’’ میں نوجوان ہوں۔ ہمارے ستر فی صد شہری نوجوان ہیں۔ہم اس گرداب میں اپنی زندگیوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں ،جس میں ہم گذشتہ تیس سال سے پھنسے ہوئے ہیں۔ہم اب اس دور کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ہم سعودی عوام کی حیثیت سے آنے والے دنوں سے دل افروز ہونا چاہتے ہیں اور اپنے معاشرے کی ترقی اور افراد اور خاندان کی حیثیت سے اپنی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔یہ سب کچھ ہم اپنے دین اور روایات سے تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے کرنا چاہتے ہیں۔ہم 1979ء کے بعد کے دور کو جاری نہیں رکھنا چاہتےہیں۔اس عمر کا دور لد چکا‘‘۔

یہ وہ باتیں ہیں جو سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے موقر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہیں۔ان سے یہ انٹرویو ڈیوڈ اگنیشئس نے کیا تھا۔سعودی نائب ولی عہد نے معاشرے کی فلاح وبہبود اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے سماجی ،دانشورانہ اور ثقافتی سطحوں پر تبدیلی کی راہ کا انکشاف کیا ہے۔

گذشتہ تین عشروں کے دوران میں سعودی معاشرے کو وقتی سوچ کے نظریے کے تحت کنٹرول کیا جاتا رہا ہے اور وہ خطے میں ہونے والی پیش رفتوں کا جواب دینے سے قاصر تھا۔ وہ خمینی انقلاب اور جہیمن العتیبی کی قیادت میں سلفی گروپ کی کارروائیوں کے بعد دفاعی مرحلے میں داخل ہوگیا تھا۔

پھر نظریاتی حساسیتوں اور یک طرفہ تحریکوں نے سر اٹھایا۔ وہ عدم اتفاق کرنے والے کسی بھی شخص پر حملہ آور ہوسکتی تھیں اور انھوں نے مذہبی پلیٹ فارم تھام لیا تھا۔اس دور میں اسلامی بیداری کی تحریک صحوہ اور بایاں بازو خمینی کے انقلاب سے متاثر ہوئے تھے۔

تبدیلی کی خواہش

شہزادہ محمد بن سلمان اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اصلاحات کے لیے ناگزیر حالات کا راز لوگوں کی تبدیلی کے لیے خواہش میں مضمر ہے۔انھوں نے کہا’’ سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر سعودی عوام تبدیلی کے عمل پر آمادہ نہیں ہوتے تو کیا ہوگا۔اگر سعودی عوام اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں تو پھر آسمان کو چُھونا ہی حد ہے‘‘۔

تبدیلی دراصل سیاست دانوں اور معاشرے کے درمیان ادل بدل کا عمل ہے۔اگر ہم سعودی عرب میں گذشتہ دو سال کے دوران میں سماجی اصلاحات اور تبدیلیوں کا ایک نظر سے جائزہ لیں تو ہم حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ لوگوں نے تفریح طبع میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ان کی موسیقی سے محبت کا یہ نتیجہ ہے کہ اب کنسرٹس کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور ایک جاپانی طائفے نے ایک اوپیرا میں اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔

انتہا پسندوں کی دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کی کارروائیاں اب محدود ہوچکی ہے۔ دو سال قبل کوئی شخص اپنے خاندان کے ساتھ ایک کیفے یا ریستوراں یا مال یا کسی دکان میں مکمل تحفظ کے احساس کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا تھا۔سماجی تبدیلی کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو نمایاں طور پر نوٹس کیا جاسکے کیونکہ تبدیلی کے عمل سے گزرنے والے معاشرے یہ نہیں جانتے کہ کیا اورکس حد تک تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔ یہ ایک مشکل دور ہے اور تاریخی تبدیلی کا عمل رو نما ہورہا ہے۔

شہزادہ محمد نے اس تبدیلی کو مذہبی روایات اور اسلامی شریعت سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ تبدیلی شریعت ،اس کے اصولوں اور تصورات کی خدمت کے لیے ہے اور مذہبی رہ نمائی کا ایک طرح سے ردعمل ہے۔

اگنیشئس نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ اپنے مضمون میں لکھا ہے:’’ شہزادے کی یہ دلیل تھی کہ سعودی عرب میں انتہا پسندانہ مذہبی قدامت پسندی ایک نیا مظہر ہے اور اس نے ایران میں 1979ء کے انقلاب اور اس کے ایک سال بعد سنی انتہا پسندوں کے مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام پر قبضے سے جنم لیا تھا۔

یہ بات درحقیقت درست ہے۔ ہمارے آباء وا جداد کے دور میں سعودی معاشرہ سُنیوں اور شیعوں میں کوئی تمیز نہیں کیا کرتا تھا۔تب سُنیوں اور شیعوں میں شادیوں کا رواج تھا۔لوگ کسی قسم کے متعصبانہ احساس کے بغیر اکٹھے کام کرتے اور سفر کرتے تھے۔کوئی بھی یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ یہ غلط ہے یا وہ گناہ گار ہے۔

انتہا پسندی کا پھیلاؤ

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایرانی انقلاب نے انتہا پسندی کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ 1970ء کے عشرے کی نسل نے اسلامی گروپوں میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔اس وقت شاذ ہی کوئی فرد اخوان المسلمون یا عرب افغانوں میں شامل ہونے سے پیچھے ہٹتا تھا۔ایرانی انقلاب نے ایسے بحرانی حالات پیدا کردیے تھے کہ جن کا آج بھی مسلم دنیا سامنا کررہی ہے۔

سعودی ریاست کی عمر تین سو سال ہے اور اس کی اقدار نے اسلامی دنیا پر منفی انداز میں اثرات مرتب نہیں کیے ہیں۔ تاہم یہ تبدیلی خمینی کے انقلاب کے نتیجے میں رونما ہوئی ہے۔

تمام معاشرے روشنی اور اندھیرے کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ یورپ بھی مذہب اور خانہ جنگیوں کے دور سے گزرا ہے۔تاریک دور میں یورپ میں کلیسا (چرچ) ہی کی کارفرمائی تھی۔اہل مغرب نے مسیحی انتہا پسندی کا خمیازہ بھگتا تھا اور ان کی معائنے کی عدالتیں ہوتی تھیں۔وہ دانشوروں سے ناروا سلوک کرتے،ان کے خلاف مقدمات چلاتے تھے،فلاسفروں کو زندہ جلا دیتے تھے اور موجدوں کو تختہ دار پر لٹکا دیتے تھے یا ان کا پیچھا کیا جاتا اور انھیں قتل کردیا جاتا تھا۔تاہم غار کے آخری دھانے پر روشنی تھی اور لوگ اس کو اس اندھیرے سے باہر نکال لائے تھے۔

یہ ایک مشکل راستہ ہے لیکن افراد کے عزم و استقلال اور معاشرے اور ماہرین کی کاوشوں کے ذریعے وہ ناممکن کو ممکن الحصول بنا سکتے ہیں۔

-------------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے