امام حرم مکی شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب پاکستان سے محبتیں سمیٹ کے واپس حرمین شریفین پہنچ گئے ہیں۔ امام کعبہ کو اہل پاکستان سے جو محبت اور پیار ملا اور جس طرح ان کا فقید المثال اور پرتباک استقبال کیا گیا اسکی نظیر نہیں ملتی۔ لاہور کے فرزندان توحید کی حالت تو اس شعر کے مصداق تھی کہ دل محو انتظار ہے آنکھیں ہیں فرش راہ، آؤ کبھی تو چاہنے والوں کے شہر میں۔

شیخ صالح آل طالب انتہائی معتدل اور نفیس شخصیت کے مالک ہیں۔ انتہائی بر محل اور دھیمے لہجے میں گفتگو ان کا خاصہ ہے۔ ان کی ذہانت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہ ’’تہذیب و ثقافت کی اشاعت میں مسجد الحرام کا کردار‘‘ ’’نو مسلموں کے احکام‘‘جیسی شہرہ آفاق کتب کے ساتھ ساتھ دیگر کتابوں کے بھی مصنف ہیں۔ پاکستان آمد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث کی طرف سے شائع کردہ ان کے 33 خطبات پر مشتمل کتاب جب انہیں پیش کی گئی تو وہ بڑے حیران ہوئے انکی خوشی دیدنی تھی۔

امام کعبہ کا دورہ پاکستان ایسے حالات میں ہوا، جب حرمین شریفین کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی عساکر کی صف بندی جاری ہے اور جس عساکر اتحادکی سربراہی کا اعزاز جنرل ( ر) راحیل شریف کی صورت میں پاکستان کو حاصل ہو چکا ہے۔ مکہ کی مسجد حرام اور مدینہ کی مسجد نبوی کا اسلام میں نہایت بلند مقام ہے کیونکہ حج اور عمرہ مکہ میں ادا کیا جاتا ہے جبکہ ہجرت، اسلامی ریاست کی بنیاد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ مدینہ منورہ میں ہے۔ اسلام کے آغاز سے لیکر آج تک حرمین شریفین کی حفاظت، مرمت اور دیکھ بھال تمام مسلمان ملکوں کی اولین ذمہ داری چلی آ رہی ہے۔ یہ ذمہ داری صرف ظاہری دیکھ بھال تک محدود نہیں بلکہ ان مقدسات کی طرف اٹھنے والی ہر بری آنکھ سے محفوظ رکھنا بھی تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور محبت کا محور حرمین شریفین ہے جس سے ہر کلمہ گو کی عقیدت ومحبت لا زوال ہے۔ شاہ فیصل شہید عرب حکمرانوں میں اپنی مثال آپ تھے اور آپ کو قرآن و سنت سے والہانہ عقیدت تھی امت کے اتحاد کا درد تھا۔ اس لئے انہوں نے او آئی سی کی سطح پر مسلمان ممالک کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج عالم اسلام اور بالخصوص سعودی عرب اور حرمین شریفین کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان مذموم حالات سے نمٹنے کے لئے اسلامی فوجی اتحاد ناگزیر ہو گیا تھا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہ فیصل مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی عساکر کے اتحاد کی تشکیل کرکے احسن اقدا م اٹھایا ہے اور پھر39 ممالک کی مشترکہ اسلامی فوج کی سربراہی کے لئے جنرل (ر) راحیل کا چناؤ کرنا بلاشبہ پاکستان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں سمیٹیں اور مسلح افواج بلکہ عوام کے بھی دل جیت لئے۔ بعض سیاستدانوں اور تجزیہ نگاروں نے اس اتحاد پر بڑی تنقید کی اور پرائی جنگ میں حصہ نہ لینے کے بڑے بھاشن دیے اور راحیل شریف کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، ان میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو بطور آرمی چیف انکے قصیدے پڑھا کرتے تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کی جنگ کو پرائی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم نے ایک فرقہ وارانہ ملک کے مفادات کا نگہبان بنناہے کہ پاکستان کا؟ یقینا جو بھی سچا پاکستانی ہو گا وہ پاکستان کے مفادات کی بات ہی کرے گا۔ اس موقع پر ہمیں سعودی عرب کے احسانات نہیں بھولنا چاہیے۔ پاکستانی عوام اور اسکے ادارے ضمیر فروش ہیں اور نہ ابن الوقت کہ افتاد اور مصائب کے موقع پر ہم اپنے محسن ملک کو بھول جائیں۔ کسی ایک آدھ ملک کے مفاد پر امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ امام کعبہ نے بھی اپنے دورے کے دوران مختلف اجتماعات اور وفود سے گفتگو میں اسی عزم کا اظہار کیا کہ مقدس مقامات کی حفاظت ودفاع تمام مسلمانوں پر فرض اور واجب ہے۔ہر معاملے میں درگزر کیا جا سکتا ہے مگر ہم مقدس مقامات کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ اس لئے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سعودی عرب اور پاکستان میں دہشت گردی ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔دشمن نہیں چاہتا کہ یہ دونوں ملک ترقی کریں۔اس لئے دہشت گردی کی سر پرستی کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف امت مسلمہ دہشت گردی کا شکار ہے تو دوسری طرف اسے کچلنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر چال چلی جا رہی ہے۔اسی لئے اسلامی عسکری اتحاد قائم کیا گیا ہے۔ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف یا حفاظت کے لئے نہیں بلکہ دہشت گردی خلاف قائم کیا گیا ہے۔ ہم امن و محبت والی امت ہیں نہ کہ قتل و غارت کو فروغ دینے والوں میں سے۔ ہمیں دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔ جن اسلامی ممالک میں شورش برپا ہے اور ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کی عوام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت سے محبت کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ علماء کرام دین کی تعلیمات کے امین ہیں۔تمام مسلمان فرد واحد ہیں۔ قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقہ واریت میں نہ پڑو۔اسلام امن و محبت کا دین ہے،جس سے خیر کا کام لینا چاہیں اسے دین کی سمجھ عطاء کر دیتے ہیں۔ جو لوگ دین میں فرقہ واریت پیدا کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

پھر فرمایا کہ جس میں تقوی زیادہ ہے اللہ کے ہاں اس کابلند مقام ہے۔ قرآنی تعلیمات اور اسوہ حسنہ میں ہی فلاح ہے۔اسلام امن و محبت کا دین ہے۔ اس امت کو اللہ نے بہترین امت بنایا ہے۔خدائی وحدانیت پر یقین ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی سنایا کہ قیامت کے روز حدیث سے محبت کرنے والوں کے چہرے چمک رہے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت عالم اسلام پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائیں اور عالم اسلام کی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ پھر فرمایا کہ دینی مدارس خیر کا سبب ہیں اور دین کی تعلیم پہنچانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں۔

دہشت گردی معاشرے اور ملک کو اقتصادی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔لہذا آج تمام مسلمان مل کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ہم سب کو معلوم ہے کہ ہماری زندگی کی بنیاد اور ترقی کا دار ومدار قرآن و سنت پر ہے اور قرآن و سنت ہمیں اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہؓ کے ذریعے ملی ہے۔ اگر صحابہؓ پر اعتماد ختم ہو گیا تو سارا دین مجروح ہو جائے گا۔ اس لئے ہمارے نبی ﷺ اور صحابہؓ کے درمیان رشتوں کو کاٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان رشتوں کو ہم نے مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے بہت سی دعائیں بھی مانگیں جس میں ایک خواہش یہ بھی تھی کہ یا اللہ وہ وقت جلد لا کہ ہم سب بیت ا لمقدس میں نماز ادا کرسکیں۔ انہوں نے فلسطین، کشمیر، عراق ،شام، اراکان ،افغانستان میں مظلوم مسلمانوں کے لیے بھی دعائیں کیں۔

انہوں نے مرکز اہل حدیث میں منعقدہ علما کنونشن سے خطاب میں فرمایا کہ ’’اہل حدیث ہی تو اہل النبی ہیں، اہل حدیث ہی حقیقت میں احباب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اہل حدیث ہی اللہ کے پیارے ہیں، آپ کے فخر کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ اہل الحدیث ہیں،مزید فرمایا کہ قیامت کے روز انکے چہرے حدیث کی محبت کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے۔‘‘ بلاشبہ امام کعبہ شیخ صالح آل طالب کے دورہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اک نئی روح پھونک دی ہے۔ امام کعبہ کی وسعت نظری، عالمی حالات سے آگاہی، مختلف ممالک کی داخلہ و خارجہ پالیسی سے واقفیت اور ان پر مہارت کی وجہ سے انہوں نے بہت سی منفی قوتوں کی طرف مخصوص انداز میں شر کو پھیلانے کی کوشش کو بڑے حکیمانہ انداز و استدلال سے ناکام بنایا۔ امام کعبہ نے جس اسلوب سے حرمین سے عقیدت و محبت کا اظہار اور دفاع حرمین کی خاطر والہانہ انداز میں اپنی جانیں تک قربان کرنے کا عہد کیا واقعتا اس کی نظیر نہیں ملتی۔

فرزندان توحید نے دل کی گہرائیوں سے انہیں اہلاو سہلا ومرحبا کہا، امام محترم کی آمد سے پاکستانی فضا ء معطرو منور ر ہی۔ وطن کی فضائوں می ںاتحاد و یگانگت، امن وسکون کی باد نسیم چلتی رہی۔ دین سے محبت رکھنے والوں کے چہرے امام محترم کی آمد کے باعث کھل اٹھے۔ امام کی آمد سے قرآن وسنت کے حاملین کو نئی تقویت اور حوصلہ ملا، مدارس و مکاتب کے طلباء، آئمہ کرام اورخواص و عوام میں جذبہ عقیدت کو نئی جلا ملی۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دراڑیں ڈالنے والے خواب ہمیشہ کی طرح چکنا چور ہوئے، منفی قوتوں کے عزائم اسی وقت خاک میں مل گئے جب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے حرمین شریفین کے دفاع اور سعودی عرب کی سالمیت کی خاطر اسلامی عسکری اتحاد میں شامل ہو کر مثالی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام استعماری قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ’’سعودی عرب کی سالمیت پر حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے