سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان اپنے حالیہ انٹرویو میں اخوان المسلمون سے وابستہ میڈیا کی جانب سے سعودی عرب اور مصر کے درمیان تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک بہت اہم نکتہ ہے اور اس خطرناک پروپیگنڈا مشین کو موضوع گفتگو بنانے کا یہ مناسب موقع ہے کیونکہ اس نے مسلسل جھوٹ اور افواہیں پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور جو کوئی بھی اس سے عد م اتفاق کرتا ہے تو اس کی توہین وتضحیک کی جاتی ہے۔

اخوان المسلمون کے میڈیا کی مہم کا واحد مقصد مصر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو سبوتاژ کرنا ہے۔متحدہ عرب امارات پر بھی حملے کیے جاتے ہیں اور مسلسل یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ان مذموم مہموں میں بحرین کو بھی نہیں بخشا گیا اور اخوانی میڈیا کا ہدف بننے والوں کی فہرست بڑھتی چلی جاتی ہے۔

اخوان المسلمون کا میڈیا اس قسم کی غوغا آرائی سے رکتا نہیں ہے لیکن آمرانہ طرز عمل کے حامل کسی بھی دوسرے میڈیا کی طرح اس کا مواد بہت ہی برا ہوتا ہے اور اس کو برے ہی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے ۔اس لیے اس کی جانب سے تشہیر کیے جانے والے براہ راست پیغامات کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

سیاسی طور پر اگر بات کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اخوان المسلمون کے پیروکار میڈیا ذرائع اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے اعتدال پسند ممالک پر حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ وہی ایسے مستحکم قلعے ہیں جن کو یہ گروپ اور اس کے لیڈر اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اور بالکل اسی طرح اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح تہران میں اخوان المسلمون کے شیعہ پرتو نے قبضہ کررکھا ہے۔

اخوان المسلمون ان اعتدال پسند ممالک کی حکومتوں کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے تمام ممکنہ وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لاتی ہے۔وہ کتب ، مضامین اور حتیٰ کہ ٹویٹس کے ذریعے اپنے پیغامات کی تشہیر کرتی ہے۔انھوں نے ریاست کے سربراہان کو طاغوت ،سکیورٹی فورسز کو قاتل ،صحافیوں کو صہیونی اور انھیں چندہ نہ دینے والے کاروباری افراد کو بدعنوان قرار دے رکھا ہے۔انھوں نے اعتدال پسند علما ء کو شرپسند ، دانشوروں کو گم راہ اور معزز خواتین کو اخلاقی طور پر دیوالیہ قرار دے دیا ہے۔

یہ اسی طریقے سے اداروں اور افراد کا اخلاقی وقار مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ ان کا راستہ صاف ہوجائے اور وہ اپنی بغاوتوں اور نافرمانی کا کوئی اخلاقی اور مذہبی جواز پیش کرسکیں۔

ایک مذموم منصوبہ

یہ ایک مذموم منصوبہ ہے اور یہ یہیں پہ ختم نہیں ہوجاتا ۔سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس کے ظہور کے بعد تو کسی بھی نئی صورت حال پر اپنے غیظ وغضب کا اظہار ،عوام کو متحرک کرنے اور انھیں ایک بڑی محاذ آرائی کے لیے تیار رکھنے کا ایک طریقہ بن چکا ہے۔ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ بعض عہدہ داروں کے غیر ارادی بیانات بھی مایوسی اور ناامیدی پھیلانے کا ایک بہانہ بن جاتے ہیں۔

اخوان المسلمون کامیڈیا اپنی اس مہم میں شدت لا چکا ہے اور بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر ریاست کو کمزور کرنے کے لیے اس پر حملہ آور ہوتا ہے ،تاکہ عوام کا اس پر اعتماد مجروح کیا جاسکے۔ اخوان المسلمون ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے خواہ وہ اہم ہو یا غیر اہم ،وہ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کے لیے ایک ہیش ٹیگ وضع کرتی ہے۔اس مقصد کے لیے وہ ماضی سے بھی کہانیاں کھوج نکالتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں اخوان المسلمون کی جانب سے ان حکومتوں اور جماعتوں کے خلاف کو ئی پروپیگنڈا نظر نہیں آتا ہے جو اس کی اتحادی ہیں یا جو اس کے ایجنڈے سے متفق ہوچکی ہیں۔وہ اگر مسائل اور بحرانوں میں گردن گردن ڈوبی ہوئی ہوں تب بھی اخوان المسلمون ان پر تنقید نہیں کرتی ہے۔وہ اس لیے کہ ان کے مفادات مشترکہ ہیں اور یہ ممالک یا جماعتیں اخوان المسلمون کی ’’ غضب ناکی‘‘ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

اخوان المسلمون کا سب سے معروف حربہ یہ ہے کہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو ہائی جیک کرکے انھیں سستی شہرت یا نہایت ادنیٰ مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔انھوں نے دین اسلام کو ہائی جیک کر لیا ہے اور اس کو ’’ منحرف یا گم کردہ راہ ‘‘ دشمنوں کے خلاف ایک ہتھیار بنا دیا ہے۔انھوں نے پان عربیت سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور سیاسی حقیقت پسندی میں یقین رکھنے والے اپنے مخالفین کو ایجنٹ اور جاسوس بنا دیا تھا۔وہ کتب ، مضامین ،ٹویٹس اور خبروں کو کسی ایسے لفظ کی تلاش کے لیے چھا ن مارتے ہیں جس کو وہ دوسروں کی توہین کے لیے استعمال کرسکیں۔

اخوان المسلمون نے تعلیم ، ثقافت اور میڈیا کے محاذوں پر بھی بڑی شد ومد کے ساتھ مہم برپا کررکھی ہے کیونکہ اخوانی ان شعبے میں بھی اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وزیر تعلیم ان کا اپنا ہو تاکہ وہ اپنے منصوبے کی راہ میں حائل ہونے والے وزراء کے خلاف سازش کے تانے بانے بن سکیں۔

اخوان المسلمون بہت سے عرب ملکوں کے تعلیمی شعبوں میں مداخل رہی ہے اور اس نے طلبہ کے اذہان میں اپنے بدترین نظریات کو ٹھونس کر اس تعلیمی شعبے کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کردیا ہے۔

سازشی نظریات

وہ مذہبی منافرت اور سازشی نظریات کو طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اخوان المسلمون نے طلبہ کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے اور ہر طرح کے نظریات کو قبول کرنے کے بجائے تخریب کی راہ پر لگا دیا ہے۔ وہ انھیں یہ سکھاتی ہے کہ دوسرے عقیدوں یا فرقوں یا مختلف نظریات کے حامل افراد سے نفرت کیسے کی جاتی ہے۔

انھوں نے نوجوانوں کو یکا وتنہا کردیا ہے اور انھیں یہ باور کرادیا ہے کہ ’’ امت کے خلاف سازشی نظریات کے تانے بانے بنے جارہے ہیں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ نوعمر لڑکے ،جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک بھرپور زندگی گزاریں گے ،وہ اس ذہنی غسل ( برین واشنگ) سے کچھ سے کچھ بن جاتے ہیں۔ وہ ایسے بھونپو بن جاتے ہیں ،جنھیں یہ لیڈر دوسروں کے بارے میں ہمہ وقت فیصلہ کن بیانات کے اجراء کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ اخوان المسلمون کے نظریے کی بدولت ہی ہوا ہے کہ ماضی میں روشنی اور روشن خیالی کی آماج گاہ جامعات اور تعلیمی اداروں کا دھڑن تختہ ہوچکا ہے۔اخوان المسلمون کے اساتذہ ان جامعات کے معاملات میں پیش پیش ہیں اور ان کی راہداریوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ ان کے لیکچر ہالوں میں تباہ کن نتائج مرتب کررہے ہیں۔

اس مختصر جائزے کے بعد یہ سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ وہ روشن خیال اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے خلاف کیوں ہیں؟ اور وہ دانشوروں اور صحافیوں پر کیوں حملہ آور ہوتے ہیں۔اخوانیوں نے دوسروں کی طرح ان صحافیوں اور دانشوروں کی توہین کو اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے۔ وہ انھیں اسکینڈل زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے جگہ خالی کردیں اور منظر سے مکمل طور پر ہٹ جائیں۔

اگرچہ اخوان المسلمون کا یہ میڈیا بڑا کایاں اور اس کا طریق کار بڑا معروف ہے لیکن یہ ہے بہت خطرناک ، کیونکہ یہ ایک ایسے کلچر پر مبنی ہے جس کی اخوان المسلمون برسوں سے تشہیر اور پرورش کررہی ہے۔اس لیے اس کے ذریعے دوسروں پر اثر انداز ہونا بہت آسان ہے۔

تاہم اس کے منفی اثرات سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اخوان المسلمون کی میڈیا کی حکمت عملیوں کا ادراک کیا جائے اور یہ حکمت عملیاں کیا ہیں؟ ان کو جاننا بھی بہت آسان ہے اور وہ یہ کہ اخوان المسلمون ان کی تعریف وتوصیف کرتی اور ان کا دفاع کرتی رہتی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے