پاپائے روم پوپ فرانسیس نے ایک تنقیدی اورمخالفانہ مہم کے تناظر میں مصر کا دورہ کیا ہے۔اخوان المسلمون ایسے سیاسی گروپوں سے وابستہ لوگوں کا ان مہموں کے پیچھے ہاتھ کارفرما تھا۔اس دوران میں داعش نے قبطیوں کے دو گرجا گھروں پر تباہ کن بم حملے کیے تھے۔

پوپ فرانسیس اس طرح کے تمام خطرات کے باوجود اپنے دورۂ مصر پر مُصر رہے تھے۔ دوسری جانب شیخ الازہر نے اپنی ذات اور اپنے تاریخی ادارے کے خلاف دھمکیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے معزز مہمان کا کھلے عام خیرمقدم کیا۔

دراصل انتہا پسند اس منافرت انگیز مہم اور دھماکوں کے ذریعے جو پیغام دینا چاہتے تھے ،اس کا ہدف پوپ یا مصری قبطی نہیں تھے بلکہ وہ مصری اتھارٹی اور عرب حکومتوں کو چیلنج کررہے تھے۔

انتہا پسند بین السطور یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہی اصل فیصلہ ساز ہیں اور وہ ان اداروں کے ساتھ محاذ آرا ہوں گے جو ان کی مخالفت پر کمربستہ ہوں گے۔پوپ کے دورے پر تنقید کرنے والے اخوان المسلمون کے ارکان اپنے ہی یہ گن گاتے رہتے ہیں کہ وہ مہذب لوگ ہیں اور مسیحی مغرب کے ساتھ پرامن بقائے باہمی میں یقین رکھتے ہیں۔

وہ بند کمرے کے اجلاسوں میں خود کو ’’ ترقی پذیر ‘‘خلیجی حکومتوں سے لاتعلق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب اخوان المسلمون کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا تھا تو انھوں نے دوسروں کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی مہم کا انتخاب کیا تھا۔ انھوں نے مصر میں جامعہ الازہر اور قبطیوں کے خلاف مخالفانہ مہم شروع کردی تھی۔اب ان کے پیروکاروں نے پوپ کے دورے کے بارے میں غوغا آرائی کی ہے۔

عالمی مذہبی فورمز

بعض لوگ ہوسکتا ہے،اس بات پر حیران ہوں کہ ہمیں عالمی مذہبی فورمز سے معاملہ کاری کرتے وقت کیوں احتیاط برتنی چاہیے۔ ویٹی کن اور دنیا کے دوسرے بڑے مذہبی اداروں کے ساتھ ابلاغ اقوام کے درمیان عشروں پر محیط ایک مستقل اور مسلسل عمل رہا ہے۔اس کا مقصد تعلقات کو مربوط بنانا اور دوسرے مذاہب کے خلاف منافرت کا مقابلہ کرنا ہے۔

اسلام ،عیسائیت اور ہندومت ایسے بڑے ادیان کو اپنے پیروکاروں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے پیروکار کم وبیش تمام ممالک میں بستے ہیں۔

مذہب کی بنیاد پر کشیدگی کے موجودہ دور میں اگر بقائے باہمی کی بات کرنے والے لوگوں کو منافرت پھیلانے والوں پر بالا دستی حاصل ہو جاتی ہے تو اس سے دنیا ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ ہمیں ان مقامات پر رواداری اور برداشت کی روح پھونکنے والے لوگوں کی ضرورت ہے جہاں کشیدگی یا تنازعات کا امکان ہے۔ فرانس اس کی ایک بڑی مثال ہے جس کی کثیر آبادی کیتھولک عیسائی ہے جبکہ وہاں یورپ کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی بھی آباد ہے۔

اس صورت حال میں پوپ ہی ایک ایسی نمایاں مذہبی شخصیت ہیں جو اپنے پیروکاروں پر اثر ورسوخ کے حامل ہیں اور وہ اس کو بروئے کار لا کر قومی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے نسلی مفاخرت اور سیاسی تقسیم کی وکالت کی جارہی ہے۔

مصر میں 80 لاکھ سے زیادہ قبطی رہ رہے ہیں۔مذہبی انتہا پسندی کے ظہور سے قبل انھیں کبھی حملوں میں اس طرح ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔انھیں بادشاہت یا سابق صدر جمال عبدالناصر اور انورالسادات کے ادوار میں بھی نشانہ نہیں بنایا گیا تھا لیکن انتہا پسندانہ نظریات کے ظہور کے بعد انھیں حملوں میں ہدف بنایا جانے لگا ہے۔

جو لوگ ویٹی کن کے ساتھ تعلقات کی مذمت کرتے ہیں یا یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک نیا مظہر ہیں یا ایسے تعاون کی حمایت کرنے والے مسلم علماء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو یہ لوگ اگر منافق اور دوسروں کو اشتعال دلانے والے نہیں تو کم سے کم جاہل ضرور ہیں۔ یہ تعلقات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور خود سعودی عرب کے پاپائے روم سے اچھے تعلقات استوار ہیں۔ شاہ فیصل شہید نے باہمی احترام پر مبنی ان تعلقات کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے الریاض میں اسقفوں کا استقبال کیا تھا اور ان معزز مہمانوں نے انھیں پوپ کا ایک خط پہنچایا تھا۔

اس میں پوپ نے لکھا تھا کہ ’’وہ اور ان کی مذہبی کونسل شاہ فیصل کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ان کا عرب اور مسلم دنیا پر نمایاں اثرو رسوخ ہے‘‘۔ سنہ 1974ء میں شاہ فیصل نے اس وقت کے وزیرانصاف شیخ محمد الحرکان اور سعودی علماء پر مشتمل ایک وفد کو ویٹی کن میں پوپ پال ششم سے ملاقات کے لیے بھیجا تھا۔

تاہم یہ ابلاغ مغرب میں صرف عیسائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا میں ہندو مت ،بدھ مت اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کے عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں۔

ہمیں انھیں ان کے اسلام کے بارے میں ادراک کے خول میں نہیں چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ ان کے اسلام کے بارے میں ادراک وتفہیم کا بہت حد تک تعلق داعش اور دوسرے سیاست زدہ اسلامی گروپوں سے ہے۔

--------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے