بڑے عرصے کے بعد گزشتہ روز اسلام آباد میں بروئے کار ’’پاکستان ہلالِ احمر‘‘ کے مرکزی دفتر پہنچا تو سیکیورٹی کے جدید انتظامات، محافظوں، باڑوں اور آہنی رکاوٹوں میں گِھری اس پُر شکوہ عمارت کو دیکھ کر حیرت ہُوئی۔ بازو کا ایک سیاہ آہنی گیٹ تو مستقل بند کیا جا چکا ہے۔ سیلابوں، زلزلوں اور دیگر ارضی و سماوی آفات کے متاثرین کی دستگیری کرنے والے پاکستان کے اس شاندار اور قدیم ادارے کے سربراہ ڈاکٹر سعید الٰہی اِسی دفتر میں بیٹھتے ہیں۔ اُن کے چیئرمین بننے سے قبل بھی عمارت مذکور میں کئی بار آچکا ہُوں لیکن اُن گزرے ایام میں سیکیورٹی،چیکنگ اور پُرسش کی ایسی صورتحال نہیں ہُوا کرتی تھی۔ اُن دنوں شایدوطنِ عزیز میں دہشتگردوں اور خودکش حملہ آوروں نے اتنی قیامت بھی برپا نہیں کی تھی۔ ہلالِ احمر پاکستان کی بنیادیں قائد اعظم محمد علی جناح اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے رکھی تھیں۔

یہ انسانیت نواز ادارہ ہمیں اس لیے بھی عزیز اور محبوب ہونا چاہیے۔ڈاکٹر سعید الٰہی صاحب کی کرسی کے عقب میں لکڑی کی بنی ایک بڑی سی تختی پر اُن لوگوں کے اسمائے گرامی لکھے نظر آتے ہیں جو ’’پاکستان ہلالِ احمر‘‘ کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کی تعداد چودہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا نام پندرھواں ہے۔ ان سابقہ سربراہوں میں کچھ جج بھی رہے اورکچھ جنرل بھی۔ کچھ سیاستدان بھی تھے اور کچھ دانشور حضرات بھی۔ ان پندرہ معزز افراد میں تین خواتین بھی رہی ہیں۔ محترمہ نصرت بھٹو، محترمہ نیلوفر بختیار اور محترمہ شیری رحمٰن ۔مَیں نے سوچا، وطن ِ عزیز میں ہماری خواتین کی جتنی آبادی ہے، کیا اُس تناسب سے سامنے دیوار سے آویزاں اس چوبی تختی پر لکھے ناموں میں اس صنف کو انصاف کے ساتھ نمایندگی دی گئی ہے؟

ڈاکٹر سعید الٰہی کے سامنے یہ بات رکھی تو اُنہوں نے بلند قہقہہ لگا کر ہمارے سوال کواپنے کمرے کی خنک فضا میں اڑا دیا۔وہ ابھی ابھی ایوانِ صدر سے واپس آئے تھے جہاں اُن کی ملاقات صدرِ مملکت جناب ممنون حسین، ایوانِ صدر کے سیکریٹری شاہد خان اور ترک سفیر عزت مآب بابر گرجن سے ہُوئی تھی۔ یہ ملاقات ہنگامی بھی تھی اور نہایت ضروری بھی کہ مقامی اور عالمی آفت زدگان سے پاکستان ہلالِ احمر کبھی غافل نہیں رہا ہے۔ شام کی خانہ جنگی، قتل وغارتگری، فرقہ واریت کی آگ اور غیر ملکی بارودی مداخلتوں سے متاثرہ لاکھوں شامی مہاجرین ترک سرحد پر پڑے ہیں۔ ان میں بچے بھی ہیں، خواتین بھی اور ضعیف و لاچار بھی۔ بھوک، بیماری اور پیاس کے مارے۔ بے خانماں اور بے سائبان۔ پاکستان ہلالِ احمر پچھلے سال بھی ان شامی مہاجرین کی مقدور بھر اعانت کر چکا ہے اور گزشتہ روز اِسی غرض سے پھر ایوانِ صدر میں ایک تقریب ہُوئی تھی تاکہ فوری طور پر شامی مہاجرین کی امداد کا بندوبست کیا جائے۔

ڈاکٹر سعید الٰہی صاحب نے بتایا کہ صدرِ مملکت جناب ممنون حسین کے احکامات کے تحت خورونوش کی اشیاء کے ساتھ دس ہزار کمبل، پانچ ہزار جیکٹس اور پانچ ہزار ہی دیگر گرم برانڈڈ ملبوسات شامی مہاجرین کو آج ہی بھجوائے گئے ہیں۔ میرے استفسار پر اُنہوں نے بتایا کہ ترک سرحد پر پڑاؤ کیے یہ بائیس، تئیس لاکھ شامی مہاجرین کو یہ گرم ملبوسات اس لیے فوری طور پر بھجوائے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں اب بھی شدید سردی پڑ رہی ہے اور سردیوں کا یہ سلسلہ اپریل کے آخر تک جاری رہے گا۔ ترک سفیر، جناب بابر گرجن، بھی بھرپور ساتھ دے رہے تھے۔

ترک ہلالِ احمر کا تعاون بھی شامل ہے۔ ضرورتمند شامی مہاجرین کو پاکستان سے ترک سرحد پر پہنچائے جانے والے اس سامان پر راہداری کے جو اخراجات اُٹھے ہیں، اس کا پچاس فیصد حصہ ترک حکومت نے برداشت کیا ہے۔ ترک عوام اور موجودہ ترک حکومت کی ہمت اور جذبہء اخوت کو شاباش ملنی چاہیے کہ ماتھے پر کوئی شکن ڈالے بغیر وہ لاکھوں شامی مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور شمالی امریکا نے تو چند ہزار شامی مہاجرین قبول کر کے ہاتھ کھڑے کر لیے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انھی مغربی ممالک اور امریکی شیطنت کے باعث شامی عوام کو آج ان بد ترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیئرمین ہلالِ احمر پاکستان،جو خود بھی کئی برس عامل ڈاکٹر رہے ہیں،نے مجھے بتایا کہ بیمار شامی مہاجرین کے علاج معالجے کے لیے بھی ہم خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم جناب نواز شریف، جو ترک حکمرانوں کے ساتھ نہائیت قریبی تعلقات رکھتے ہیں، بھی ترک سرحد پر مقیم ان مجبور شامی پناہ گیروں کی مدد اور اعانت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔چیئرمین پی آر سی ایس نے بتایا کہ ترکی میں موجود ان شامی مہاجرین بچوں کے لیے ہم فٹ بال اور اس کی کِٹیں بھی بھجوا رہے ہیںکہ شامی مہاجر بچے فٹ بال کھیل کے دیوانے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سیالکوٹ میں فٹ بال صنعت کے کئی مالکان ہم سے بہت تعاون کر رہے ہیں کہ یہ سارا کام کسی لالچ اور لوبھ کے بغیر محض انسانیت نوازی ہی کا تو مظہر ہے۔

شامی مہاجرین کی دستگیری اور اعانت کے لیے صرف ’’پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی‘‘ (PRCS) ہی ہاتھ آگے نہیں بڑھا رہی بلکہ عالم ِ اسلام کی کئی دیگر تنظیمیں بھی اِسی مستحسن میدان میں قدم رکھ چکی ہیں۔ برطانیہ میں بروئے کار معروف تنظیم’’المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ‘‘ ایسے ہی خدمت گزار مسلمان اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کے سربراہ ، جناب عبد الرزاق ساجد، چند دن پہلے ہی ترک سرحد پر ان بے گھرشامی مہاجرین میں اپنے ہاتھوںسے لاکھوں پونڈ کا سامانِ خورونوش،مردوں اور مستورات کے لیے کپڑے، بچوں کے کھلونے، پانی کی بوتلیں، ادویات اورخشک دودھ کے ڈبے تقسیم کر کے آئے ہیں۔ ساجد صاحب جب مجھے شامی مہاجرین کو درپیش سنگین مسائل کا آنکھوں دیکھا احوال بتا رہے تھے تو اُن کی بار بار نم ہوتی پلکیں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔

اُنہوں نے ایک آہِ سرد کھینچتے ہُوئے کہا :’’ یہ کیسا ستم ہے کہ ڈھائی تین عشرے قبل سوویت روس نے غریب مسلمان افغانستان پر حملہ کیا تو غریب پاکستان کو چالیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانا پڑا جس نے پاکستان کا بھرکس نکال دیا اور اب روس، امریکا اورداعش کے جرائم کے کارن لاکھوں شامی مہاجرین ترکی کا ذمے بن گئے ہیں۔‘‘ ساجد صاحب کی زیر نگرانی ’’المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ‘‘ نے آجکل پھر پاکستان بھر میں نابینا ہوتے غریب اور لاچار مریضوں میں آنکھوں کی روشنیاں بانٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں درجنوں کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں آنکھوں کے ملکی و غیر ملکی ماہر سرجن مفت آپریشن بھی کر رہے ہیں، دوائیاں اور عینکیں بھی بغیر کسی معاوضے کے عطیہ کی جارہی ہیں۔اگر کسی غریب مریض کوآپریشن کی غرض سے رات بھر ٹرسٹ کے آئی کیمپ میں رکنا پڑے تو رہنے سہنے اور روٹی پانی کا بھی بندوبست ’’المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ‘‘ ہی کی ذمے داری ہے۔

آنکھوں کے زیادہ نادار مریضوں کو آنے جانے کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔ ایک لاکھ مستحقین روشنیاں بانٹنے کی اس سبیل سے استفادہ کرتے ہُوئے دوبارہ کام کاج کے قابل ہوچکے ہیں۔ یہ آئی کیمپ ابھی جاری ہیں۔ کوئی بھی غریب، ضرورتمند آنکھوں کا مریض اس نمبر 03334252960)) پر رابطہ کر کے مفت علاج کروا سکتا ہے۔ عبد الرزاق ساجدنے تحدیثِ نعمت کے طور پر مجھے بتایا کہ سرگودھا میڈیکل کالج کے ایک غریب طالبعلم،محمد زبیر،نے حال ہی میںاعزاز کے ساتھ ایم بی بی ایس مکمل کیا ہے۔زبیر صاحب کے تمام تعلیمی اخراجات ’’المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ‘‘ نے پانچ سال برداشت کیے۔

ساجد صاحب بولے: ’’اب یہی ڈاکٹر محمد زبیر صاحب ہمارے آئی کیمپوں میں غریبوں کا مفت علاج کرنے والی ہماری ٹیم سے تعاون کر رہے ہیں۔ الحمد للہ۔‘‘ نیکیوںکے یہ سلسلے یونہی جاری رہیں گے اور امیدوں کے نئے نئے چراغ جلتے رہیں گے۔ ’’اخوت‘‘ والے ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب اور ’’کاروانِ علم فاؤنڈیشن‘‘والے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب بھی ایسے ہی نیکوکاروں کی صف میں شامل ہیں۔ لاریب اِن خدمات کا اجر صرف اللہ پاک ہی کے پاس ہے۔ بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے