سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اس مرتبہ منزل امریکا تھی۔انھوں نے وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی عرب مسلم لیڈر کی ان سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

اس ملاقات کے نتیجے میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر درست راہ پر استوار ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک میں سرد مہری کا خاتمہ ہوگیا ہے اور نئی انتظامیہ کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔یہ نئی انتظامیہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات سے بخوبی آگاہ ہے۔امریکا کی پے درپے آنے والی انتظامیہ کے ساتھ یہی معاملہ رہا ہے مگر صرف براک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں رخنہ آیا تھا مگر ہم اس بگاڑ کو کسی پیمانے پر جانچ نہیں سکتے ہیں۔

روس کے ایک میڈیا ذریعے نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو لبھا لیا ہے جبکہ بہت سے امریکی روزناموں نے ،جن کی صحافتی حلقوں میں پہچان سعودی عرب مخالف ہونے کی ہے، یہ اعتراف کیا ہے کہ دونوں کے درمیان کوئی کیمیائی تال میل ضرور تھی۔یہ بات واضح ہے کہ دو طرفہ تعلقات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے جارہا ہے اور نئے سرے سے تعلقات استوار کیے جارہے ہیں۔

ان دونوں رہ نماؤں کا مختلف امور کے بارے میں ایک سا مؤقف اور وژن سامنے آیا ہے اور انھوں نے مختلف امور سے اتفاق کیا ہے۔ان میں سب سے اہم ایران ہے جو دونوں ممالک کا مشترکہ دشمن ہے۔انھوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے روابط کو مربوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس ملاقات سے نالاں کون لوگ ہیں؟

دہشت گردی کی توسیع

اخوان المسلمون سے وابستہ سخت گیر گروپوں ،القاعدہ اور داعش نے ٹرمپ کے خلاف حملے کیے ہیں۔انھوں نے ان پر کیچڑ اچھالا ہے ،ان کا مضحکہ اڑایا ہے یا انھیں انتباہ جاری کیا ہے۔اگر ہم تمام مںظرنامے پر ایک نظر دوڑائیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی کا احیاء ہی نہیں ہوا بلکہ وہ پھیل گئی ہے اور اوباما انتظامیہ کے دور میں تو اس کو ایک طرح سے یقین دہانی حاصل ہوئی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر براک اوباما کی جانب سے پیچیدہ امور کو نظر انداز کرنے کے رویے نے دہشت گردی کو پھیلنے اور داعش کے ظہور میں مدد دی تھی۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعاون سے خطے میں استحکام اور افراتفری کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ماضی میں اس کے شواہد موجود ہیں۔1990ء کے عشرے میں القاعدہ کے رہ نما اسامہ بن لادن ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاوروں کو ہدف بنانا چاہتے تھے۔انھوں نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں سے اس منصوبے پر تبادلہ خیال کیا تھا اور پھر یہ فیصلہ کیا تھا کہ بیک وقت مختلف اہداف پر حملے کیے جانے چاہییں۔

ان کے امریکا پر حملے کا واحد مقصد اس کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنا تھا۔انھیں یہ امید تھی کہ اس وقت کے صدر امریکا جارج ڈبلیو بش الریاض پر حملہ کردیں گے جیسا کہ انھوں نے بعد میں بغداد پر کیا تھا۔چنانچہ بن لادن نے سوچا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان حملوں کو پایہ تکمیل کو پہچانے کے لیے بڑی تعداد میں سعودیوں کا انتخاب کیا جائے۔پھر یہ منصوبہ 11 ستمبر 2001ء تک ملتوی کردیا گیا اور القاعدہ کے سعودی ہائی جیکروں نے اس کو کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچا دیا۔

تاہم سب کچھ اسامہ بن لادن کے منصوبے کے مطابق نہیں ہوا تھا۔گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی عرب اور بش انتظامیہ نے القاعدہ کے خلاف ایک بڑی سکیورٹی ،نظریاتی اور سیاسی مہم شروع کی اور دنیا کے بہت سے مقامات میں اس کو شکست سے دوچار کیا۔دہشت گردی کے اس منصوبے سے عیاں تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے انتہاپسند ایک گھناؤنا کھیل کھیل رہے تھے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر اپنی پہلی گفتگو میں انھیں یہ باور کرایا تھا کہ اسامہ بن لادن اخوان المسلمون سے تعلق رکھتے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ اخوان المسلمون ہی نے القاعدہ کی پنیری تیار کی تھی اور اس کا مقصد سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اتحاد میں دراڑ ڈالنا تھا۔

جب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے وفد سے بات چیت کے لیے کانفرنس روم میں داخل ہوئے تو وہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کو دیکھ کر یوں گویا ہوئے:’’ ہیلو۔۔۔۔آپ کو دیکھ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ ایرانیوں نے تو آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی‘‘۔

سلسلہ جنبانی پر کون نالاں؟

ایرانی اس پیغام کو بڑے اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں۔وہ اس ملاقات اور اس سلسلہ جنبانی کے دوبارہ شروع ہونے پر نالاں ہیں۔وہ مایوس ہیں کیونکہ جنگ بندی کے سال ختم ہونے والے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ آیت اللہ علی خامنہ ای کو مخاطب ہوکر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اوباما نہیں ہیں اور ان سے مختلف ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کا یہ کامیاب دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب دنیا بھر میں ہر کہیں دہشت گردوں ،ایرانی رجیم اور اس کے پروردہ گماشتوں کو سخت ہزیمت سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔

ایران نے فرقہ واریت کو پروان چڑھانے اور اہل سنت اور شیعوں کے درمیان مخاصمت کے بیج بونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سعودی عرب کی تین سو سالہ تاریخ میں کبھی کسی سعودی شیعہ کی توہین یا اس کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔دوسری سعودی ریاست کے دور میں امام فیصل بن ترکی (1788-1865) نے الاحساء اور القطیف میں شیعہ عوام کو سنی قانون شکنوں سے بچانے کے لیے فورسز کو بھیجا تھا۔

مرحوم شاہ عبدالعزیز شیعہ آبادی والے شہروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملتے رہتے تھے۔وہ ان سے ان کے مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور انھیں حل کردیتے تھے۔

سعودی عرب ایک شہری ریاست ہے اور وہ ایران کی طرح کوئی نظریاتی ریاست نہیں ہے۔سعودی نائب ولی عہد کی صدر ٹرمپ سے ملاقات تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مفادات پر مبنی روایتی ورثے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ یہ ایک معمول کی کارروائی تھی۔

یہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے سفارتی دور کا آغاز بھی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا عملی اظہار ہمارے سامنے آجائے گا۔ صدر ٹرمپ اب خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کو درپیش چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔سب سے بڑا چیلنج تو دہشت گردی اور ایران کی دوسرے ممالک میں مداخلت اور خلاف ورزیوں سے نمٹنا ہے۔

------------------------------------

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے