اس تحریر کا عنوان بظاہر ایک دیرینہ خواب سا لگتا ہے یا چین کی ایک پرانی کہانی کے ترجمے جیسا ہے۔ایک قدیم عربی مقولہ ہے کہ علم حاصل کرو خواہ اس کے لیے تمھیں چین جانا پڑے۔اس سے علم کے حصول کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

ایک وقت تھا کہ الریاض میں ایک کتاب میلہ ہر پبلشر کا خواب تھا۔پھر اس نے حقیقت کا روپ دھارا۔اب سعودی عرب چین میں ایک لائبریری تعمیر کررہا ہے۔ بیجنگ یونیورسٹی کے نائب صدر لی یان سونگ نے اس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر بتایا تھا کہ یہ شاہ عبدالعزیز لائبریری کی ایک شاخ ہوگی۔ انھوں نے اس موقع پر مزید کہا:’’ یہ کوئی عام سنگ بنیاد نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا بھی نمائندہ ہے۔اس سے سعودی عرب اور چین کے درمیان مزید ثقافتی روابط اور شراکت کی راہ ہموار ہوگی‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ثقافتی منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات استوار کرنے میں بڑے مثبت اثرات ہوں گے۔

سعودی شہری الریاض میں منعقدہ بین الاقوامی کتاب میلے میں جاتے ہیں جہاں دانشور اور لکھاری مل بیٹھتے ہیں،وہ اپنی کتب مکمل کرتے ہیں اور انھیں اشاعت کے لیے پبلشروں کو بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ انھیں کتاب میلہ کا حصہ بنا سکیں۔اسی طرح بیجنگ میں سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے نام سے لائبریری کا افتتاح کیا جارہا ہے۔یہ لائبریری 13 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کی خوب صورت چھے منزلہ عمارت ہے۔اس کے مطالعے کے کمروں میں بیک وقت ایک سو محققین اور ناظرین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے عربی اور چینی شعبوں میں تیس لاکھ کتب رکھنے کی گنجائش ہوگی اور پانچ سو مربع میٹر کے علاقے میں مسودات رکھے جائیں گے۔

لائبریری میں عربی اور چینی تحقیقاتی مرکز کے علاوہ ایک کانفرنس ہال ہے جہاں پر نمائشیں منعقد کی جاسکیں گی۔ تحقیقاتی مرکز بیجنگ یونیورسٹی کے قدیم مسودات کے شعبے سے منسلک ہوگا اور چالیس سے زیادہ ملازمین پر مشتمل اس کے انتظامی دفاتر ہوں گے۔

درحقیقت بیجنگ میں لائبریری یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ہم صحرا سے آئے ہیں اور لکھاریوں اور ناشروں کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہم آپ کے لیے اپنی محبت کا اس طرح اظہار کررہے ہیں کہ آپ کے لیے اپنی کتب کا ترجمہ کررہے ہیں۔ہم علم ودانش کے منبع پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل اولاد میں سے ہیں۔ہم ابی طیب ،والاعشی اور مبصر المعرۃ الکبیر کی اولاد ہیں۔ ہم ایسے شہ سوار ہیں جنھوں نے چینی سلطنت کو عربی گھوڑوں سے متعلق ایک نایاب کتاب پیش کی تھی۔یہ کتاب 1848ء میں چھپی تھی۔

بیجنگ یونیورسٹی کونسل کے چیئرمین ہاؤ پنگ نے افتتاحی تقریب کے موقع پر کہا:’’ لائبریری علم اور سائنس کے فروغ کا ایک ذریعہ ہے۔خاص طور پر عربی میں یہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کے پلوں میں سے ایک ہے۔

ترجمے کا پُل

آج ترجمے کے پُل سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ایک زبان سے علمی،ادبی اور سائنسی کام کے کسی دوسری زبان میں ترجمے کا مطلب ایک سفیر کا انتخاب ہے جو آپ کی دوست ملک میں نمائندگی کرے گا۔ سفیر شاید تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن الفاظ دائمی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے بادشاہ زندہ زبانوں سے علوم کے عربی میں اور پھر عربی سے دوسری زبانوں میں تراجم میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔

ہر مترجم دو زبانوں کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرتا ہے اور ہر ترجمہ ایک پاسپورٹ ہے۔ یہی سبب ہے کہ سعودی شاہ ترجمےکو ایک سفارت خانے کے مشابہ ایک سفارت خانے کے طور پر فروغ دینے میں دلچسپی لیتے تھے جو ان کے ملک کی ترجمہ شدہ کتب کی نئی قوم میں نمائندگی کرے۔

پیارے نئے دوستو! اگرچہ ہم نے اب تجارتی سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں،سعودی شاہ نے اپنے عظیم باپ اور سعودی مملکت کے بانی کے نام پر پبلک لائبریری کا یہ تحفہ آپ کو دیا ہے تاکہ علم بین الاقوامی سطح پر اور حتیٰ کہ یہ چین ایسی دور دراز سرزمین میں قابل رسائی ہو جائے۔

-----------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے