دنیا امریکا کے متنازع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارت سنبھالنے کے بعد سے کردار ملاحظہ کررہی ہے۔ اگرچہ پہلے نمایاں شخصیات ،مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا تھا،مگر انھوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک مضبوط آدمی ہیں،مضبوط انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور وہ متنازعہ امور سے سیاسی دانش مندی کے ساتھ نمٹ سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روایتی امریکی اقدار کی جانب لوٹ رہے ہیں۔

امریکا کے شام میں الشعیرات ائیربیس پر فضائی حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر قومی سلامتی کا تحفظ ،امریکا کے تزویراتی مفادات اور ظالم حکومتوں سے معاشروں کو بچانے ایسی اصطلاحیں منظرعام پر آگئی ہیں۔ دوسرے ممالک میں مداخلت امریکا کی پالیسیوں کا ہمیشہ حصہ رہی ہے۔امریکا کی مداخلت خواہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہو یا عالمی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ،وہ اپنی قوت اور اقدار کے پیش نظر سیاسی بحرانوں کو کنٹرول رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیسویں صدی کے وسط میں امریکا اپنے اتحادیوں کو کمیونزم کی لہر سے بچانے کے لیے مداخلت کیا کرتا تھا۔امریکی صدر وائٹ ڈی آئزن ہاور نے 1957ء میں اپنی مشہور زمانہ تقریر میں مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے خلاف کمیونسٹوں کی کسی جارحیت کے بارے میں خبردار کیا تھا اور یہ دھمکی دی تھی کہ وہ ایسی کسی جارحیت کے سدباب کے لیے مسلح افواج کا براہ راست استعمال کریں گے۔

امریکی افواج نے سنہ 1958ء میں لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مداخلت کی تھی۔آئزن ہاور کے ان براہ راست تاریخی اور دفاعی اصولوں کو عملی طور پر بروئے کار لانے کے زمانے ہی میں سعودی عرب کے مرحوم شاہ سعود بن عبدالعزیز نے 30 جون 1957ء کو واشنگٹن کا دورہ کیا تھا۔

فرانسیسی مورخ ژاک بینو میکن اپنی کتاب ’’شاہ سعود۔۔۔۔ تبدیلی کے زمانے میں الشرق‘‘ میں لکھا ہے کہ انھوں نے یہ دورہ مصر کے خلاف سہ فریقی جارحیت کی ناکامی کے بعد کیا تھا اور اس کے نتیجے میں خطے کی پالیسیوں میں برطانیہ کے کنٹرول کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

وہ لکھتے ہیں:تب فرانس الجزائر میں انقلاب سے محاذ آرا تھا اور سوویت یونین نے عرب ممالک کی حمایت شروع کردی تھی۔اس وقت خطے میں موجود خلا کو پُر کرنے، بالخصوص سوویت یونین کی توسیع پسندی اور اس کی جانب سے ایک فریق کی قیمت پر دوسرے فریق کی حمایت کے حوالے سے گفتگو کی گئی تھی۔اس دورے کا ایک نتیجہ یہ نکلا تھا کہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے دفاع اور اپنے مفادات کے تحفظ کا عزم کیا تھا۔چنانچہ امریکی اصولوں ہی کی بنا پر 1990ء میں کویت کو آزاد کرانے کے لیے نتیجہ خیز مداخلت کی گئی تھی۔

ماضی کی مداخلتیں

امریکا نے لبنان ،بوسنیا ،کوسوو ،افغانستان ،لیبیا ،یمن اور اب شام میں امن کے قیام کے لیے ہی مداخلت کی ہے اور یہ ضروری بھی تھی۔سیاسی بحرانوں کے دور میں امریکا کے محکمہ خارجہ نے ہمیشہ امن کے حصول کے لیے جنگوں میں مداخلت کی ہے۔ امریکا نے سلوبوڈان میلاسووچ کے خلاف مداخلت کی تھی۔اس نے سربیا کے اس خونخوار لیڈر کے خلاف فضائی قوت کا استعمال کیا اور ان کی فورسز سے لڑائی کے لیے بھاری ہتھیار بھیجے تھے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ اس نے مذاکرات کے لیے ایک تاریخ مقرر کی تھی اور پھر میلاسووچ کو 14 دسمبر 1995ء کو ڈیٹن معاہدے سے جبری متفق ہونا پڑا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا کے اعلیٰ حکمت کار ہمیشہ اپنی انتظامیہ سے ڈیٹن معاہدے کے تجربے کے اعادے کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یعنی نظام کے ستونوں کے خلاف جنگ مسلط کی جائے ،اس کو بآسانی ادھر ادھر نقل و حرکت سے روک دیا جائے۔اس کی طاقت کو اتنا کچل دیا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوجائے اور وہ کسی ایسے سیاسی سمجھوتے پر متفق ہوجائے جس سے کسی قوم ،عوام اور ریاست کو درپیش المیے کا خاتمہ ہو سکے۔

بعض امریکی صدور کے نام ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں کیونکہ انھوں نے درست وقت میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے اتحادیوں کو مضبوط بنانے کے لیے مداخلت کی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے وقت صدر تھیوڈور روزویلٹ مداخلت نہیں چاہتے تھے۔تاہم امریکا کے اتحادیوں فرانس اور برطانیہ کے جنگی نقصانات نے انھیں اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ جہازوں اور اسلحے کو بھیجیں۔

جب جنگ میں دو ہزار سے زیادہ امریکی ہلاک ہوگئے تو صدر روزویلٹ نے بھی امریکا کی جنگ میں شرکت کا اعلان کردیا تھا۔امریکیوں کی اکثریت اس ’’مہم جویانہ‘‘ مداخلت کے خلاف تھی۔ تاہم یہ کسی امریکی صدر کا سب سے کامیاب فیصلہ تھا۔اس کے نتیجے ہی میں اتحادیوں کی فتح کی راہ ہموار ہوئی تھی اور پھر پوری دنیا کا نقشہ ہی تبدیل ہوکر رہ گیا تھا۔

ٹرمپ کا شام میں حملہ اس کے اثرات اور چھوٹا یا بڑا ہونے سے قطع نظر بین الاقوامی بحرانوں ،انسانی المیوں اور مطلق العنان حکومتوں سے نمٹنے کے لیے امریکی کردار میں تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔اس تناظر میں ایران خطے کی صورت حال کو اس طرح تبدیل نہیں کرسکے گا جیسا کہ وہ چاہتا ہے یا جیسا وہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں کرتا رہا ہے۔

شامی رجیم زیادہ دیر تک احتساب سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا اور شامی صدر بشارالاسد بھی جلد یا بدیر اپنے جرائم کے مواخذے سے نہیں بچ سکیں گے کیونکہ اب امریکا اپنی اصل شکل صورت میں واپس آگیا ہے اور جیسا کہ ٹرمپ کے قریبی معاونین اکثر یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ ’’ اوباما کا دور لد چکا ہے‘‘۔

-------------------------------

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے