اسرائیلی اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے یہودی دانشوروں میں چند ایک، مگر نمایاں آوازوں نے اسرائیل کے ماضی کو کھنگالنے کا حوصلہ کیا ہے۔

انھوں نے اسرائیل کی پیدائش، 1967ء اور اس کے بعد میں فلسطین پر قبضے سے متعلق تاریخ کے اس ورژن کے بارے میں درست طور پر سوالات اٹھائے ہیں جس کو اسرائیل اور مغرب میں سچ سمجھ کر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

یہ دانشور ،جن میں مورخ ،صحافی اور ماہرین تعلیم شامل ہیں، جہاں کہیں بھی جاتے ہیں، فلسطینی ،اسرائیلی مباحثے پر ایک نشان چھوڑ رہے ہیں۔ان کی آوازیں اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہیں کہ وہ اسرائیلی سچائی اور تاریخی قصے کہانیوں کو چیلنج کررہی ہیں اور انھیں ضروری جگہ دینے کی ضرورت ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی بیانیے پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے؟ ڈونا نیویل نے ایک پیش لفظ میں اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے کہ فلسطینی تنازعے پر بحث کا آغاز 1967ء کی جنگ اور قبضے سے ہوا تھا۔

وہ نام نہاد ترقی پسند صہیونیوں کی ناقدہ ہیں کیونکہ وہ صرف قبضے کے سوال پر گفتگو پر اصرار کررہے ہیں اور اس طرح وہ دو ریاستی حل کے کسی امکان کو محدود کردیتے ہیں۔اس سے نہ صرف یہ ’’حل‘‘ ازکار رفتہ اور عملی طور پر ناممکن ہوجاتا ہے بلکہ نکبہ یا 1948ء کے المیے پر بات چیت کو بھی خارج از امکان قرار دے دیا جاتا ہے۔

اس سے کئی ایک سوالات جنم لیتے ہیں۔وہ یہ کہ قریباً ستر سال قبل فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کو کیوں اب تک نظرانداز کیا جاتا رہا ہے؟ پانچ سو دیہات کی تباہی اور ایک پوری قوم کی نسلی تطہیر کیوں غیر متعلقہ ہے حالانکہ وہ جاری المیے کی سب سے بڑی علامت ہے۔

نیویل لکھتی ہیں:’’ نکبہ ان کی گفتگوؤں کا موضوع نہیں بنتا کیونکہ یہ صہیونیت کا ورثہ اور واضح اظہاریہ ہے۔ جو نکبہ کو نظر انداز کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور صہیونی اور اسرائیلی مسلسل ایسا ہی کرتے چلے آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ صہیونیت کواس کے آغاز سے ہی غیر قانونی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں‘‘۔

واپسی کے لیے مارچ

اسی سبب حال ہی میں اسرائیلی پولیس نے ’’ واپسی کے لیے مارچ‘‘ کو روک دیا تھا۔اسرائیل میں فلسطینی یہ مارچ ہر سال کرتے ہیں۔اسرائیل برسوں سے اس بات پر نالاں ہے کہ فلسطینیوں ،اسرائیلیوں اور دنیا بھر کے دوسرے لوگوں میں فلسطین میں تنازع کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے نظریاتی تبدیلی کی تحریک بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

یہ نئی سوچ امن عمل کے خاتمے اور دو ریاستی حل کے معدوم ہونے کا منطقی نتیجہ ہے۔اسرائیلی حکومت نے جب یہ دیکھا کہ وہ اپنی بنیاد سے متعلق قصے کہانیوں کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتی ہے اور وہ کوئی متبادل بھی پیش نہیں کرسکتی ہے تو اس نے اپنے خلاف بڑھتی ہوئی تحریک کو جبر وتشدد کے حربوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ہے۔وہ ان لوگوں کو سزائیں دے رہی ہے جو نکبہ کے منانے پر اصرار کرتے ہیں۔ان تنظیموں پر جرمانے عاید کررہی ہے جو ایسے واقعات اور مظاہروں میں حصہ لیتی ہیں اور جو کوئی یہودی شخص یا گروپ اس کی سرکاری سوچ سے انحراف کرتا ہے تو اس پر غدار ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

جوناتھن کک نے الجزیرہ کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’’ واپسی کے لیے مارچ اسرائیلی حکام کی چیرہ دستیوں اور ستم رانیوں کے باوجود گذشتہ چند برسوں سے اپنے حجم کے لحاظ سے بڑھتا چلا جارہا ہے‘‘۔

اسرائیلی حکومت اپنے التباسوں کی مزید تحقیق پر ہی اصرار کررہی ہے۔اس نے نکبہ کو نظرانداز کرنے اور فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کو اپنی فتح قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کو پچاس سال قبل بیت المقدس ، غربِ اردن اور غزہ کی پٹی پر غیر قانونی فوجی قبضے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے بلکہ وہ اس قبضے کو ایک فتح کے طور پر مناتی ہے۔

اسرائیلی تبصرہ نگار گدون لیوی نے اخبار ہارٹز میں لکھا ہے:’’ جو ریاست قبضے کا پچاس سالہ جشن مناتی ہے،وہ ایک ایسی ریاست ہے جو سمت کا احساس کھو چکی ہے،اس کی برائی اور اچھائی میں تمیز کرنے کی صلاحیت مفلوج ہوچکی ہے‘‘۔

’’ اسرائیلی فی الواقع کس چیز کی خوشی منا رہے ہیں؟ پچاس سال تک خونریزی، ناروا سلوک ، جارحیت اور بے جڑ ورثے کی خوشی؟ وہی معاشرے اس طرح کی سالانہ تقریبات مناتے ہیں جن کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا‘‘۔

لیوی یہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ تو جیت لی تھی لیکن کم وبیش سب کچھ ہار دیا تھا۔اس کے بعد سے اسرائیل کے تکبر و رعونت ، بین الاقوامی قانون کی بے توقیری ،دنیا کی مخالفت اور ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب یہ اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے۔

اس دوران میں فلسطینی اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور عالمی برادری کی جانب سے اپنے ہی قوانین کے نفاذ میں ناکامی کا خمیازہ بھگتتے چلے آرہے ہیں۔فلسطینی قیادت کچھ بھی ہوسکتی ہے لیکن اس معاملے میں بالکل بے گناہ ہے۔اس نے گذشتہ برسوں کے دوران میں غیر ذمے دارانہ طرز عمل ،بے نتیجہ امن بات چیت اور بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں سے فلسطینی کاز کو بہت حد تک نقصان پہنچایا ہے۔

یہی سبب ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے ازکار رفتہ بے ضرر سیاسی کردار سے دستبردار ہونے یا متروک زبان کو خیرباد کہنے کو تیار نہیں ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے وجود کا انصار پرانے طرز عمل کو برقرار رکھنے ہی میں مضمر ہے۔

لیکن فلسطینیوں کو آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بیانیے سے چھٹکارا پائیں جس میں 1948ء کے نکبہ کو تو غیر متعلقہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک متبادل بیانیے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے جس میں اسرائیل کے 1967ء کے قبضے ہی کو اہمیت حاصل ہے۔

فلسطینیوں کا سرکاری بیانیہ بعض اوقات عدم تسلسل اور الجھاؤ کا شکار رہا ہے۔تاریخی طور پر تنظیم آزادیِ فلسطین ( پی ایل او) کو امریکی اور بعض اوقات عرب دباؤ کے آگے جھکنے اور اپنے مطالبات کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

اوسلو معاہدہ

ان میں سب سے بڑی رعایت 1993ء میں دی گئی تھی جب پی ایل او نے اوسلو معاہدے سے اتفاق کیا تھا۔اس میں فلسطینی حقوق کا تعین اقوام متحدہ کی قراردادوں 242 اور 338 کی روشنی ہی میں کیا گیا تھا۔ایسا کرتے ہوئے پی ایل او باقی ہر چیز سے دستبردار ہوگئی تھی۔

یہ نہ صرف ایک بہت بڑی حماقت تھی بلکہ ایک تزویراتی غلطی بھی تھی اور فلسطینی آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔اب فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف جدوجہد کی تاریخ کی مختلف تعبیریں اور تشریحات کی جاتی ہیں جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ اس تنازعے کو صرف ایک طریقے ہی سے سمجھا جاسکتا ہے۔اس کا آغاز فلسطین اور برطانوی نوآبادی کے دور میں ایک سو سال قبل صہیونیوں کی آبادکاری سے ہوتا ہے اور اس کا انجام نکبہ تھا۔

فلسطینیوں کو اسرائیل کی تاریخ کی تعبیر کو تسلیم کرنے سے انکار کردینا چاہیے۔اسرائیل کی بیشتر تاریخ 1950ء کے عشرے میں اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین کے دور میں نہ صرف لکھی گئی تھی بلکہ اس انداز میں وضع کی گئی تھی کہ فلسطینیوں کے وجود ہی سے انکار کردیا جائے تاکہ ان کے مصائب ومشکلات کی کوئی اخلاقی یا قانونی ذمے داری نہ اٹھانا پڑے۔

فلسطینی قیادت دباؤ کے ہاتھوں مجبور ہونے ،خوف اور وژن کے فقدان کی وجہ سے ایک ٹھوس ،متحدہ اور معقول بیانیے میں نکبہ کی مرکزی حیثیت کو اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جدید فلسطینی تاریخ میں نکبہ کے سب سے نتیجہ خیز باب کی شمولیت کے بغیر فلسطینیوں کے درمیان حقیقی اتحاد قائم نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف سیاسی بلکہ جغرافیائی طور پر بھی منقسم ہیں۔اسرائیل نے بڑی بڑی دیواروں اور چیک پوائنٹس کے ذریعے ان کا طویل عرصے سے محاصرہ کررکھا ہے۔

2017ء فلسطینیوں کو ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس نکتے کو اجاگر کریں۔اس سال نمایاں ایام منائے جارہے ہیں۔اعلان بالفور کے 100 سال پورے ہورہے ہیں۔فلسطین کی تقسیم سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کو 70 سال پورے ہوجائیں گے اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو بھی پچاس سال مکمل ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ یوم النکبہ اور دوسرے ایام بھی آئیں گے۔

اگر مختلف النوع فلسطینی قیادتیں سیاسی طور پر متحد ہونے میں ناکام رہتی ہیں تو پھر بھی فلسطینیوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ان تاریخوں کے موقع پر ایک زخم خوردہ اور غیر مشخص بیانیے پر ہی متحد ہوجائیں۔

درحقیقت سال 2017ء کو ایک متحدہ فلسطینی مباحثے کو نظریاتی اور سیاسی خطوط پر ازسر نو وضع کرنے کا ایک موقع ہونا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر تاریخ کی دیانت دارانہ تفہیم ممکن نہیں اور نہ بہت سے گناہوں اور غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔

-------------------------------
ڈاکٹر رمزی بارود گذشتہ بیس سال سے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔وہ بین الاقوامی سینڈیکیٹ کالم نگار ،میڈیا مشیر اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔وہ ویب گاہ فلسطین کرونیکل ڈاٹ کام PalestineChronicle.com کے بانی مدیر ہیں۔ ان کی کتب میں ’’ جنین کی تلاش‘‘ ،’’ فلسطینی انتفاضہ دوم‘‘ ، ’’ میرا باپ ایک حریت پسند تھا‘‘ ،’’ غزہ کی ان کہی کہانی‘‘ نمایاں ہیں۔ان کی اپنی ویب گاہ بھی ہے جس پر ان کی تحریریں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔اس کا پتا یہ ہے:www.ramzybaroud.net
ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:@RamzyBaroud.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے