محکمہ جوازات (نظامت عامہ پاسپورٹس) نے حال ہی میں جاری کردہ ایک حکم نامے میں کہا ہے کہ ’’ایسے کفیلوں پر جرمانے عاید کیے جائیں گے جو اپنے ملازمین کے اقاموں کی بروقت تجدید نہیں کرائیں گے‘‘۔

اس سزا میں کفیلوں کو مہیا کی جانے والی برقی خدمات کی معطلی بھی شامل ہے۔نئے قواعد وضوابط کے مطابق اگر خلاف ورزیوں کا اعادہ کیا گیا تو پھر سزا دُگنا ہو جائے گی۔

یہ بھی اطلاع سامنے آئی ہے کہ کفیلوں کو اپنے تارکین وطن ملازمین کے پاسپورٹس اپنے پاس نہیں رکھنے چاہییں۔ بعض آجروں نے اس حکم کا نفاذ کیا ہے لیکن بہت سوں نے اس کو نظر انداز کردیا ہے۔ تاہم یہ اقدام غیر افادی نظر آتا ہے کیونکہ کفیلوں کو اپنے ملازمین کی زندگیوں اور موت پر بدستور اختیار حاصل ہے۔

ہمیں خود کو بے وقوف نہیں بنانا چاہیے۔ کفالہ کا موجودہ نظام مکمل طور پر ازکار رفتہ ہوچکا ہے اور یہ غلامی ہی کی ایک شکل ہے۔ میں بار بار اس موضوع پر لکھتا رہتا ہوں اور ایک شہری کی حیثیت سے یہ نہیں چاہتا ہوں کہ میرا ملک میڈیا رپورٹس کا موضوع بنے۔ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ غریب ملازم ہی غلطی پر ہوتا ہے حالانکہ ایسے بہت سے کیس بھی سامنے آچکے ہیں کہ جن میں ملازمین کو دو، دوسال سے ان کی اجرتیں ہی ادا نہیں کی گئی ہیں۔

لیبر کورٹ میں ان کے کیسوں کی فائلیں پڑے پڑے دیمک زدہ ہو رہی ہیں یا کفیلوں کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے سماعت بار بار ملتوی کردی جاتی ہے اور ان کی انصاف کے لیے داد و فریاد کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔ یوں اس طریقے سے ان کی داد رسی نہیں کی جا رہی ہے۔

مثال کے طور پر بہت سے آجر اپنے ملازمین سے بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر وہ ادا نہیں کی جاتی ہے تو وہ دفتر جاتے ہیں اور اپنے ملازم کو ہربی (ہروب) یعنی 'بھگوڑے' کے طور پر رجسٹر کرا دیتے ہیں۔ بعض کیسوں میں تو ملازم روزانہ دفتر آتا ہے لیکن اس کو اپنی ’’غیر یقینی‘‘ حیثیت کا کچھ علم نہیں ہوتا ہے۔

اس ضمن میں سب سے دلدوز واقعہ ایک ایسے سنگ دل آجر کا ہے جس نے اپنے ملازم کا ہروب کی حیثت سے نام ختم کرنے کے لیے تیس ہزار ریال کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اس شخص کی کینسر کا شکار بیوی اسپتال میں مر رہی تھی۔ بعض نیک دل سعودیوں نے اس آجر کو مطلوبہ رقم ادا کرنے کے لیے عطیات جمع کیے تھے۔

ایک اور کیس میں الریاض میں ایک عدالت نے ایک تارک وطن کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے لیکن اس کے کفیل نے ابھی تک اس کا اقامہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور وہ اس کو واپس نہیں کر رہا ہے حالانکہ وہ شخص دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اس کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔

مصائب اور عطیات

ایسے سیکڑوں کیس ہیں۔ہم ایسے کیسوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ کم مصائب کا شکار ہیں اور بعض بہت زیادہ مصائب سے دوچار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ مخیّر حضرات کے فراخدلانہ عطیات بھی ہیں۔

میں یہ تجویز کروں گا کہ وزیر محنت بہ ذات خود نیک شہریوں کے ایک گروپ، ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اور انسانی حقوق کمیشن کے ارکان کے ساتھ بے دخلی مراکز کا دورہ کریں۔ وہاں زیرحراست افراد سے ملیں اور ان کی گزارشات اپنے کانوں سے سنیں۔

اس تمام معاملے کے بارے میں ایک بالکل درست رپورٹ کا حصول بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی مدد سے ہی اس مسئلے کو ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر سکتے ہیں۔ ہم کفالہ کے نظام میں اصلاحات کے لیے قطر کی تقلید کر سکتے ہیں۔ انھوں نے اصلاحات کی منصوبہ بندی کی اور پھر اس پر عمل درآمد کیا ہے۔ گذشتہ سال دسمبر میں قطر نے کفالہ (اسپانسرشپ) نظام ختم کر دیا تھا اور غیر ملکی ورکروں کے حقوق کی بہتری کے لیے نئی اصلاحات کا نفاذ کیا تھا۔

قطر میں اس نئے قانون کو کفالہ نظام کی جگہ رائج کیا گیا ہے۔ یہ جدید اور کنٹریکٹ پر مبنی نظام ہے جو ورکروں کا تحفظ کرتا ہے، اس ملازمت میں لچک پیدا ہوئی ہے اور قطر کی تن خواہ دار افرادی قوت کو آزادی اور تحفظ ملا ہے۔

ہم موجودہ صورت حال کو زیادہ دیر تک جوں کا توں جاری نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اس کو روکنا ہوگا اور جب تک اوپر سے کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں کیا جاتا ہے،اس وقت تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔

ہمیں اپنے بعض سفاک اور لالچی شہریوں کو اپنے ملک کا تشخص تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ یہ بات کہہ اور لکھ چکا ہوں۔اب ایک بار پھر یہ کہوں گا: میں کسی مظلوم کی اپنے ملک اور اس کے عوام کے لیے آہ اور بد دعا نہیں لینا چاہتا ہوں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے