پاکستان کے ایوان بالا [سینٹ] میں سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے مسئلے پر پھر بحث ہوئی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ایوان کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا جبکہ حکومت نے کہا، یہ اس کا استحقاق ہے۔ یہ تو ایوان ہے، ایک مجاز ادارہ لیکن میڈیا پر جو بحث چل رہی ہے، وہ بحث کی حد تک تو دائرہ مجاز میں شامل ہے لیکن جب اصحاب بحث جج بن جاتے ہیں تو معاملہ دلچسپ ہو جاتا ہے۔

یہ ''دلیل'' تو بے اصل ہے اور خلاف واقعہ بھی کہ یہ اتحاد شیعہ سنی کشمکش کو ہوا دے گا۔ آذربائیجان شیعہ ملک ہے، اس کی 70 فیصد آبادی شیعہ ہے اور وہ اتحاد کا رکن رکین ہے، پھر معاملہ شیعہ سنی کا کہاں رہ گیا۔ ہاں، ایران سعودی کشمکش کا حوالہ دیا جائے تو وہ پوری طرح چاہے ٹھیک نہ بھی ہو، اس کی کچھ تک تو ہے۔ ایک اور مزے کی دلیل یہ ہے کہ سیاسی انتشار ہو گا۔ یہ مزے ہی کی نہیں، کمال کی دلیل بھی ہے۔ ایک طرف چالیس ملک ہیں، دوسری طرف دو (یعنی ایران اور عراق)۔ آپ چالیس کا ساتھ نہ یں، کیونکہ انتشار نہیں ہوگا۔ اس قاعدے سے پھر پارلیمنٹ کی اکثریتی جماعت کو بھی اقتدار نہیں دینا چاہیے کیونکہ انتشار ہوگا، آٹھ دس سیٹوں والی پارٹی کو حکومت دے دی جائے تاکہ انتشار سے بچا جا سکے۔ واقعی، یہی دلیل مبنی بر انصاف اور برسبیل تذکرہ، تحریک انصاف کا دعویٰ بھی تو اسی اصول پر ہے۔

اسلامی ممالک میں سے تیسرا شام ہے جو اتحاد کا رکن نہیں ہے اور بن بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کی اسلامی کانفرنس اور عرب لیگ دونوں کی رکنیت معطل ہے۔ اس لئے بشار حکومت کب کی متنازعہ ہو چکی۔ حلب کی فتح کے بعد بشار حکومت نے یالمائر اور ملحقہ علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا، اس کے باوجود اس کے زیر رقبہ علاقہ ملک کے کل رقبے کا محض 25 فیصد یا اس سے کچھ ہی زیادہ ہوگا۔ یہ علاقہ کبھی ملک کا سب سے گنجان آباد علاقہ تھا، پر اب نہیں ہے۔ لاکھوں کے حساب سے لوگ یہاں سے نکل کر دوسرے ملکوں یا باغیوں کے آزاد کردہ علاقوں کو چلے گئے۔ مشرقی حلب ہی کی مثال لے لیجئے، اس کی آبادی 8 لاکھ تھی، اب یہ حکومت کے قبضے میں ہے اور یہاں کی آبادی پچاس ساٹھ ہزار سے زیادہ نہیں۔ شامی حکومت کے پاس جتنا رقبہ ہے، اتنا تو محض کردوں کے پاس ہے اور اب امریکہ جلد ہی الرقہ سے داعش کو پسپا کرنے والا ہے۔ پھر اس پر کرد قابض ہو جائیں گے اور ان کے زیر قبضہ علاقہ اور بڑھ جائے گا۔ مشرقی حلب پر قبضہ کے بعد جنگ میں کمی نہیں آئی بلکہ پہلے سے زیادہ بھڑک اٹھی ہے۔ شمالی حماہ، ادلب کی سرحد، لطانیہ، درعا، حمص، مشرقی غوطہ یعنی دمشق کا مشرقی علاقہ، یہ سب جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ تدمر کے گرد ونواح میں بھی جنگ چل رہی ہے اور شمالی علاقے میں کردوں اور داعش کی جنگ الگ ہے۔
٭٭٭٭٭
شام کی جنگ کا اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھے، بشار حکومت اب نہیں رہ سکتی۔ کسی بھی کروٹ سے مراد یہ ہے کہ شام متحد رہتا ہے یا تقسیم ہو جاتا ہے۔ تقسیم کا امکان زیادہ ہے کیونکہ امریکہ اور در پردہ روس کی بھی یہی تمنا ہے۔ متحد رہا تو بھی کرد اپنے علاقے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ عراق کے سب سے طاقتور مذہبی رہنما مقتدی صدر نے بھی گزشتہ روز مطالبہ کر دیا کہ بشار الگ ہو جائیں۔ اس میں بھی زیادہ اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ طاقتور صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون نے روس کو پہلی بار واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ بشار کی مدد کرنا چھوڑ دے۔ فی الحال پابندیوں پر اتفاق نہیں ہوا۔ مستقبل میں جی سیون اس مسئلے پر روس کے خلاف نئی پابندیاں لگا سکتا ہے۔ وہ پہلے ہی پابندیوں سے بے حال ہے اور دنیا کے مفلس ترین ملکوں میں شامل ہو چکا ہے۔ نئی پابندیاں اس کے لئے مزید تباہ کن ہوں گی۔

روس کی فوج 19 لاکھ ہے لیکن میدانی جنگ لڑنے کے قابل نہیں۔ تین سال سے وہ یوکرائن کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور کوئی کامیابی نہیں مل رہی۔ یوکرائن کی جنگ اس لئے ہے کہ اس ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں روسی نسل والوں کی اکثریت ہے چنانچہ انہوں نے بغاوت کرکے اپنے علاقوں میں الگ حکومت بنائی۔ یوکرائن کی فوج حرکت میں آئی اور بیشتر علاقے واپس لے لئے۔ پندرہ فیصد کے قریب رقبہ البتہ بدستور روسیوں کے پاس رہا۔ روس تین سال سے جنگ کر رہا ہے تاکہ جو علاقے یوکرائنی فوج نے واپس لئے انہیں پھر سے چھینا جا سکے لیکن بات ذرا بھی نہیں بنی۔ روس نے امریکہ کو محاذ آرائی کی دھمکی دی ہے لیکن وہ اس دھمکی پر عمل نہیں کر سکے گا۔ کچھ میزائل شاید داغ دے لیکن دو بدو جنگ کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ شام آسان ہدف تھا، وہاں لڑنے بھڑنے کا کام اتنا نہیں تھا، بس فضا سے بمباری کرنی تھی اور وہ اس نے خوب کی لیکن کوئی باغیوں کو طیارہ شکن میزائل دے دے، پھر روس دودن سے زیادہ کیا ٹکے گا۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ بشار کے بعد شام کا کیا بنے گا۔ مذکراتی عمل سے کوئی عبوری حکومت نہ بن سکی تو ایک شام کی جگہ چار شام نقشے پر نظر آئیں گے۔
٭٭٭٭٭
روسیوں اور یوکرائینوں کی دشمنی نئی نہیں، بہت پرانی ہے دوسری جنگ سے کچھ پہلے سوویت یونین کے دور میں سٹالن نے ایک کروڑ یوکرائنی باقاعدہ منصوبہ بنا کر مار ڈالے تھے۔ اس واقعے کو ''ھولو ڈومر''کہا جاتا ہے۔ جب ہٹلر نے روس پر حملہ کیا تو پہلے ہی ہلے میں وہ روسی فوج کو گھدیڑتے ہوئے لینن گراڈ تک لے گیا۔ یوکرائنی عوام پھولوں کے ہار لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے نجات دہندہ جرمن فوج کے راستے میں پھول نہیں، پلکیں بچھائیں اور بہت جشن منایا لیکن ان کی بدقسمتی یہ کہ جرمن فوج نے بھی ان کا قتل عام کیا۔ یہودی تو بنا کسی الزام کے ہی مار دئیے لیکن یوکرائینوں کو کبھی کمیونسٹ تو کبھی روس کا مخبر قرار دے کر مارا جاتا رہا۔ بہت سے یوکرائنی روسیوں اور جرمنوں دونوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن روس سے کہیں زیادہ، کیونکہ انہوں نے تو ایک کروڑ آبادی صاف کردی تھی، جرمنوں نے تو پھر بھی چند لاکھ مارے۔ ایک بات جو ہمارے میڈیا میں نہیں آئی، وہ ہے کہ یوکرائن کی فوج کی ایک بڑی بٹالین کا نام ''اسلامک بٹالین'' ہے۔ جو مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ روس جب بھی یوکرائن پر حملہ کرتا ہے تو سب سے پہلے مسلمانوں ہی کی خبر لیتا ہے۔ کریمیا جو اصل میں یوکرائن کا حصہ تھا، تاتاری مسلمانوں کا ملک تھا۔ سٹالن نے یہاں نسلی صفائی کی اور تھوڑے سے مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی سب کو سائبیریا بھیج دیا۔ لاکھوں کے حساب سے اور ان میں ایک بھی زندہ نہیں بچا۔
٭٭٭٭٭
ہمارے ٹی وی چینلز پر بیٹھے مبصرین بہت زیادہ باخبر ہیں۔ دنیا نہ سہی، کم از کم علاقے بھر میں ان کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ یہاں تک باخبر کہ باخبری کی منزل سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک باخبر نے درد مندانہ لہجے میں اپیل کی کہ سعودی اتحاد میں یمن کو بھی شامل کیا جائے۔ دوسرے صاحب نے تیسری جنگ عظیم کی اطلاع دی اور کہا کہ شام، یمن اور جنوبی چین کے سمندر سے یہ تیسری جنگ شروع ہوگی۔ اب یمن کا معاملہ یہ ہے کہ شروع دن سے سعودی اتحادی ہے بلکہ اس کے تین چار بانیوں میں سے ہے۔ باقی ملک تو بعد میں شامل ہوئے۔

رہی تیسری جنگ تو کیا پتہ، چھڑ ہی جائے لیکن مسلمانوں کو اس سے کیا لینا دینا۔ مسلمانوں کے لئے تو تیسری جنگ اس لئے بے معنی ہے کہ وہ دو صدیوں سے جنگ عظیم میں مبتلا ہیں۔ لاشوں کے ڈھیر ہردن لگ رہے ہیں اور ہر جگہ لگ رہے ہیں۔ لیبیا میں، نائجیریا میں، چاڈ میں، مصر میں، فلسطین میں، عراق میں، شام میں، ترکی میں، افغانستان میں، یمن میں، سوڈان میں، وسطی افریقہ میں، صومالیہ میں، کشمیر میں، برما میں، فلپائن میں، کاکیشیا میں، نقشے پر ان ملکوں کو تلاش کیجئے جہاں ہر دن لاشوں کے مینار بلند ہو رہے ہے۔ بھارتی حکمران جماعت کے لیڈروں نے فتویٰ دے دیا ہے کہ گائے کی خاطر جتنے بھی مسلمان مار دئیے جائیں، ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہاں بھی لاشوں کی گنتی شروع ہونے کا انتظار کیجئے۔ جنگ عظیم کی طرح اسلامی فوج پر بحث بھی خاص معنی نہیں رکھتی۔ اسلامی کانفرنس کی تنظیم پہلے سے قائم ہے اور خوب ''بامعنی'' ادارہ ہے، ایک بامعنی ادارہ اور بن جائے گا تو کسی کا کیا جائے گا۔ بشکریہ "روزنامہ 92 نیوز"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے