بلگن آکسوئے کو ہمیشہ سیاست میں دلچسپی رہی ہے۔ اسے ریفرنڈم کی مہم میں بھی فعال ہونا چاہیے تھا لیکن اب اس کا سارا وقت اپنے شوہر کو رہا کرانے کی کوشش پر صرف ہوجاتا ہے، جسے گذشتہ گرمیوں کے ناکام انقلاب کے بعد کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اب اسے ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں 45سال قید کی سزا دیئے جانے کا سامنا ہے۔

ترکی کے ماضی قریب میں پیش آنے والے واقعات کا تاریک سایہ اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم پر پڑے گا، جس میں رجب طیب ایردوآن اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان واقعات میں ہنگامہ خیز قومی تقسیم، جلاوطن دانشور فتح اللہ پر بغاوت کا الزام (جس کی وہ تردید کرتے ہیں)، بڑے پیمانے پر لوگوں کی گرفتاریاں، کردوں کے خلاف جنگ اور داعش پر بمباری شامل ہیں۔

ترک آئین میں مجوزہ تبدیلیوں میں عہدہ صدرات کی موجودہ رسمی حیثیت کو کاروبار حکومت میں بالادست بنانا، وزیراعظم کا عہدہ ختم کرنا اور پارلیمنٹ کے ان اختیارات کو محدود کرنا شامل ہے جن کے تحت وہ قوانین اور سربراہ مملکت کے افعال کی جانچ پڑتال کرسکتی ہے۔

اکتیس سالہ آکسوئے نے استنبول میں اپنے گھر میں بات چیت کرتے ہوئے کہا: ''آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب نئے طرز کی سیاست کا دور دورہ ہے جس کی نوعیت ہم بہت سوں کے نزدیک ذاتی ہے۔ اب ہم ہر دن اسی کے زیر اثر جی رہے ہیںَ میری حالت یہ ہے کہ ہفتے میں ایک دن جیل میں اپنے شوہر سے ملاقات کرنے جاتی ہوں اور باقی دن ان کے کیس پر کام کرتی ہوں۔ اس کے ساتھ ہمیں زندہ رہنے کے لئے بھی ہاتھ پاؤں مارنا پڑتے ہیں۔ مجھے تین بچوں کی دیکھ بھال تنہا کرنا پڑتی ہے۔'' آکسوئے نے ریفرنڈم کے بارے میں کہا: ''ریفرنڈم بہت اہم ہے، ماضی میں جلسے جلوسوں میں جایا کرتی تھی اور ہینڈل بل تقسیم کرنے میں مدد بھی کیا کرتی تھی لیکن اب مجھے ذاتی مسائل پر توجہ دینا پڑتی ہے۔ البتہ میں ووٹ دوں گی اور میرا ووٹ ''نہیں'' (No) ہو گا۔ میرا خیال یہ ہے ک ایک فرد کو ،بالخصوص اس شخص (ایردوآن) کو زیادہ کنٹرول دینے کے لیے قانون تبدیل کرنا خطرناک ہو گا ۔''

بلگن آکسوئے کا شوہر دمیر سول سرونٹ تھا، گزشتہ سال اکتوبر میں پولیس نے رات کے وقت ان کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا ور اسے گولن کا خاموش حامی ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے لے گئی ۔اسے بھی ووٹ دینے سے محروم نہیں رکھا جائے گا بلکہ جیل میں تمام قیدیوں کو بیلٹ باکس فراہم کیے جائیں گے ۔ وہ جج جو دمیر کے کیس کی تفتیش کر رہا تھا ایک دوسری جیل میں ہے، اسے بھی ووٹ کا حق دیا جائے گا۔ اس جج کو دسمبر میں گولن کا مبینہ حامی ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ناکام بغاوت کے دوران ایک لاکھ بیس ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں نصف سے زائد اب بھی حراست میں ہیں ۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال 150 نئی جیلیں تعمیر کرنے کی ضرورت ہو گی۔ آکسوئے کی ہمسائی زینب مارنگوز استنبول کے امیروان ڈسٹرکٹ میں رہتی ہیں ، نہیں (No) مہم میں شامل رہی ۔ یہ ایک مشکل کام کام تھا۔ 23 سالہ اس طالبہ نے کہا: ''سب کچھ دوسرے فریق کی حمایت میں کیا گیا۔ پوری تشہیری مہم، ٹی وی پروگرام اور اخبارات صدر کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ہمارے لیے مشکلات کھڑی کی گئیں، اپنے جلسوں کے لیے ہال کرائے پر لینا بھی ہمارے لیے مشکل بنا دیا گیا ۔ میرا خیال ہے کہ ان حالات میں ہم نے بہت اچھا کام کر لیا ہے، ہمارا خیال ہے کہ بہت سے لوگ سروے کرنے والوں کو یہ بتانے میں پریشانی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا ووٹ ''نہیں''میں ہو گا ۔''

حالیہ سورے ''ہاں''(Yes) کی فتح کی نوید سناتے ہیں۔ کوندا کمپنی کے نتائج کے مطابق ٹرن آوٹ 90 فیصد ہو گا جن میں سے 51.5 فیصد ''ہاں'' اور 48.5 فیصد ''نہیں'' کے لیے ووٹ دیں گے۔ ایک اور کمپنی گیشی کے مطابق 51.3 فیصد ''ہاں'' اور 48.7 فیصد ''نہیں'' میں ووٹ پڑیں گے۔ لیکن حال ہی میں بریگزٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کے دوران عالمی سطح پر جو سروے کئے گئے وہ درست ثابت نہیں ہوئے، اس لیے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے اس پہلو کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔

صدر ایردوآن کے مخالفین نے میڈیا کو ریج میں عدم توازن کے بارے میں بار بار شکایات کیں۔ ریفرنڈم کا اعلان ہونے سے پہلے ہی صدر کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے حکم جاری کر دیا جس کے تحت الیکشن کے دوران امیدواروں کو مساوی ائیر ٹائم دینے کا ضابطہ معطل کر دیا گیا۔ اس کی ایک مثال اپوزیشن پارٹی سی ایچ بی کے جنرل چیئرمین کمال کلج اوگلو کی ہے جنہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی کو انٹرویو دیا تو اسے روک دیا گیا اور اس دوران ایردوآن کے ایک جلسے کی لائیو کوریج کی جاتی رہی۔ حکومت اور اپوزیشن کی تشہیری مہم کا فرق بھی استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر واضح تھا جہاں ایردوآن کے بڑے بڑے پوسٹر آویزاں کئے گئے جبکہ وزیراعظم بنالی یلدرم کی تصاویر خال خال نظر آئیں۔

اپوزیشن کے پوسٹروں میں ایک نوجوان لڑکی کا ہے جس کے پس منظر میں سورج طلوع ہو رہا ہے اس پر نعرہ درج ہے کہ ''ہمارے مستقبل کے لیے ''نہیں'' کو ووٹ دو۔'' اس پوسٹر کو نمایا ں مقامات پر چسپاں نہیں کرنے دیا گیا، اسے دیواروں کے نچلے حصوں پر جگہ دی گئی۔

''نہیں''مہم کے کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے لیڈروں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ان میں سیکولر پارٹی سی ایچ پی کے سیرا کادی گل اور کردوں کی پی ایچ ڈی پی پارٹی کے صلاھ الدین دیمرس اور فگن کے نام نمایاں ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کی بھی بہت شکایات ہیں۔ ریفرنڈم کو چیلنج کرنے قوم پرسٹ لیڈر میرل اکسنر کے جلوس پر ایک ہجوم نے حملہ کر دیا اور انہی کے ہوٹل میں منعقد ہونے والے ایک جلسے کو بجلی بند کر کے خراب کیا گیا۔ ان مشکلات کے باوجود اپوزیشن کے جلسے اور جلوس آخری دن تک جاری ہے جن میں پیغام دیا گیا کہ ایردوآن کی فتح ملک کو مزید تقسیم کر دے گی۔ اپوزیشن لیڈر سکرویلسن کا کہنا ہے کہ ''ملک میں مزید پولرئیزیشن بڑھانے کی کوئی تک نہیں، وہ (ایردوآن) پہلے ہی خلاف قانون کام کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آٹھ کروڑ لوگوں پر حکمرانی کا حق ایک فرد کی سوچ دینا مناب نہیں ہے ۔''

حکمران پارٹی اور ''ہاں'' (Yes) مہم چلانے والوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی مخالفین کے پیچھے ''غیر ملکی ہاتھ'' کار فرما ہے۔ تنقید کے جواب میں اس طرح کا موقف اختیار کرنا حکمران جماعت کا معمول ہے۔ جرمنی میں اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا جواب ایردوآن نے ایک عوامی اجتماع میں دیا کہ ''ہم نازیوں کے پوتوں/پوتیوں کو شکست دیں گے۔ چند فاشٹ ترکی کا وقار تباہ نہیں کر سکیں گے۔'' اسی طرح یلدرم نے خبردار کیا کہ ''ہم اپنی ووٹنگ میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے، انہیں ہمارے جمہوری عمل میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ باہر والے (غیر ملکی) اپنے کام سے کام رکھیں۔ یورپ اپنے معاملات دیکھے۔''

''ہاں'' مہم نے ترکی کو مغربی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑا کرنے پر بہت زور دیا ہے جس کا ووٹروں پر خاطر خواہ اثر بھی پڑا، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پہلے ایردوآن کے حامی نہیں تھے۔ مثلاً 43 سالہ سلیم عبدالحمید کا تعلق اناطولیہ سے ہے اور جو تعمیراتی کاموں کے ٹھکیدار ہیں نے کہا ''میرے خاندان کا تعلق قدامت پسند علاقے سے ہے، ماضی میں مجھے ایردوآن اور ان کی اے کے پی پارٹی سے کوئی سروکار نہیں تھا، لیکن میں نے دیکھا کہ یورپ اور امریکہ میں بہت سے لوگ بغاوت کے حامی ہے۔ اس کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کرنے والا گولن امریکہ میں محفوظ ہے۔ اس پر میں نے سوچنا شروع کیا کہ مغرب والے جمہوریت کے بارے میں صرف سوانگ رچاتے ہیں جبکہ ایردوآن کو کرد اور داعش کے دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس لئے ہمیں ایک مضبوط لیڈر درکار ہے۔'' استنبول کے متین کایا کو کوئی شبہ نہیں کہ ''ایردوآن ایک شیر ہے۔ وہ ترکی کا ایسا دفاع کرے گا جو پہلے کوئی نہیں کرسکا۔ یورپ سلطنت عثمانیہ کے زمانے سے ہی ہمارے ماضی سے خوفزدہ ہے جس پر ہمیں فخر ہے اور آج وہی دور پھر آنے والا ہے۔ ہمیں مغرب کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔''

ان تعلقات کا تعلق کئی معاملات سے ہو گا۔ مثلاً یہ ہے کہ ایردوآن حکومت شام میں کیا کرتی ہے، وہ ان ہزاروں لاکھوں مہاجرین کے ساتھ کیا کرے گی جو ترکی کو یورپ جانے کے لئے گیٹ وے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ایردوآن اپنے ملک میں قانون کی حکمرانی اور حقوق انسانی کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ ترک ریفرنڈم کے ملک اور بیرون ملک دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
--------------
[یہ کالم پہلے برطانوی اخبار 'دی انڈیپنڈنٹ' میں شائع ہوا، جسے معاصر عزیز 'روزنامہ 92 نیوز' کے لئے ملک فیض بخش نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا]

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے