اردن میں حال ہی میں منعقدہ عرب سربراہ اجلاس کے دوران میں ایک منظر نے ہر کسی کی توجہ اپنی جانب کھینچ تھی اور یہ منظر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کی عرب رہ نماؤں کے سامنے تقریر کا تھا۔

گوٹیریس نے جنگ کی تباہ کاریوں ، امن کے فوائد اور ہمارے ممالک میں جنگوں کے نتیجے میں مہاجرین کے المیے کے بارے میں گفتگو کی۔ ان سے ایسی ہی گفتگو کی توقع کی جارہی تھی لیکن ان کی تقریر کی خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے سورہ التوبہ کی چھٹی آیت کا حوالہ دے کر اپنے سامعین کو حیرت میں مبتلا کردیا۔ انھوں نے پہلے اس آیت کی عربی میں تلاوت کی اور اس کے بعد اس کی تشریح وتفسیر بیان کی مگر انھوں نے کوئی عام نہیں بلکہ قرونِ اولیٰ کے دور کے ممتاز مفسر امام ابن جریر الطبری کی تفسیر کا حوالہ دیا تھا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے تحفظ کا طلب گار ہوتو پھر اس کو پناہ دے دو۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سماعت کرسکے۔پھر اس کو بہ حفاظت اس کی امان والی جگہ پر پہنچا دو۔یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے ہیں۔‘‘

عرب دنیا میں تقسیم

اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل نے اس آیت کا حوالہ شاید اس لیے بھی دیاکہ وہ جانتے تھے کہ عرب مسلم دنیا کو اس وقت فرقہ وار اور سماجی تقسیم کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ہم یہاں آپ کے پاس قرآن مجید کے ساتھ آئے ہیں کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ اس کی پاسداری کرتے ہیں‘‘۔ ان کا اشارہ یقیناً دہشت گردوں کی جانب تھا۔پھر انھوں نے شامی اور عراقی مہاجرین کے بارے میں گفتگو کی اور انھیں مخاطب ہوئے جو ان مہاجرین کو اپنے ہاں قبولنے میں متردد ہیں۔

پرتگیزی گوٹیریس کو بظاہر اس آیت کی تشریح وتفہیم کا مکمل ادراک ہے۔انھوں نے فروری میں جامعہ قاہرہ میں تقریر میں بھی اس کا حوالہ تھا اور مصر کی خطے میں جاری مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے کوششوں کو سراہا تھا۔

انھوں نے کہا مہاجرین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا جاسکتا ہے ،وہ وہی ہے جو کچھ ہم نے سورہ توبہ کی آیت میں پڑھا ہے۔اللہ قرآن مجید میں یہ کہتا ہے کہ صاحب ایمان اور بے عقیدہ مہاجر لوگوں کو کسی قسم کے امتیاز کے بغیر پناہ مہیا کی جانی چاہیے۔ مہاجرین کو تحفظ مہیا کرنے کے بارے میں ،میں نے یہ سب واضح یہی چیز پڑھی ہے۔

اقوام متحدہ کا مشن

کسی بین الاقوامی عہدہ دار کی جانب سے یہ ایک اچھا اظہاریہ تھا۔وہ عیسائی ہیں اور اس کے باوجود انھوں نے اسلامی عقیدے کی تعریف کی ہے لیکن اقوام متحدہ کا مشن اس طرح کے علامتی اظہاریوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کو امن اور انصاف کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدام کرنا چاہیے کیونکہ جہاں کہیں انصاف اور رحم دلی کا بول بالا ہوگا،اللہ کے دین کا بھی غلغلہ بلند ہوگا۔ اس کے لیے تشریحات کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔یہ ایک مشکل امر ہے اور اس کے لیے بہت مہارت کی ضرورت ہے۔

اس طرح اعلیٰ مرتبے پر پہنچنے کے بعد پرتگیزی مدبر کا یہ بیان اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کی عربی زبان میں تقریر سے آغاز سے اس بات کا واضح اشارہ ملتا ہے کہ اس وقت دنیا اور خاص طور پر مغرب کس طرح عرب دانشورانہ کلچر سے جڑے ہوئے ہے۔

جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ مسلم کمیونٹیوں میں ثقافتی مزاحمت کے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا رُخ اختیار کرنے کا ایشو عالمی ہے جیسا کہ عالمی حدت ( گلوبل وارمنگ) کا ایشو ہے اور اس کے بارے میں دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ہم قرآن مجید کی تفہیم وتشریح کی بنیاد پر ہر روز دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہیں جیسا کہ ہمارے آباء واجداد خوارج کے خلاف لڑتے رہے تھے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے