بعض مبصرین نے منگل کی شب العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "الثّامنہ" میں سعودی نائب ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کے ایران کے حوالے سے موقف کو جارحیت کے مترادف اور تہران کے خلاف اعلان جنگ کے مماثل شمار کیا ہے۔ شہزادہ سلمان نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ " ہم کسی ایسے نظام کے ساتھ مفاہمت کیسے کر سکتے ہیں جو اپنے آئین اور خمینی کی وصیت میں موجود شدت پسند نظریے پر قائم ہے۔ وہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام پر کنٹرول حاصل کیا جائے اور پوری اسلامی دنیا میں اپنے اثنا عشری جعفری مسلک کو پھیلایا جائے یہاں تک کہ مہدی منتظر کا ظہور سامنے آ جائے۔ میں اس (نظام) کو کیسے قائل کروں" ؟

شہزادہ سلمان نے مزید کہا کہ "یہ (نظام) مختصر مدت میں اپنا موقف ہر گز تبدیل نہیں کرے گا اِلّا یہ کہ ایران کے اندر اس (نظام) کی شریعت کا خاتمہ ہو جائے.. جن نکات پر اس نظام کے ساتھ مفاہمت ہو سکتی ہے وہ قریبا ناپید ہیں"۔ سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ " اس نظام کو ایک سے زیادہ مرحلے پر آزمایا جا چکا ہے (...) ایسا ہر گز نہیں ہو سکے گا ، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ہے۔ ہم ایک مرتبہ ڈسے جا چکے ہیں اور دوسری مرتبہ نہیں ڈسے جائیں گے۔ ہم جان چکے ہیں کہ ہم ایرانی نظام کا مرکزی نشانہ ہیں۔ مسلمانوں کے قبلے تک پہنچنا ایرانی نظام کا بنیادی ہدف ہے۔ ہم اس وقت تک انتظار نہیں کریں گے کہ معرکہ سعودی عرب میں ہو بلکہ ہم اس واسطے کام کریں گے کہ معرکہ آرائی مملکت کے بجائے ان کے یہاں ایران میں انجام پائے"۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ نہیں کہا کہ ہم ایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا ایرانی نظام کے ساتھ براہ راست بات چیت کیے جانے کا امکان ہے۔ اس پر بن سلمان نے ایرانیوں کے ساتھ سعودی عرب کے سابقہ مذاکرات کے تجربات کی تفصیل بیان کر دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی پالیسی خیالی تصورات پر انحصار کرتی ہے.. اس پالیسی کی سیاست کی دنیا اور ملکوں کے درمیان مفادات پر قائم تعلقات میں کوئی جگہ نہیں۔ شہزادہ سلمان کے مطابق تہران درحقیقت سعودی عرب کے ساتھ اپنے تجربے کے ذریعے وقت کا حصول چاہتا ہے وہ اعلان کچھ کرتا ہے اور پھر عملی طور پر کچھ اور اسلوب اپناتا ہے جو کہ بات چیت اور مذاکرات میں کہی جانے والی باتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ سعودی نائب ولی عہد نے وضاحت کے ساتھ یہ کہا کہ ریاض اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ "معرکہ سعودی عرب میں ہو بلکہ ہم اس واسطے کام کریں گے کہ معرکہ آرائی ان کے یہاں ایران میں انجام پائے"۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اعلان جنگ کرنے کے لیے مبہم یا گُھما پِھرا کر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے تہران کو اُس کی منطق سے مخاطب کیا اور بتایا کہ ریاض کی جانب سے تو مفاہمت کی کوشش کی گئی مگر وہ کامیاب نہ ہوئی.. لہذا آئندہ بات چیت صرف اس صورت میں ہوگی اگر تہران اپنی پالیسی کو تبدیل کر لے جو اس وقت عرب ممالک مین علاحدگی پسند ملیشیاؤں کی حمایت پر مبنی اور خطے میں رسوخ کی توسیع کے اصول پر منحصر ہے۔

 یقینا مملکت نے محمد خاتمی اور ہاشمی رفسنجانی کے ادوار میں ایران کے ساتھ اچھے ہمسائیوں والے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم وقت نے ثابت کر دیا کہ ایرانی نظام پر امام شافعی رحمت اللہ علیہ کا قول صادق آتا ہے کہ "جو قائل ہونا ہی نہیں چاہتا اسے قائل کرنے کی کوشش نہ کرو"۔ اسی واسطے سعودی شہزادے نے ایران کے حوالے سے مملکت کی نئی زبان اور لہجے کا اظہار کیا۔ *بشکریہ روزنامہ "الحیات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے