گذشتہ ہفتے کے روز حلب کے علاقے راشدین میں دہشت گردی کے حملے میں صوبے ادلب میں واقع دو قصبوں (دیہات ؟) الفوعہ اور کفریا سے بسوں کے ذریعے لائے گئے مکینوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ حملہ آج کے شام میں موجود گہری فرقہ ورانہ تقسیم کا مظہر ہے۔

الفوعہ اور کفریا کے مکین شیعہ ہیں اور وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔ان کا انخلا شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان چار قصبوں کے مکینوں کی دوسری جگہوں میں منتقلی کے لیے طے شدہ سمجھوتے کا حصہ تھا۔

اس سمجھوتے کے تحت دمشق کے نواح میں واقع دو قصبوں الزبدانی اور مضایا کے سنی مکینوں کو شمال مغربی صوبے ادلب میں منتقل کیا جائے گا جبکہ ادلب اور حلب کے دیہی علاقوں کے شیعہ مکینوں کو شام کے مغربی علاقے یا پھر شامی رجیم کے عمل داری والے علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔

بہ الفاظ دیگر شام میں یہ فرقہ وار تقسیم ہے اور آبادی کا مذہبی شناخت کی بنا پر ادل بدل کیا جارہا ہے۔اس طرح شام کے سماجی نقشے کو تبدیل کیا جارہا ہے۔یہ ایک بہت بڑا جرم ہے اور اس سے رواداری اور باہمی بقا کی بچی کچھی روایت کا بھی خاتمہ کیا جارہا ہے حالانکہ شامی صدیوں سے داخلی اور خارجی تنازعات کے باوجود اکٹھے رہتے چلے آرہے تھے۔

کفریا اور الفوعہ سے بسوں کے ذریعے نکال کر حلب لائے گئے افراد پر خودکش کار بم حملے میں 112 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان میں زیادہ تر ان دونوں دیہات کے مکین اور جنگجو تھے۔وہ راشدین سے حلب میں داخلے کے منتظر تھے جبکہ دمشق کے نواح میں واقع مضایا سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے جنگجو اور مکین چند میل دور واقع الراموسہ میں ایک بس اڈے پر منتظر تھے۔ مضایا کے ان مکینوں کو مسلح اپوزیشن کے زیر قبضہ ادلب منتقل کیا جانا تھا۔

انخلا کی سکیمیں

چار قصباتی ڈیل کے دو مراحل ہیں۔پہلے مرحلے میں الفوعہ اور کفریا کے تمام مکینوں کو وہاں سے نکالا جائے گا۔ان کی تعداد سولہ ہزارنفوس کے لگ بھگ ہے۔دوسرے مرحلے میں مضایا اور الزبدانی کے مکینوں کا انخلا ہوگا۔

شامی حزب اختلاف نے اس کو درست طور پر جبریہ دربدری قرار دیا ہے۔اس کے بہ قول اس کے تحت مغربی شام کے شہری مراکز سے صدر بشارالاسد کی مخالفین کو جبری طور پر بے دخل کیا جارہا ہے۔

الفوعہ اور کفریا کے مکینوں یا جنگجوؤں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے،وہ ایک واضح جرم ہے۔اللہ معاف فرمائے مضایا اور الزبدانی سے تعلق رکھنے والے مکینوں اور جنگجوؤں پر بھی اس طرح کا حملہ ہوسکتا ہے اور یہ متوقع بھی ہے کیونکہ اسد رجیم اور ان کی اتحادی ملیشیائیں جوابی حملہ کرسکتی ہیں۔

تاہم سب سے بڑا جرم تو گہری ہوتی فرقہ ورانہ تقسیم ہے۔اس کے تحت ملک کا جغرافیہ اور آبادی کا توازن تبدیل کیا جارہا ہے۔

شامی شناخت کی دربدری

فرقہ ورانہ بنیاد پر آبادی کی یہ سفاکانہ تقسیم پوری دنیا کی نظروں کے سامنے ہورہی ہے۔یہ سب ہمارے اس زمانے میں ہورہا ہے جب ہم یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے اور دعوے کررہے ہیں کہ اس طرح لوگوں کو دربدر کیے جانے اور نسلی بنیاد پر تطہیر کا عمل قرونِ وسطیٰ کے دور میں ختم ہوگیا تھا۔

شامی رجیم ، اس سے وابستہ ملیشیائیں ، ایرانی ٹھگ اور صدر ولادی میر پوتین کی فورسز نے النصرۃ محاذ ،القاعدہ اور داعش کے ساتھ مل کر ان چاروں قصبوں کو اس صورت حال سے دوچار کیا ہے۔ یہ تمام شام کی تاریخی اور مہذب شناخت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔چار قصباتی ڈیل دراصل شام کے لیے نئی شرمناکی کی عکاس ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے