سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ مشیروں سے ملاقات سے امریکا،سعودی تعلقات ایک نئی بنیاد پر استوار ہوگئے ہیں۔یہ دورہ غیر معمولی حالات میں ہوا تھا اور ملاقات کے شرکاء میں وائٹ ہاؤس سے پینٹاگان تک کے عہدہ دار شریک تھے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کہیں نہیں نظر آیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سعودی عرب اپنے وژن 2030 کو آگے بڑھا رہا ہے۔ آیندہ سال سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو کے حصص مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیے جارہے ہیں اور سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کی نشوونما کا عمل بھی بروقت اور منطقی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔اس دوران میں شاہ سلمان نے ایشیائی ملکوں کا تاریخی دورہ کیا ہے اور اس میں توانائی ،سرمایہ کاری ،انسداد دہشت گردی اور مذہب پر بات چیت کی گئی ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف داخلی سلامتی ،اندرونی اور بیرونی انتہا پسندوں سے ریاست کو درپیش خطرات کے حوالے سے اپنے اتحادیوں سے رابطے میں ہیں۔ سعودی وزیر دفاع نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایران اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے علاوہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی ہے۔وہ ٹرمپ کے امریکا اور سعودی عرب کے وژن 2030ء کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔

امریکا اور سعودی عرب نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ سے امریکیوں کے لیے روز گار کے دس لاکھ تک مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ امریکیوں کے لیے لاکھوں بالواسطہ ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔سعودی مملکت میں روزگار کے لاتعداد نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ اور سعودیوں نے توانائی ، صنعت ،انفرااسٹرکچر ،صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی حمایت کی ہے۔اس کا ہدف صدر ٹرمپ کی مدت کے ختم ہونے سے پہلے دو سو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔سعودی عرب کے قومی تبدیلی کے پروگرام ( این ٹی پی) کی مدت 2020ء تک ہے،اس لیے الریاض کی سرمایہ کاری کو ٹرمپ کے اقتصادی منصوبوں میں مقبولیت حاصل ہو گی۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی یہ نئی اساس قابل ذکر ہے۔نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک تاریخی موڑ کی عکاس ہیں۔ماضی میں ان کے درمیان تعلقات میں کئی موڑ آئے تھے اور ان میں بہت سے ایشوز پر اختلاف رائے بھی رہا تھا۔محمد بن سلمان یقینی طور پر سابق اوباما انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کے بارے میں ضرررساں پالیسیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب نے ایشوز کو درست خطوط پر استوار کر دیا ہے اور اگر سیاسی ،عسکری ،سلامتی اور اقتصادی امور کی بات کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں۔

اس تناظر میں جب سعودی نائب ولی عہد سے شام میں فوجی بھیجنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس کا یوں جواب دیا:’’ ہم کسی تحدید کے بغیر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں‘‘۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا بھی دورہ کیا۔وہاں سعودی عہدہ داروں اور پینٹاگان اور تزویراتی اقدام گروپ ( ایس آئی جی) کے درمیان تین گھنٹے تک خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اس کا اندازہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ایران کی قتل کی سازش میں بچ نکلنے کے بارے میں ہلکے پھلکے انداز میں تبصرے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے میز کے دوسری جانب بیٹھے امریکی صدر کے سینیر مشیروں اسٹیفن بینن اور جیرڈ کوشنر کو بتایا کہ ایرانی رجیم کی جانب سے سعودی مملکت کو معاندانہ سرگرمیوں کا سامنا ہے۔ وہ خطے اور دنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب کو دہشت گرد تنظیموں سے بھی خطرات درپیش ہیں۔اس موقع پر سعودی نائب ولی عہد نے کہا:’’ ان ہی خطرات کے سبب ہمیں اپنے اتحادیوں سے مل جل کر کام کرنے اور ان سے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کے بارے میں پُرامید ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان کی قیادت میں ان درپیش چیلنجز سے بآسانی نمٹا جاسکے گا‘‘۔انھوں نے اپنے ناظرین کو واضح انداز میں الریاض کے ایران اور اس کے گماشتوں ،دہشت گردی اور دوسرے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

پینٹاگان میں محمد بن سلمان سے ملاقات میں بینن اور کوشنر دونوں کی موجودگی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔یہ دونوں صدارتی مشیر وائٹ ہاؤس میں قائم تزویراتی اقدام گروپ کی نمائندگی کررہے تھے۔یہی گروپ صدر ٹرمپ کے لیے انتظامی حکم تیار کرتا ہے۔ اور وہ ’’ امریکا پہلے‘‘ کے تزویراتی وژن پر بھی کام کررہا ہے۔اس کے علاوہ وہ اس ایشو پر بھی کام کررہا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں سے مل کر ایران کو واپس دھکیلنے اور داعش کو تباہ کرنے کے لیے کیا کیا کرسکتا ہے۔

ہم اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ شام اور یمن میں محفوظ زونز یا امریکا کی قیادت میں اتحاد کی شام میں کارروائیوں میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے بھی کوئی گفتگو ہوئی ہے مگر اس سب سے قطع نظر بینن اور کوشنر کے محمد بن سلمان کو براہ راست سننے سے انھیں یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ سعودی عرب نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں اور مقاصد میں کہاں فٹ بیٹھ سکتا ہے بلکہ یہ کہ امریکا کے اقتصادی نیشنل ازم اور بحالی میں اس کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔

یقینی طور پر سعودی عرب کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے ایگزیکٹو احکامات کے لیے حمایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کے بیرون ملک سے آنے والے غیرملکی تارکین وطن سے پوچ تاچھ اور ان کی چھان بین کے پروگرام کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس کو ایک اہم پیشگی حفاظتی اقدام قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب اس کو امتیازی خیال نہیں کرتا ہے۔سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا صدر ٹرمپ نے دین اسلام کے بارے میں اپنے گہرے احترام کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے صدر ٹرمپ کو مسلمانوں کا حقیقی دوست قرار دیا اور کہا کہ وہ مسلمانوں کے مفادات کے حامی ہیں۔انھوں نے ٹرمپ کی مسلمانوں میں شناخت کو توہین آمیز قراردیا۔

حرفِ آخر یہ کہ اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انصاف برخلاف اسپانسرز آف دہشت گردی ایکٹ ( جاسٹا) کے خاتمے کا امکان ہے اور اخوان المسلمون اور پاسداران انقلاب ایران کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے امریکی کانگریس کے اقدامات میں بھی تیزی لائی جاسکتی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور سعودی عرب یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اب ایک دوسرے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ الریاض کے نقطہ نظر سے ٹرمپ انتظامیہ اس کی ایک حقیقی تزویراتی کاروباری شراکت دار ہوسکتی ہے۔ان دونوں ملاقاتوں میں دونوں ممالک کو متاثر کرنے والے تزویراتی ایشوز پر ذہن وقلب سے کامیاب گفتگو کی گئی ہے اور واشنگٹن اور الریاض کے درمیان آنے والے دنوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جارہا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے