طیارے کے ذریعے سفر ماضی میں ایک خوب صورت تجربہ رہا ہے۔ہم اپنے پیاروں کو ہوائی اڈوں کے صدر دروازوں پر خوش آمدید کہتے اور وہیں رخصت کیا کرتے تھے۔اب یہ دن لد چکے۔ آج ہوائی اڈے فوجی بیرکوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جہاں ہر کہیں مسلح اہلکار اور نگرانی کے کیمرے نظر آتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی مسافروں کی طرح طیاروں میں سوار ہوتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جاسکے۔

سچی بات یہ ہے کہ ہوائی سفر کے دوران ذہنی معذور اور نفسیاتی عوارض کا شکار افراد سے دہشت گردوں تک لاحق خطرات اتنے ہی پرانے ہیں جتنی پرانی طیاروں کی اڑان کی تاریخ ہے۔1955ء میں امریکا کے ایک طیارے کو اندرون ملک پرواز کے دوران بم دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کسی نے اپنی ماں سے چھٹکارا پانے کے لیے اس کے سامان میں بم چھپا دیا تھا تاکہ وہ اس کی موت کے بعد بیمے(انشورنس) کی رقم حاصل کرسکے۔ پھر وہ لوگ آئے جن کے لیے طیاروں کو اغوا کرنا ایک آسان عمل ٹھہرا تھا۔دنیا بھر میں طیارے کی تباہی کی صورت میں اس طرح خبر بننے کا یہ سب سے آسان اور بہترین طریقہ تھا۔

1960ء کی دہائی میں طیارے اغوا کرنے والے زیادہ تر کیوبن ہائی جیکر تھے ،عرب نہیں تھے۔بعد میں 1970ء کی دہائی میں عربوں اور فلسطین کی بائیں بازو کی تنظیموں کو طیارے اغوا کرنے کی افادیت کا احساس ہوا کہ اس طرح تو وہ عالمی برادری کی اپنے نصب العین کی جانب موثر انداز میں توجہ دلا سکتے ہیں لیکن یہ حربہ انھیں ہی الٹا پڑ گیا اور طیارے اغوا کرنے کی سازش کرنے والے دنیا کی نظروں میں دہشت گرد ٹھہرے۔

مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک سے امریکا جانے والی پروازوں میں لیپ ٹاپس اور ٹیبلٹس لے جانے پر پابندی کا مجھ سمیت بیشتر مسافروں کے لیے کچھ مطلب نہیں ہے۔ لیپ ٹاپس کے علاوہ ممنوعہ اشیاء کی ایک لمبی فہرست ہے جنھیں مسافر اپنے ساتھ امریکا نہیں لے جا سکتے ہیں،ان میں کریمیں ،خوشبوئیات اور پانی کی بوتلیں بھی شامل ہیں۔ہم نیویارک کے لیے تیرہ گھنٹے کی پرواز کے دوران میں ان تمام چیزوں کے بغیر بھی گزارہ کرسکتے ہیں۔

طیاروں میں گیجٹس

ہمیں دنیا سے رابطے کے آلے سیلولر فون کو کیبن میں ساتھ لے جانے کی اجازت ہے۔اس لیے پھر باقی اشیاء سے دستبردار ہونا کچھ مشکل نہیں ہے۔اگر سیلولر فونز پر بھی پابندی عاید کردی جاتی ہے اور اس کا امکان بھی ہے تو پھر ہم میں سے بیشتر لوگوں کو طیارے پر سوار ہونے سے قبل گھنٹوں سوچنا ہوگا کیونکہ موبائل فون ہر شخص کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔شاید گردوں اور پھیپھڑوں کی طرح کا جزو زندگی۔

تاہم ایک بہت ہی اہم سوال ہم پوچھنا بھول گئے ہیں۔کیا دہشت گردوں کے خطرات اتنے سنگین ہیں کہ ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے دنیا بھر میں مسافروں کی زندگیوں ہی کو داؤ پر لگایا جارہا ہے اور ہوابازی کی صنعت کو تباہ کیا جارہا ہے؟

اس وقت یقینی طور پر دہشت گردوں اور بعض حکومتوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنیادی طور پر امریکا۔۔۔۔۔۔۔ کے درمیان ایک جنگ جاری ہے۔اس جنگ میں ہرقسم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں اور ہوابازی اس کا پہلا ہدف ہے۔ایک تقریب میں دہشت گردی کے موضوع پر ایک ماہر نے بتایا کہ شام کے شہر الرقہ میں داعش کا ایک سیل امریکا پر 11 ستمبر کے حملوں کے طرز پر دہشت گردی کے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

اس ماہر کے مطابق جب متعلقہ فریقوں کو اس منصوبے کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاع موصول ہوئی تو اس اجلاس کے شرکاء کو ہدف بنا دیا گیا۔ یہ کہانی ممکن ہے مکمل طور پر درست نہ ہو لیکن یہ بات یقینی ہے کہ دہشت گرد پروازوں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کیونکہ ان کے مقاصد کے حصول کا یہ ایک آسان ذریعہ ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گرد ہوابازی کی صنعت کا گھیراؤ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور اس کے حوالے سے بہت سے سکیورٹی تحفظات پائے جاتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافروں پر بعض اشیاء امریکا لے جانے پر پابندی سے یہ تو ہوسکتا ہے کی سکیورٹی حکام کو کچھ سکون کا احساس ہو لیکن یہ پابندی دہشت گردوں کا راستہ نہیں روک سکتی ہے۔وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھوکے بازی پر مبنی نت نئے حربوں کو بروئے کار لانے میں مہارت رکھتے ہیں۔اب دہشت گرد مشرق وسطیٰ کے ماضی کی طرح کے لڑکے بالے نہیں رہے ہیں۔

آج کے دور میں ہر چیز ممکن ہے۔حال ہی میں لندن میں جس شخص نے دہشت گردی کا حملہ کیا ہے،اس کی عمر 52 سال تھی۔وہ پہلے عیسائی تھا اور کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا تھا۔وہ جمیکن نژاد تھا۔اس کے شخصی جائزے سے عیاں ہے کہ اس میں ایک روایتی دہشت گرد کی سی خصوصیات نہیں پائی گئی ہیں۔

دنیا دہشت گردی کے قلمع قمع میں ناکام ہوگئی ہے کیونکہ اس کا صرف ہتھیاروں سے خاتمہ نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کا ایک نظریہ بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی دہشت گردی سے نمٹنے کی واحد امید تھی اور اس سے اس کا کردار محدود کیا جاسکتا تھا۔تاہم ٹیکنالوجی بھی ناکام رہی ہے بلکہ یہ دہشت گردوں کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے اور اپنی کارروائیوں کی ہدایت کاری کے لیے ایک ذریعہ اور آلہ بن چکی ہے۔

------------------------------------

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے