’’عرب ریاستیں عشروں پرانے اسرائیلی، فلسطینی تنازعے کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی حمایت کریں گی۔بشرطیکہ ان میں اسرائیل کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دی جائے‘‘۔

یہ بات عرب لیگ کے اٹھائیسویں سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہی گئی تھی۔یہ اعلامیہ تنظیم کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے پڑھ کر سنایا تھا اور انھوں نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے سفارت خانوں کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل نہ کریں۔ اگر ایسا کوئی سنگین اقدام کیا جاتا ہے تو اس سے عرب شاہراہوں پر احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا اور اس کے مسلم دنیا میں انتہائی منفی مضمرات ہوں گے۔

کانفرنس کے میزبان اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے افتتاحی نشست میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا:’’اسرائیل نے یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس طرح امن کے امکانات ہی معدوم ہوتے جارہے ہیں۔فلسطینی تنازع کے ایک منصفانہ اور جامع دوریاستی حل کے بغیر خطے میں کوئی امن اوراستحکام نہیں ہوگا‘‘۔انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’’فلسطینیوں کی اپنی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد مشرق وسطیٰ میں ایک مرکزی ایشو رہے گی‘‘۔

عرب سربراہ اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اپنی تقریر میں اسرائیلی پالیسی پر تنقید کی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے دو ریاستی حل کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس ایک راستے سے ہی فلسطینی اور اسرائیلی اپنی قومی امنگوں کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ امن ،سلامتی اور وقار کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدے دار نے قبل ازیں امریکا کے دباؤ پر مارچ کے اوائل میں شائع شدہ یو این کی تازہ رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔اس میں اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی مذمت کی گئی تھی۔اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی ویب سائٹ سے بھی ہٹا لیا گیا تھا۔اس کے ردعمل میں اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کی ایگزیکٹو سیکریٹری ریما خلف نے احتجاج کے طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔یہ رپورٹ اسی کمیشن نے شائع کی تھی۔ وہ اسرائیلی جارحیت اور امریکا کی دھمکیوں اور متعصبانہ پالیسیوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں اور اس طرح وہ حریت پسند لوگوں کی نظروں میں ایک ہیرو قرار پائی ہیں۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا حاصل یہ ہے کہ ’’ اسرائیل نے ایک نسل پرستانہ نظام قائم کررکھا ہے اور تمام فلسطینی عوام ہی اس نسل پرستی کا شکار ہیں‘‘۔اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کسی شک وشبہ سے بالا تر ہو کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل نسل پرستی کے جرائم پر مبنی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا قصور وار ہے‘‘۔اس میں قومی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کا نسل پرستی پر مبنی ان پالیسیوں کی وجہ سے بائیکاٹ کریں اور اس کے خلاف پابندیوں کی حمایت کریں‘‘۔

احتساب

گوٹیریس عالمی ادارے کے اپنے بہت سے پیش رو عہدے داروں کی طرح امریکی دھمکیوں اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے مداخلت سے دبک گئے ہیں۔ان عہدے داروں نے ماضی میں کبھی اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قابل احتساب نہیں گردانا ہے۔امریکی انتظامیہ بدستور اسرائیلی لابی کے کنٹرول میں ہے اور ریاست اسرائیل نے اقوام متحدہ اور ہر اس عہدے دار کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو اس کے عظیم تر اسرائیل کے قیام کے لیے خطرے کا موجب ہو یا کسی طرح اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہو۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل کو اس کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی بنا پر قابل احتساب نہ گرداننے کی وجہ سے صہیونی ریاست کی یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور اس نے عالمی مذمت کے باوجود یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل نے ایک نسل پرستانہ نظام قائم کررکھا ہے جس نے تمام فلسطینی عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اس رپورٹ کے مصنفین کو اس الزام کی سنگینی کا ادراک تھا۔چنانچہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ’’دستیاب شواہد کسی معقول شبے سے ماورا یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل ایسی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا قصور وار ہے جو نسل پرستی کے جرم کے زمرے میں آتی ہیں اور بین الاقوامی قانون میں اس کی یہی تعریف بیان کی گئی ہے‘‘۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’فلسطینی عوام کو تزویراتی لحاظ سے منتشر کیا جانا اسرائیل کا ایک اصولی طریق کار ہے جس کے تحت اس نے ایک نسل پرست نظام مسلط کررکھا ہے۔اس کی جنگ کی تاریخ ،تقسیم ،انضمام اور فلسطینی علاقوں پر طویل قبضے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس نے فلسطینی عوام کو مختلف جغرافیائی علاقوں میں تقسیم کررکھا ہے اور وہاں مختلف قوانین کا نفاذ کیا جارہا ہے‘‘۔

’’اس تقسیم کے ذریعے اسرائیلی رجیم کو مضبوط کیا جاتا ہے۔فلسطینیوں پر اس کی نسلی برتری قائم کی جاتی ہے اور اس طرح فلسطینی عوام کے متحدہ اور موثر مزاحمت کے لیے عزم کو کمزور کیا جاتا ہے۔اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے مختلف طریق ہائے کار کا اطلاق کیا جاتا ہے لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ فلسطینی کہاں رہ رہے ہیں۔اس انداز میں اسرائیل نسل پرستی کے نظام کا نفاذ کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے سے انکاری بھی ہوتا ہے‘‘۔

مکمل استثنا

اس نسل پرست ریاست نے گذشتہ چھے عشروں سے فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے مگر مکمل استثنا کے ساتھ ۔ فلسطینیوں کو روزانہ ہی چیک پوائنٹس پر انسانیت سوز سلوک ، پابندیوں اور کرفیو کا سامنا ہوتا ہے۔کسی بھی وقت ان کی تذلیل کی جاسکتی ہے اور یہ سب کچھ دنیا کے سامنے ہورہا ہے۔ فلسطینی مسلسل خوف و ہراس کی فضا میں رہتے ہیں اور انھیں ہر دم گرفتاری ،تشدد یا قتل کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔

خطے کے لیے سب سے بڑے خطرے کا موجب اسرائیل کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی صلاحیت ہے اور وہ اس کا الزام عرب اور مسلم دنیا پر عاید کردیتا ہے۔جب کبھی اسرائیل کو تنہائی کا سامنا ہوتا ہے،عالمی برادری کی جانب سے اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور اس سے جارحانہ پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ عالمی سطح پر ایسی چال چلتا ہے کہ ہر کسی کا رُخ عربوں کی جانب ہوجاتا ہے اور دنیا اس کی سفاکیت پر کوئی بہت زیادہ تنقید نہیں کرتی ہے۔

اسرائیل دنیا کے مختلف حصوں میں قتل اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی ایک تاریخ کا حامل ہے۔موساد نے بہت سے فلسطینی لیڈروں اور فلسطینیوں کے ہمدردوں کو قتل کیا ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی اسرائیل کے خلاف کسی بھی تنقید کو مانیٹر کرتی ہے اور وہ کسی بھی ایسے فرد کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتی ہے جو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور منصوبوں کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔آج کے دن تک اسرائیل نے اپنی سرحدوں کا تعیّن نہیں کیا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ دو ریاستی حل کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔

عرب لیڈروں نے اپنے اٹھائیسویں سربراہ اجلاس کے اختتام پر یہ کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہوجاتا ہے تو وہ اس کے ساتھ تاریخی مصالحت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے دل لگتی بات کہی ہے۔ ان کے الفاظ میں:’’ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں قابل عمل اور جامع امن کے قیام کے لیے کوششوں کی راہ میں بدستور ایک رکاوٹ رہے گا‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے