ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسی روحانی قووتوں کے حامل ہیں کہ بڑے بڑے دہشت گرد ان کے ہاتھ لگتے ہی اپنی گناہوں سے بھرپور زندگی سے تائب ہو جاتے ہیں۔ ان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی روحانی قوت گناہگار، قاتل، ڈاکو اور دہشت گردوں کے چہروں کی پھٹکار کو ایسی روحانیت اور نور میں بدل دیتی ہے کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ہمارے خفیہ ادارے ہوں، ضرب عضب میں مصروف فوجی سپاہی، رینجرز یا پولیس ان کے ہاتھ لگے بڑے بڑے دہشت گرد اپنے گناہوں کا اعتراف اس قلبی سکون اور طمانیت کے ساتھ کرتے ہیں کہ ایسے روحانی سکون کے حصول کے واسطے وہ سب کچھ کرنے کا دل کرے ہے جس کے اعتراف کے بعد یہ حاصل ہو۔ اب جب صبح کا بھولا دہشت گرد شام کو ان تربیتی کیمپ میں لوٹ آئے تو اسے بھولا تو نہیں کہتے ناں۔ ہم نے جس معاشرے اور جن معاشرتی قدروں کو پروان چڑھایا ہے وہ ان بھولے بھٹکے دہشت گردوں کا تربیتی کیمپ نہیں تو اور کیا ہے۔

آئین اور قانون سے باغی جس نسل کو ہم نے نام نہاد ریاستی مفاد کے تحفظ کے لیے جنگ کی آگ میں جھونکا تھا وہ نام نہاد ریاستی مفاد آج بھی آئین اور قانون کا منہ چڑا رہا ہے۔ فسا د فی سبیل اللہ سے لے کر رد الفساد تک ہمارے آئین و قانون ساز ادارے مروج آئینی حقوق اور قانونی تقاضوں کے نفاذ کی بجائے ماورائے آئین و قانون اقدامات پر جس طریقے سے آئین وقانون کا پردہ ڈال رہے ہیں اسکے نتیجے میں قانون جرم بن گیا ہے اور جرم قانون کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہریوں کی گمشدگی واغوا اور ماورائے عدالت ملزمان کا قتل اور ایسے اقدامات کو تحفظ دینے کیلئے آئینی و قانونی ترامیم جیسے فوجی عدالتوں کا قیام اسکی ایک مثال ہے۔ ہمارے معاشرے کے ساتھ وہ ہو رہا ہے جو زیادتی کا شکار کسی مظلوم خاتون کا اسکے ملزم کے ساتھ نکاح پڑھا کر کیا جاتا ہے۔ ایک منتخب حکومت پارلیمنٹ اور عدلیہ کی موجودگی میں ایک ریاست نامی ایک ایسی نادیدہ قوت کو فروغ دیا جا رہا ہے جو ملکی وجود کی خاطر حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو پاوں کی ٹھوکر سے ایک طرف کر سکتی ہے۔ حکومتی پالیسیاں، پارلیمنٹ کی قانون سازیاں اور تمام عدالتی فیصلے اس ریاست کے ماتحت ہیں۔

بد قسمتی سے ریاست کا یہ جن حکومت، پارلیمنٹ یا عدلیہ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ توپ کے دھانے میں رہتا ہے۔ یہ وہ جن ہے جو عام شہریوں کے علاوہ منتخب نمائندوں، حکومتی عہدیداروں، میڈیا اور حتیٰ کہ دہشت گردوں میں غداری، کفر اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹتا ہے۔ ریاست نامی اس جن کے آگے تمام ادارے بے بس نظر آتے ہیں۔ اب جبکہ یہ جن واپس بوتل میں جانے والا نہیں تو ہمارے معاشرے کے بڑے سے بڑے مجرم کے مستقبل کا فیصلہ بھی یہی کرے گااور تو اور بڑے سے بڑا مجرم بھی ہمارے آئین اور قانون کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا بلکہ ایک بڑے ہتھیار کے آگے اپنا چھوٹا ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ طالبان کے ریٹائرڈ ترجمان احسان اللہ احسان کوئی ایک فرد نہیں بلکہ اس سوچ کا نام ہے جس کے تحت معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیل کر آپ اعتراف جرم اور اظہار ندامت کر کے قانونی اور اخلاقی احتساب سے بچ سکتے ہیں۔ احسان اللہ احسان فوج کے زیر تحویل ہوتے ہوئے ابھی کسی کامیاب فوجی عدالت کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔ مگر اسکی اعترافی ویڈیو اور ڈرامائی ٹی وی انٹرویو کے ذریعے جہاں اس کے ساتھی دہشت گردوں کو بھی گھر لوٹ آنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی گئی وہاں ایسے خونخوار درندوں کو ایک عام انسان کی شکل میں دیکھا کر دہشت گردی کو ایک عام انسان کی غلطی بنا کر پیش کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بین الاقوامی میڈیا اور معاشرے کیلئے ایسے دہشت گرد وں کے انٹرویوز صحافتی معمول ہوتے ہیں مگر اس وقت تک کہ جب یہ دہشت گرد ہزاروں میل دور کسی اور معاشرے کی پیداوار ہوں۔

احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرنے والے معروف صحافی سلیم صافی کو اسکے نشر کرنے پر پیمرا کی پابندی بری لگی ہو گی مگر ایسا کرنا بھی مفاد عامہ میں ضروری تھا۔ سلیم صافی نے اس پابندی کے بعد اپنی تحریر میں جو وضاحتیں اپنی پیشہ وارانہ ساکھ کے حوالے سے دی ہیں ان میں کہیں بھی اس انٹرویو کے مفاد عامہ میں ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر زیادہ تنقید احسان اللہ احسان پر کی گئی تھی سلیم صافی پر نہیں۔ ہفتے کے روز شائع ہونے والے اپنے کالم میں سلیم صافی نے جتنی وضاحتیں اپنی صحافتی ساکھ کے حوالے سے دی ہیں، اتنی وضاحتیں تو شاید احسان اللہ احسان نے اپنی دہشت گرد کارروائیوں کی نہیں دی ہوں گی۔ اچھا ہوتا کہ سلیم صافی چند دلائل اس سوال کے جواب میں دیتے کہ احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرنا اور اسکو نشر کرنا کس طرح مفاد عامہ میں تھا۔ اس سوال کا جواب سلیم صافی کی علاوہ اس ادارے کو بھی دینا ہو گا جس ادارے نے احسان اللہ احسان جیسے دہشت گرد کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ بظاہر تو ایسے انٹرویو کا مقصد دوسرے دہشت گردوں کو بھی ہتھیار ڈالنے کی طرف راغب کرنا تھااور ایسے عناصر کے بھارت جیسے دشمن سے روابط کو بے نقاب کرنا تھا مگر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہنستے مسکراتے اور چہرے پر طمانیت سجانے والے ان معزز مہمان کو دیکھ کر جہاں چند دہشت گرد ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو جائیں وہاں کئی درجن نوجوان اسی "حسن سلوک" کے باعث دہشت گردو تنظیموں میں شمولیت کا ارداہ نہیں کریں گے۔ ویسے بھی قومی ذرائع ابلاغ محض دہشت گردوں کے دیکھنے کیلئے پروگرام ترتیب نہیں دیتے۔

ٹیلی ویڑن ایسے مسکراتے ہوئے اور بھولے بھالے دکھائی دینے والے ہمارے" دہشت گرد" کو اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں شہید کیے گئے آرمی پبلک سکول پشاور کے "بچوں" کی جگہ ٹی وی سکرینوں پر کیسے لے سکتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ان دہشت گردوں کا انٹرویو کرنے والے صحافی ابھی تک شہید بچوں کے والدین کو کوئی وضاحت دینے میں بری طرح ناکام ہیں۔ حکومت اگر خود کو حکومت کہتی ہے تو اس معاملے کی تحقیق کرائے کہ ایسے خطرناک دہشت گرد کو ٹی وی پر بطور مہمان پیش کرنے کی اجازت کس نے اور کس قانون کے تحت دی۔ یہ معاملہ احسان اللہ احسان کا نہیں کیونکہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس تحقیقات کرنے کی بجائے ایسے افراد کے اعترافی بیانات کی ویڈیو فلمیں جاری کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ نالائقی اور نااہلی نہیں تو اور کیا ہے کہ آئین اور قانون کے تحت ایسے مجرموں کو کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے انکے اعترافات جرائم کی ویڈیو فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ ایسی سنسر شدہ فلموں کے ذریعے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ تاثر بھی قائم کیا جاتا ہے کہ شائد بڑے بڑے سیاستدان اور حکومتی عہدیداران بھی ان فلمی کرداروں سے رابطے میں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چو ر کی داڑھی میں تنکا کے مصداق ہمارے سیاستدان بھی یہ سوچ کر اس بلیک میلنگ میں آجاتے ہیں کہ نا جانے یہ مجرم کیا کہہ دے یا اس سے کہلوا دیا جائے۔ جس کا ڈھول ایک بار میڈیا یا سوشل میڈیا پر پیٹ دیا گیا تو پھر بڑی بڑی وضاحتیں بھی کام نہ آئینگی۔

اس سارے گھناونے کھیل میں منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق سے متعلق آئین کی شق "ٹین اے" بلکہ پورے آئین کا ستیا ناس ہو جاتا ہے۔ سویلین عدالتیں تو پہلے ہی قابل قبول نہیں تھیں مگر اب خود فوجی عدالتوں پر بھی ایسی ویڈیو فلموں کے ذریعے عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہماری اعلیٰ عدالتیں، پارلیمنٹ اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہے۔ امید ہے کہ اب کوئی فوجی عدالت "سو موٹو" ایکشن لیکر جرائم پیشہ افراد کے خلاف میڈیا کی ایسی عدالتیں بند کروائے گی تاکہ لوگوں کا فوجی عدالتوں پر "اعتماد" بحال ہو۔ شدت پسندی کے بیانیے کا توڑ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک آمریت پسندی کے اور آئین شکنی کے بیانیے کا جواب نہیں دیا جاتا۔ کسی کو برا لگے تو لگے مگر ہمارے ملک کو اصل خطرہ آمریت پسندی کے بیانیے سے ہے جو شدت پسندی کے بیانیے کی ماں ہے۔ جب تک ہمارے عسکری، نیم عسکری اور سویلین تعلیمی اور تربیتی اداروں میں آئین اور جمہوریت پسندی کو فروغ نہیں دیا جائے گا اور جب تک آئین سے سنگین غداری کے ملزمان کا سویلین عدالتوں میں ہی سنجیدگی سے مقدمہ نہیں چلایا جائے گا ہم دہشت گردی کے خلاف بیانیے کے لیے بھی احسان اللہ احسان جیسے دہشت گردوں کے ہی محتاج رہیں گے۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے