پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بہار نے ملک کے سیاسی منظر پر کتنی ہی تبدیلیاں برپا کی ہیں۔ اطلاعات کی فراہمی کا ملک گیر عمل تیز تر ہوگیا ہے، اسی طرح حالات حاضرہ کے بھڑکتے سلگتے موضوعات پر رائے سازی کا عمل حجم اور اثر دونوں اعتبار سے ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ عوا م الناس اور پوٹینشل شہریوں میں نالج گیپ کم ہو رہا ہے۔ سیاسی بیداری کا عمل تیز ہو رہا اور میڈیا کا معاشرے میں کردار وسعت اختیار کررہا ہے، جو طاقت ور طبقات کے لئے بیک وقت معاون بھی بن رہا ہے اور خطرناک بھی۔ مختلف النوع میڈیا کی جانب سے عوام کی آسان تر رسائی نے سیاست کے میدان عمل میں، مختلف موضوعات پر عوام کو متحرک کرنا (موبلائز) سیاست دانوں کے لئے مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ وہ میڈیا پر غالب، اپنے ہی سیاسی ابلاغ کے ذریعے، ہر روز اور ہر وقت ان کے ساتھ یکطرفہ رابطے ہی رہتے ہیں۔ واقعات کی خبریں بھی ان تک بڑی تیزی سے پہنچتی ہیں، ایسے میں جلسے جلوسوں، ریلیوں، ہڑتالوں اور احتجاجی دھرنوں میں عام آدمی کی احساس شرکت کی ہوک میں کمی آگئی ہے، وہ ہر میڈیا کے ٹاک شوز اور پارلیمنٹ اور عدالتوں کے باہرسیاست دانوں کی انہیں مقبولیت دینے والی میڈیا ٹاک سے قومی امور میں اپنی شرکت کی ضرورت پوری کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب لاہورکا موچی دروازہ اور گول باغ، کراچی کا نشتر پارک، راولپنڈی کا لیاقت باغ، فیصل آباد کا دھوبی گھاٹ، ملتان کا قاسم باغ، حیدرآباد کا پکا قلعہ، پشاور کا چوک شہداء اور کوئٹہ کی روایتی جلسہ گاہیں اجڑ گئی ہیں اور ان کی جگہ نئے پبلک مقامات لے رہے ہیں۔سو،سیاست دان جلسے جلوس کی ہمت کوئی آسانی سے نہیں کر پاتے، کر لیں تو جلسہ گاہوں کو بھرنا ان کے لئے چیلنج بن جاتا ہے۔ میڈیا جلسہ ہائے عام کے بھرے اور خالی کنارے کونے برابر دکھاتا ہے۔ یوں جلسوں کی رپورٹنگ صرف پڑھی نہیں جاتی، گھر بیٹھ کر لمحہ لمحہ دیکھی بھی جاتی ہے، دیکھنے والے جلسے جلوسوں میں اسے اپنی آدھی شرکت ہی سمجھتے ہیں، رہی سہی کسر سوشل میڈیا سے پوری ہوتی ہے جو طرح طرح کے مصالحوں کے ساتھ خوب چٹ پٹی ہوتی ہے۔ اس کا اثر کتنا ہوتا ہے، یہ اہم سوال ہےالبتہ کتھارسس خوب ہو جاتا ہے۔

پاکستانی سیاست کی اس نئی صورت گری میں خان اعظم عمران خان کو ایک بڑا امتیاز حاصل ہے اس وقت وہی ایک ایسے بڑے قومی سطح کے سیاست دان ہیں جو بہت جلد کسی بھڑکتے موضوع، جس پرپہلے وہ خود بھڑکتے ہیں، عوام کو فوری متحرک کرنے میں دیر نہیں لگاتے، یک دم موضوع پر جلسے کا اعلان کرتے ہیں، یوں کے دائیں بائیں ان کے معتمد ساتھی دم بخود رہ جاتے ہیں، پھر جلسے کا اعلان ہی نہیں کرتے، ملک گیر سطح پر احتجاجی ریلیوں، دھرنوں اور جلسوں کا پروگرام بھی آجاتا ہے جس کی تیاریاں اور تفصیلات بعداز اعلان پارٹی لیڈروں کو تسلیم کرنا پڑھتی ہیں۔ ان کا خاتمہ کرپشن اور حکمرانوں کے احتساب پر کمال کا فوکس ہے۔ بہت اچھا یہ ہے کہ وہ ساتھ ساتھ عوام کی حالت زار کی بات کرتے ہیں اور حکومتی کرپشن اور اس کے تعلق کی وضاحت بھی۔ ان کے جارحانہ سیاسی ابلاغ میں جہاں مسلسل حکمران طبقے کی لوٹ مار کی مذمت اور اسے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے، وہاں وہ غریب طبقے کی محرومیوں کے اعداد و شمار سے سماجی پسماندگی کو بے نقاب بھی کرتے ہیں۔ اور اس میں اتنا تسلسل ہے کہ یہ اعداد و شمار اب عام لوگوں کو بھی یاد ہوگئے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کا کوئی اثر نہیں، خان اعظم کا یہ عوام دوست سیاسی ابلاغ بہرحال اثرانگیز ثابت ہوا ہے، اسی کا دبائو ہے کہ صحت و تعلیم پر حکومتیں کوئی پالیسی سازی تو اب بھی نہ کرسکیں لیکن انہیں باری کے آخری سال جبکہ انتخابات میں کوئی سال بھر رہ گیا ہے، کچھ نہ کچھ اقدامات اسپتالوں کے قیام، بہتر بنانے اور اسکولوں کی بگڑی حالت زار کو کچھ سنبھالنے کے لئے توجہ دینی پڑی ہے، جو عوامی نہیں یقیناً سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہے کہ الیکشن ائیر کے لئے اشتہاری ابلاغی مہمات کا سامان اسی سرکاری اتمام حجت سے شروع ہوا ہے۔

خان اعظم کا اعتماد ہے، دیوانگی یا معصومیت، ان کے بے قابو پھیلنے اور کبھی تو غیر ذمہ دارانہ حد تک سیاسی ابلاغ پر ان کے اپنے بھی پریشان ہو جاتے ہیں، لیکن خان صاحب خود اس پر بھی پریشان نہیں ہوتے، وہ اس ’’بونگی‘‘ کو سچ اور تصدیق کا جامہ پورے یقین سے پہناتے ہیں اور تبدیلی کے لئے اپنے افکار اور اہداف کا سفر اپنے ہی انداز میں جاری رکھتے ہیں۔ جیسے انہوں نے اب بڑی یقین کے ساتھ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے خود کو پاناما کیس سے دستبردار ہونے پر آمادگی کی صورت میں 10 ارب روپے کی رشوت پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس پر ن لیگ کا جارحانہ ردعمل تو قابل فہم ہے کہ پاناما کیس کی اذیت کوئی کم ہے، اوپر سے اس سے دستبردار ہونے کی رشوت پیش کرنے کا الزام کھلم کھلا بغیر کسی ثبوت کے لگا دیا۔ جب اپنے اور غیر جانبداروں نے بھی ثبوت دینے کی بات کی اور جناب وزیراعلیٰ شہباز شریف اور مریم اورنگ زیب نے اس پر خان صاحب کو عدالت میں لے جانے کے ارادے کا اظہار کیا تو انہوں نے اسلام آباد کے بھرے جلسے میں کہا ’’میں رشوت پیشکش کرنے والے کا نام عدالت میں بتائوں گا‘‘۔ اب تو دونوں طرف کا یقین برابر ہی معلوم دے رہا ہے جن پر الزام لگا اور جس نے لگایا۔

دیکھنا یہ ہے کہ حکمرانوں کے لئے پاناما کے خطرناک کھیل میں جسے عمران خان کی بطور حکومت مخالف لیڈر بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے، 10 ارب روپے کی رشوت کا الزام، خان اعظم کا اپنے پیر پر آپ کلہاڑی مارنا‘‘ بنتا ہے یا واقعی وہ مرے کو ایک پتھر اور مارنے والے ہیں، جو بھی ہو گا، ہو گا دلچسپ یا خطرناک ہو گا۔ ’’مرے کو ایک پتھر‘‘ یوں کہ پاناما سے ن لیگ، حکمران خاندان اور وزیراعظم نواز شریف اوران کی فیملی کی سیاست نہیں تو مقبولیت تو مر گئی ہے۔ آج خان کا استعفے کا مطالبہ کوئی خالی خول، یا دھرنے کی طرح فقط ضد یا دبائو نہیں ہے، یہ بنتا تو ہے، یہ مطالبہ جس کا بھی ہے جس نے 2014کے خطرناک دھرنے میں میاں صاحب کی حکومت بچائی اور ان غیر جانبدار تجزیہ نگاروں اور صاحبان رائے کی رائے جو دھرنے کے دبائو سے استعفے کی بجائے آئندہ الیکشن کو شفاف بنانے کا مشورہ دے رہے تھے، جس کے لئے خان صاحب تادم تیار نہیں بلکہ بھول ہی گئے کہ انہوں نے الیکشن 2018کوآزاد و غیر جانبدار بنانے کا اہتمام بھی کرانا ہے، خواہ پاناما کیس کا انجام کچھ بھی ہو۔

اگرچہ اسلام آباد میں خان صاحب کا جلسہ، جو ان کے ایک اور جارحانہ عوامی رابطے کا آغاز ہے، پاناما کے تناظر میں تھا، لیکن خان صاحب نے اس میں ن لیگ کی متروک و مرحوم نظریاتی لیگی اپروچ کو ایڈریس کرتے ہوئے قوم کو مطمئن کیا کہ وہ اقبال کے وژن اور قائداعظم کی جدوجہد کے مقاصد کے مطابق پاکستان کو جدید، فلاحی اور اسلامی بنانے کے عزم پر قائم دائم ہیں اور یوں وہ بطور قومی رہنما پاکستان کی نظریاتی اساس کے امین ہیں، جس سے ن لیگ پھسل کر صرف اور صرف نواز لیگ ہی رہ گئی خود جناب وزیراعظم بھی اوران کے ماورائے آئین و قانون اللوں تللوں میں مست ہالی و موالی بھی اس نظریاتی اساس سے اب کوسوں دور ہیں۔ خان نے مودی سرکار کے نئے مظالم کی سیریز کا مسلسل شکار مظالم کے خوف سے آزاد ہو جانے والے جدوجہد آزادی میں مصروف عمل کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی یکجہتی کا جو اظہار پورے زور و شور سے کیا، وہ پورے پاکستان کے دل کی آواز ہے۔ انہوں نے سجن جندال کے مشکوک دورہ پاکستان (اور ویزے کے بغیر آمد) اور کلبھوشن یادیو پر حکومتی خاموشی پر جو کچھ کہا، وہ بھی پوری پاکستانی قوم کی بھرپور ترجمانی ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ مودی صاحب، ہزار ہا پاکستانیوں کے بے نقاب اور پکڑے جانے والے خفیہ قاتل کو ریمنڈ ڈیوس بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس پر ہم تو کچھ نہیں کہتے، گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام (2002) پر وزیر اعلیٰ مودی کے جو گھنائونے جرم کی کھلی مذمت اور سول سوسائٹی کا کمیشن قائم کرنے والی انسانی حقوق کی سچی بھارتی چیمپئن، محترمہ ارون دتی رائے صاحبہ کے جنگ کی شوقین اپنی حکومت کو دینے گئے اس مشورے کو پاکستان کا بیانیہ نہیں بنانا چاہئےکہ ’’نئی دہلی خود کو امریکا سمجھے نہ پاکستان کو افغانستان‘‘۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے