ایک مقولہ ہے : صحت مند شخص سے وہی حسد اور رشک میں مبتلا ہوتے ہیں جو بیمار ہوتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ تباہ کاریوں سے دوچار ہے۔ عرب اور مسلم دنیا میں۔۔۔۔۔۔۔ مشرق میں افغانستان اور پاکستان سے لے کر مغرب میں لیبیا ،مالی اور نیجر تک۔۔۔۔۔ اور عراق ،ایران اور شمال میں وسط ایشیا کے ایک حصے سے لے کر جنوب میں یمن اور صومالیہ تک۔۔۔۔۔۔ اتھل پتھل جاری ہے۔

ان ممالک میں امن وامان ،انسانی اور معاشی بھونچال برپا ہیں لیکن میری رائے میں سب سے بڑی آفت ہمارے اتحاد کا پارہ پارہ ہونا ہے۔ہم ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں اور مشترکہ بنیادوں ہی کو کھود رہے ہیں۔

المختصر یہ کہ خطرہ بقا یا قومی اتحاد کے پارہ پارہ ہونے سے جڑا ہوا ہے۔اگر لوگوں کو اپنی قومی وحدت پر اعتقاد جاتا رہے تو پھر ہمیں ناقابل پیشین گوئی تباہ کاریوں اور آفتوں کی توقع کرنی چاہیے۔اس صورت میں قوم کی مزاحمتی طاقت کا سقوط ہوجاتا ہے اور قومیں اس طرح ٹکڑیوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں کہ تمام اطراف سے مداخلتوں اور غیر ملکی جارحیتوں کے دَر کھل جاتے ہیں۔ اس وقت لیبیا اور شام میں جو کچھ ہورہا ہے،وہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

الریاض میں وزارتی کانفرنس

الریاض میں حال ہی میں خلیجی عرب ریاستوں کے وزرائے داخلہ ،دفاع اور خارجہ امور کی کانفرنس میں سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے اپنی تقریر میں قومی وحدت کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے کہا:’’ ہم اپنے ملکوں اور عوام کی سلامتی اور استحکام کا تحفظ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ترقی اور خوشحالی کا بھی دفاع کرسکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’اس وقت ہماری جدید دنیا میں کسی بھی ملک کو اندرونی اور بیرونی اثرات اور خطرات سے اپنی قومی وحدت کو بچانے کا بڑا چیلنج درپیش ہے‘‘۔

سعودی ولی عہد کی قومی اتحاد سے کیا مراد تھی؟ ’’ایک ایسی قومی وحدت ،جس میں مادر وطن سے وفاداری کو ذاتی ،نسلی ،گروہی یا فرقہ وار مفادات پر بالا دستی حاصل ہو کیونکہ یہ چیزیں تقسیم کرنے والی ہیں،متحد کرنے والی نہیں ہیں‘‘۔ انھوں نے وضاحت کی۔

انھوں نے مزید کہا :’’ ایک ایسی قومی وحدت ،جس میں ہر کوئی اپنے وطن اور قوم سے متعلق ذمے داریوں اور معاشرے کی سلامتی اور استحکام کے لیے کام سے آگاہ ہو‘‘۔

جس چیز کو اہمیت حاصل ہے ،وہ قومی وحدت کا تحفظ ہی ہے جس میں شہریوں کے درمیان کسی فرقے ،مذہب ،علاقے ،رنگ ،نسل یا سیاسی بنیاد پر کوئی تمیز نہ کی جائے۔ بظاہر ان معیارات کی پاسداری بڑی آسان نظر آتی ہے لیکن درحقیقت عملاً یہ بہت مشکل اور چیلنج والا کام ہے۔

ہم شام اور عراق میں فرقہ ورانہ جتھوں کے منظم شکل میں برسرجنگ ہونے کی کیسے وضاحت کرسکتے ہیں؟ہم کردوں کے علاحدگی پسندانہ قومیت پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی کیا وضاحت کرسکتے ہیں؟ ہم عراق میں فرقہ ورانہ جبر واستبداد اور لبنان میں ایسی ہی فرقہ ورانہ بالادستی کے بیج بونے کی کوشش کی کیا توضیح کریں گے؟

ہم یمن میں اہلِ جنوب کی اہل شمالِ سے مخاصمت ،شمال کی شمالیوں ،حوثیوں ،اصلاح پسندوں ،سوشلسٹوں ،سیکولرسٹوں، صوفیوں اور حضرمیوں کے درمیان محاذ آرائیوں کو کیا نام دیں گے؟

ہم تنوع کو ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔معاشرتی تنوع دراصل ثقافتی تسلسل کو برقرار رکھنے کی ایک بنیاد اور اس کا سربستہ راز ہے۔ہم اس تنوع کو ایسے محوروں میں تبدیل کرنے کی بات کررہے ہیں جو قومی وحدت کے ستون کی تشکیل میں ممد ومعاون ہوتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے