے ایوان کا مائیکروفون نکال لیا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسئلہ کیا تھا؟ ترکی کا آئین تبدیل کیا جا رہا تھا۔ یہ نیا آئین ترک صدر رجب طیب اردوان کے اختیارات میں اضافہ کر دے گا۔ اسی آئین کے مسودے پر اپریل کی سولہ تاریخ کو ایک بھاری ریفرنڈم ہونا ہے۔ ایسی رائے شماری جس کے رائے دہندگان صرف ترکی ہی میں نہیں، پورے یورپ میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ مگر یہ کام اتنا سیدھا سادہ نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ خود ملک کے اندر اس کی جیسی حمایت ہورہی ہے، مخالفت کا محاذ بھی اتنا ہی سرگرم ہے۔

دوسرا غضب یہ ہوا ہے کہ چونکہ پورے یورپ میں پھیلے ہوئے ترک باشندے بھی ووٹ ڈالیں گے، وہ وہاں اپنے جلسے جلوس کرنا چاہتے ہیں۔اب مشکل یہ ہے کہ اُن یورپی ملکوں کی حکومتوں کو یہ جلسے جلوس منظور نہیں۔ ترکی کے اندر اردوان کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نئے آئین کو بھاری حمایت حاصل ہے کیونکہ اس سے ملک کا وہ آئین جدید ہو جائے گا جو 1980ء کی بغاوت کے بعد فوج نے اپنی من مانی کرکے بنایا اور نافذ کیا تھا۔ اس نئے دستور کے تحت ترکی کی پارلیمانی جمہوریہ صدارتی نظام میں تبدیل ہو جائے گی۔ ملک میں وزیر اعظم کا کوئی کردار نہیں رہے گا۔ اس کی جگہ نائب صدر کا نیا عہدہ قائم ہو گا۔ نئے نظام میں ملک کا صدر ہی عاملہ کا سربراہ ہو گا، وہی مملکت کا سربراہ بھی ہو گا اور اس کی سیاسی جماعت سے وابستگی بھی برقرار رہے گی۔

نئے آئین میں صدر کو بھاری اختیارات حاصل ہوں گے، وہی وزیر مقرر کرے گا، ملک کا بجٹ تیار کرے گا، اعلیٰ ججوں کی بڑی تعداد کو وہی منتخب کرے گا اور بعض قوانین وہ فرمان جاری کر کے نافذ کرسکے گا۔ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے یا پارلیمان کو برطرف کرنے کا اختیار صرف اسی کو حاصل ہوگا۔ پارلیمان کا وہ اختیار ختم ہو جائے گا جس کے ذریعے وہ وزیروں کا احتساب کر سکتی ہے، البتہ اپنے ارکان کی اکثریت کے ذریعے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر سکے گی یا اس کے خلاف تفتیش کا حکم دے سکے گی۔ مگر اس کے لئے دو تہائی کی اکثریت درکار ہوگی۔ ملک کی پارلیمان میں ارکان کی تعداد پانچ سو پچاس سے بڑھا کر چھ سو کر دی جائے گی۔ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہر پانچویں سال ایک ہی دن ہوا کریں گے۔ صدر صرف دو بار منتخب ہو سکے گا۔ موجودہ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے فیصلہ سازی تیزی سے ہوسکے گی اور ماضی میں بھانت بھانت کے پارلیمانی اتحاد بنا بنا کر جو پیچیدگیاں کھڑی کی جاتی تھیں، ان سے نجات ملے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام ملک کی ترقی کو روک رہا ہے۔ اس نے یہاں تک کہا ہے کہ اس تبدیلی سے انتہا پسندوں کے وہ حملے بھی بند ہو جائیں گے جن میں پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران پانچ سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

صدر اردوان کے مخالف پہلے ہی شور مچارہے ہیں کہ یہ سب مطلق العنان بننے کے طور طریقے ہیںجہاں پہلے ہی من مانیوں کا یہ عالم ہے کہ پچھلے سال کی ناکام فوجی بغاوت کے بعدسے ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب افراد جیلوں میں پڑے ہیں یا نوکریوں سے نکالے گئے ہیں یا معطل کئے جا چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آئین بدلنے سے ملک کے دو ہزار قوانین بھی بدلے جائیں گے، یہ کام کیونکر ہوگا، اس کی وضاحت ہونی باقی ہے۔ اب ملک میں ریفرنڈم ہونا ہے۔ اس کی کامیابی کے لئے انتہائی دائیں بازو والوں کی حمایت درکار ہوگی۔ ان کے رہنما اب تک ان تبدیلیوں کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن ایک عام خیال ہے کہ ان رہنماؤں کو بڑے بڑے منصب دے کر منا لیا جائے گا۔ اب جو کچھ بھی ہوگا، وہ طیب اردوان ہی کی کوششوں سے ہوگا۔ ایک جانب وہ ہر دلعزیز ہیں اور دوسری طرف ان کی مخالفت بھی شدید ہے۔مقابلہ ہوگا ضرور لیکن کتنا سخت ہوگا، یہ کہنا مشکل ہے۔

اسی دوران ایک نیا بحران اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یورپ کے بعض ملکوں، خصوصاً ہالینڈ کے ساتھ ترکی کی زبانی جنگ چھڑ گئی ہے۔ ان ملکوں میں کوئی پچپن لاکھ ترک باشندے آباد ہیں اور صرف ہالینڈ میں ان کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہے۔یہ لوگ ترک ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے حق دار ہیں۔ ترک حکومت چاہتی ہے کہ اس کے رہنما ان ملکوںمیں جاکر ترک باشندوں کے بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کریں اور ووٹروں کو اپنا ہم خیال بنائیں۔ ہالینڈ نے نہ صرف اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا بلکہ ترک وزیروں کو اپنے ہاں داخلے سے روک دیا۔ اس نے جلسوں پر بھی پابندی لگ ادی اور کہا کہ اس سے امن عامہ اور سلامتی، دونوں خطرے میں پڑ جائیں گے۔ادھر پوری یورپی یونین ترک ریفرنڈم پر پریشان ہے اور سارے اختیارات ایک شخص کو سونپ دینے کے حق میں نہیں۔

تازہ واردات اس وقت ہوئی جب صدر اردوان نے ہالینڈ پر الزام لگایا کہ سنہ پچانوے کے دوران بوسنیا میں مسلمان مردوں کے قتل عام میں اس کا ہاتھ تھا۔ ہوا یہ تھا کہ بوسنیا میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی اور نہتّے مسلمان بے بسی کے عالم میں تھے۔ ان کی حفاظت کے لئے اقوام متحدہ نے ہالینڈ کی امن فوج وہاں بھیجی جو مسلمانو ں کو بچانے میں ناکام ہو گئی۔ اسے یاد کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اس سے ہالینڈ کے اخلاقی دیوالیہ پن کا اظہار ہوتا ہے۔ ترک حکومت نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ سب نازی ہتھکنڈے ہیں، ہالینڈ کے سفیر کو انقرہ یعنی اپنے سفارت خانے جانے سے روک دیا اور ان کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مراسم معطل کر دئیے۔ ان جذبات میں شدت آنے کا خطرہ نظر آتا ہے جب کہ خود ہالینڈ کے اپنے عام انتخابات سر پر ہیں اور وہ عناصر کامیابی کے لئے زور لگا رہے ہیں جو شامی اور عراقی پناہ گزینوں کی آمد کے مخالف ہیں اور سچ پوچھئے تو اس مخالفت کی آنچ دین دھرم تک جاتی ہے۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے