سماجی روابط کی ویب گاہیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔یہ ایسی سرگرمیوں کے لیے فراخدلانہ جگہ فراہم کرتی ہیں اور اس امر کو ثابت کرنے کے لیے ہمیں کوئی بہت زیادہ مطالعات کی ضرورت نہیں ہے۔لندن میں برطانوی پارلیمان کے باہر حملہ کرنے سے قبل مجرم خالد مسعود وٹس ایپ استعمال کرتا رہا تھا۔

چند روز قبل ہی ٹویٹر نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ دس ماہ کے دوران میں 376000 سے زیادہ مشتبہ اکاؤنٹس کو بند کیا ہے کیونکہ وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہے تھے۔ٹویٹر نے اگست 2015ء میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث اکاؤنٹس کو بند کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی اور اس کے بعد سے منجمد کیے جانے والے مشتبہ اکاؤنٹس کی تعداد 636248 ہوچکی ہے۔

ٹویٹر نے واضح کیا ہے کہ اس نے ان میں سے صرف دو فی صد اکاؤنٹس کو مختلف حکومتوں کی درخواست پر ختم کیا ہے۔ٹویٹر اور وٹس ایپ دو ایسی ایپلی کیشنز ہیں جن کا انتہا پسند بہت عام استعمال کرتے ہیں۔

بھرتی کا نیٹ ورک

ان دونوں ایپلی کیشنز پر ایسے گروپ موجود ہیں جن کے ارکان میں عراق اور شام میں لڑنے والے جنگجوؤں کے علاوہ بچے اور نو عمر لڑکے بالے بھی شامل ہیں۔ غالباً انتہا پسندوں کا بھرتی کا خفیہ نیٹ ورک اسی انداز میں کام کرتا ہے۔ان گروپوں کی نوعمر لڑکے اور نوجوان خفیہ طریقے سے اس انداز میں پیروی کرتے ہیں کہ ان کے خاندان اور معاشرے کو بالکل بھی ان کی سرگرمیوں کا پتا نہیں چلتا ہے۔

یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس ضمن میں والدین کے کندھوں پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ سماجی روابط کی ان ویب گاہوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں۔

لندن میں دہشت گردی کے مرتکب خالد مسعود کی عمر باون سال تھی۔کیا اس کو اس عمر میں وَٹس ایپ کے غلط استعمال سے روکنا اس کے والدین کی ذمے داری تھی؟ نہیں ۔ لیکن مجھ سے بھی یہ نہ پوچھیے کہ یہ کس کی ذمے داری تھی کیونکہ میں بالکل بھی یہ نہیں جانتا ہوں۔

----------------------------

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے