امام کعبہ الشیخ صالح محمد ابراہیم الطالب نے جے یو آئی کی صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان فرقہ واریت میں نہ پڑیں، اسلام امن و آشتی کا دین ہے، تفرقہ پھیلانے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ امام کعبہ کے ساتھ جے یو آئی کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے سعودی وزیر مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز بھی پاکستان آئے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ’’ہمارا فوجی اتحاد ’دشمنوں‘ کا مقابلہ کرے گا، کسی نے مسلمانوں پر میلی نظر ڈالی تو اس کی آنکھیں نکال دیں گے‘‘۔ اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہم سر کٹانے کے لیے تیار ہیں۔

ان تقاریر میں مختلف مسائل پر اظہار رائے کیا گیا ہے، سب سے پہلا اور اہم مسئلہ جس کا ذکر امام کعبہ نے کیا ہے وہ ہے مسلمان فرقہ واریت میں نہ پڑیں۔ امام کعبہ نے مسلم امہ کے ایک اہم اور بنیادی مسئلہ یعنی فرقہ واریت پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فرقہ واریت میں نہ پڑیں۔ امام صاحب کی یہ اپیل بروقت بھی ہے اور انتہائی اہم بھی ہے۔

فرقہ واریت کا زہر مسلمانوں میں جس گہرائی میں پھیلا ہوا ہے اس سے اجتناب کی اپیل بلاشبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے، لیکن اس حوالے سے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ فرقہ واریت کا زہر کیا عوام کا پھیلایا ہوا ہے یا اس نیک کام میں اسلامی ملکوں کے سربراہوں کا بھی ہاتھ ہے۔ فرقہ واریت کا مسئلہ کوئی نیا یا تازہ نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے۔ عرب اور عجم کی تفریق صدیوں پرانی ہے اور بدقسمتی سے اس ناسور کی پرورش خود مسلم حکمرانوں نے کی ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس طرز عمل سے دنیا بھر میں مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔

پاکستان جیسے پسماندہ ملکوں میں فرقہ واریت کا زہر بہت گہرائی تک پھیلا ہوا ہے ۔فرقہ واریت کا زہر اب کہاں تک پھیل چکا ہے اس کا اندازہ اس ناگوار اور بدترین صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم دنیا میں جو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی جاری ہے اس کی عمارت بھی فقہی اختلافات ہی پر تعمیر کی گئی ہے۔

مسجدیں، امام بارگاہیں جس طرح دہشت گردی کی شکار ہیں، اس کی بنیاد بھی فرقہ واریت ہی ہے۔ آئے دن مسلم ملکوں خصوصاً پاکستان، افغانستان، عراق، شام، یمن سمیت کئی افریقی ملکوں میں دہشت گردی کی جو شرمناک وارداتیں ہو رہی ہیں اور اب تک لاکھوں بے گناہ مسلمان مارے جا چکے ہیں جن میں مرد و خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں اس کے پیچھے بھی فرقہ واریت کا آسیب ہی موجود ہے۔

عراق اور شام میں اب تک لاکھوں شامی اور عراقی مسلمان جاں سے گئے ہیں کیا اس قتل عام میں فرقہ واریت کے تعصبات کارفرما نہیں ہیں، خود پاکستان میں اب تک لگ بھگ 70 ہزار مسلمان دہشت گردی کی نذر ہوچکے ہیں اور اس قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔ افغانستان میں آئے دن دہشت گردی کی جو خونیں وارداتیں ہو رہی ہیں اس کے پیچھے بھی فرقہ واریت کے جذبات کار فرما ہیں، یہی حال یمن، عراق اور شام کا ہے، جہاں کی قتل و غارت سے خوفزدہ عوام مغربی ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں ترک وطن کرکے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ شام اور عراق سے ترک وطن کرنے والے راستے ہی میں سمندر برد ہو رہے ہیں۔

اس خونیں پس منظر میں امام کعبہ کی اپیل بلاشبہ بڑی متاثر کن اور اہمیت کی حامل ہے لیکن کیا صدیوں کی گہرائی میں اترا ہوا یہ مسئلہ امام کعبہ کی اپیل سے حل ہو جائے گا؟ مذہبی انتہا پسند بزرگان دین کے مزارات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، لاہور کے داتا دربار، کراچی میں، شاہ نورانی اور سیہون میں شہباز قلندر کے مزارات پر بدترین دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں، جن میں سیکڑوں بے گناہ مسلمان مرد و خواتین اور معصوم بچے شہید ہوچکے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ مسلم ملک دو حصوں میں بٹ چکے ہیں، ایک کی سربراہی عرب ملک، دوسرے کی سربراہی عجم کے ہاتھ میں ہے۔ فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے مسلم حکمرانوں کو فرقہ واریت کی سرپرستی سے باز رہنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صدیوں کی گہرائی میں جاکر ان جڑوں کو تلاش کرنا پڑے گا جن کی وجہ فرقہ واریت ایک تناور درخت میں بدل گئی ہے۔

یہ کیسی دلچسپ بات ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم کی مذمت کرنے والے ملک اسرائیل سے سفارتی تعلقات میں بھی بندھے ہوئے ہیں، یہ کیسا اندھیر ہے کہ فلسطینیوں کو بے وطن کرکے یہودی اپنا وطن حاصل کر رہے ہیں۔ او آئی سی اور عرب لیگ مسلمانوں کی نمایندہ تنظیمیں ہیں فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے ان تنظیموں کو آگے آنا ہوگا لیکن یہ تنظیمیں اپنے مشن میں اسی وقت کامیاب ہوں گی جب وہ امریکا کی سرپرستی سے آزاد ہوں گی۔ روزنامہ "ایکسپریس"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے