پرویز مشرف کی امریکہ نوازی اور طیب اردوان کی امریکہ دوستی میں تھوڑا سا فرق ہے اور یہ فرق جمہوری اور فوجی حکمرانی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ پرویز مشرف کا حلقہ انتخاب فوج اور کا اقتدار بندوق کی طاقت کی بنیاد پر مستحکم تھا، جبکہ طیب اردوان کو اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور اس کا حلقہ انتخاب وہ ترک عوام ہیں جو ترکی میں نوے سالہ سیکولر اور لبرل اقتدارسے نالاں تھے، اپنی اقدار کی ازسر نو بحالی کے لیے سرگرم اسلام کی نشاة ثانیہ کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ مشرف کو امریکہ کے سامنے جھکنے، اس کے مطالبات من وعن ماننے اور غلامی کی حد تک ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں کوئی عار نہ تھی۔ وہ ایک ایسی فوج کا سربراہ تھا جو احکامات کی تعمیل بلا چون وچرا اور بغیر کسی بحث کے کرتی ہے۔ لیکن اردوان تو لوگوں کو خواب دکھا کر برسر اقتدار آیا ہے۔ ترکوں کی عظمت رفتہ کے خواب، جب وہ پوری ملت اسلامیہ کے رہنما اور مرکز امت تھے۔

لیکن اردوان کا المیہ یہ ہے کہ وہ قومی ریاست کے تصور میں پھنس چکا ہے۔ نہ اس سے باہر سوچتا ہے اور نہ اسے کوئی سوچنے دے گا۔وہ سمجھتا ہے کہ ترک قوم کو مسلمان امت کی قیادت کرنا چاہیے جیسے خلافت عثمانیہ میں کی گئی تھی۔ اسے تاریخ کا یہ سبق قومیت کے تناظر میں پڑھایا گیا ہے۔ خلافت عثمانیہ اپنے آغاز سے ایک مسلم امہ اور مسلم خلافت کے جانشین کے طور پر قائم ہوئی تھی۔ بحیثیت ترک قوم کے نہیں۔ یہ بیج تو لارنس آف عریبیہ نے عربوں کے دلوں میں بویا تھا کہ تم ہی اصل میں اسلام کے وارث ہو۔ یہ ترک تم پر حکومت کرنے کہاں سے آگئے۔ اس کے مقابلے میں کمال اتاترک نے اسلام کے تصور ملت کی نفی کرتے ہوئے ترک قومیت کا نعرہ بلند کیا اور جنگ عظیم اول کے بعد جو بچا کھچا ترکی مل سکا اسے ترک قومیت کے پھریرے اور سیکولرازم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا۔

یوں جیسے مشرف کے ہاں ''سب سے پہلے پاکستان'' تھا اسی طرح اردوان کے ہاں بھی ''سب سے پہلے ترکی'' اور اس کا مفاد ہے۔ لیکن مشرف جو چاہے کرتا رہا، اسے کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ وہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں تھا، لیکن اردوان کو تو اپنے ووٹروں کو ساتھ رکھنا ہے، ان کا دل مٹھی میں کرنا ہے، اسی لیے وہ ان کے جذبات کو گرم رکھنے کے لیے ایسے چند اقدامات کرتا رہتا ہے جن کی بدولت لوگ اس کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ قومی ریاست کے تصور اور جمہوری حکومتی نظام نے لوگوں کو ایسے لیڈر کا تصور دیا ہے جو باہر سے مغربی نظر آئے، اس کی زندگی بلکہ طرز زندگی بیرونی دنیا سے مختلف نہ ہو، یورپ کی طرح جمہوری نظام حکومت کی پاسداری کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے قومی مفاد کو پوری دنیا بلکہ انسانیت کے مفاد پر بھی ترجیح دے۔

یہ قومی مفاد ہی تو ہے، جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم میں پندرہ کروڑ افراد کو لقمہ اجل بناتا ہے۔ ویت نام میں لاکھوں لوگوں کے گلے کاٹتا ہے، عراق اور افغانستان میں شہروں کے شہر کھنڈر بنادیتا ہے۔ امریکہ اور مغرب نے سوچ لیا کہ کس کس ملک کو تباہ وبرباد کرنا ان کے مفاد میں ہے تو پھر ان پر چڑھ دوڑے، نہ کسی کو معصوم بچے یاد آئے اور نہ کمزور عورتیں جو بھی اس قومی مفاد کے میزائل کی زد میں آیا ماردیا گیا اور بدر کردیا گیا۔ اردوان جس ملک کا سربراہ ہے اس کے پاس چھ لاکھ مسلح افواج کے جوان اور جدید طیاروں سے لیس ایئر فورس ہے۔ وہ نیٹو کا اتحادی ہے۔ ترکی کے عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ ایران اپنے جرنیلوں اور پاسداران کو بشارالاسد کے قتل عام میں مدد دینے کے لیے بھیج سکتا ہے۔ حزب اللہ لبنان کا عالمی بارڈر عبور کرکے دمشق اور حلب میں معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیل سکتی ہے لیکن اردوان کی چھ لاکھ فوج شہریوں کو بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھتی، لیکن جیسے ہی ترکی کے خلاف کردوں کی تنظیم پی کے کے کوبانی اور جرابلس میں زور پکڑنے لگتی ہے، ترک افواج شام میں داخل ہوتی ہیں اور ایک وسیع علاقے کو اپنے زیر انتظام کرلیتی ہیں جسے احرار الشام Free syrian army کے ساتھ مل کر آج بھی کنٹرول کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود اردوان کے ترکی کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم آئی ایچ ایچ پورے شام کے مہاجرین کی مدد کررہی ہے۔ اس کے ارکان دمشق اور حلب وغیرہ میں بھی جاتے ہیں۔

اردوان نے چالیس لاکھ شامی مہاجرین کو ترکی کی شہریت دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے اس کی سیاست کو دو فائدے ہوں گے، ایک تو یہ کہ کرد اقلیت کے مقابلے میں ایک نئی عرب اقلیت پیدا ہوگی جس کے دل ترکوں کے لیے دھڑکیں گے اور دوسرا وہ طیب اردوان کے مستقبل سپوٹر رہیں گے۔ تیسرا فائدہ وہ ہے جو امریکہ نے ضیاء الحق کے ذریعے افغان مجاہدین کو کنٹرول کرنے کے بعد جنیوا معاہدہ کروانے کے لیے حاصل کیاتھا۔ کل اگر شام پر بشارالاسد کی جگہ کسی اور کو اقتدار سونپا جانا ہے تو اس نئے ''جنیوا معاہدے'' کا سب سے اہم کار پرداز اردوان کا ترکی ہوگا۔ گزشتہ دنوں ترکی میں ریفرنڈم کے دوران جن لوگوں سے مجھے بات کرنے کا اتفاق ہوا وہ اردوان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کے حوالے سے بہت سی امیدیں لگائے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ آہستہ آہستہ ترکی کو ایک اسلامی سلطنت میں ڈھال دے گا۔ لیکن جب میں ان سے سوال کرتا کہ ان چودہ برسوں میں اس نے معیشت کو ٹھیک کرلیا، لیکن شراب، فحاشی، جوئے، نائٹ کلب، مساج پارلر جیسی چیزوں پر پابندی نہ لگائی۔ اس لیے تو اتاترک زیادہ جاندار تھا کہ اس نے ایک لمحہ بھی نہ سوچا کہ عوام کی اکثریت اس کے خلاف ہوگی، مذہب کو ترک زندگی سے خارج کردیا۔ ترک لباس تک ختم کیا اور اذان بھی ترکی زبان میں شروع کردی۔ ہزاروں کو قتل کیا جو اس کے اقدامات کے خلاف تھے مگر ترکی کو سیکولر ریاست بنا کر اس دنیا سے رخصت ہوا۔ میرا اگلا سوال ہوتا کہ کیا صرف حجاب پر سے پابندی اٹھانا اور مزارات مقدسہ پر حاضری دینا اسلامی نظام کے نفاد کے لیے طاقت حاصل کرنے دیں، وہ سب کچھ کرے گا۔

دوسری جانب اس کے مخالفین کہتے کہ یہ طاقت حاصل کرکے دراصل خود ایک ''سطان'' بننا چاہتا ہے۔ اردوان اپنے بیانات اور رفاحی اقدامات کی وجہ سے مسلم امہ کے دل میں اپنی قیادت کا چراغ روشن کررہا ہے۔ برما کے مسلمان برسوں سسکتے مرتے رہیں کوئی سفارتی کوشش یادباؤ نہ ڈالا جائے لیکن پھر ایک دن اپنی بیوی کو بھیج کر اظہار یک جہتی کیا جائے۔ اسرائیل سے 2014ء میں گزشتہ دہائی کی ریکارڈ تجارت بھی کرے اور فریڈم فوٹیلا کے ذریعے غزہ کا بارڈر بھی کھلوائے۔ شمعون پیریز کو ترک پارلیمنٹ سے خطاب کا موقع بھی دے۔ اسرائیل کو ترکی کے مناوگٹ دریا کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا معاہدہ بھی کرے، شام کے بارڈر کے ساتھ ساتھ اسرائیلی کمپنیوں کو 49 سال کے لیے زمین بھی لیز پر دے، اسرائیل کو دسمبر 2012ء میں نیٹو کو رکن بنانے کی حمایت کرے اور ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو پھانسیاں دینے پر سفیر واپس بھی بلائے، بھارت جائے اور کشمیر کے حق میں بیان بھی دے۔ اس کے سارے بظاہر اقدامات ایسے ہیں جو عام آدمی کے دل میں امید جگاتے ہیں، اسے مسلم امہ کے لیے ایک قیادت کے طور پر زندہ کرتے ہیں۔ یہ امت جو کبھی مصطفی کمال، کبھی رضاشاہ پہلوی، جمال عبدالناصر، معمر قذافی، ذولفقار علی بھٹو، آیت اللہ خمینی، حسن نصراللہ اور احمدی نژاد جیسے رہنماؤں سے امیدیں وابستہ کرکے مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں بار بار ڈوبی اور بار بار ابھری، اس مت نے اس قدر دھوکے اور فریب کھائے کہ ہر بار یہی احساس ہوا کہ

چمن میں رنگ وبونے اس قدر دھوکے دیئے مجھ کو
کہ میں نے ذوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

اس امت نے گزشتہ ایک سو سال سے جسے پھول سمجھا اور وہ ان کے لیے زہریلا کانٹا ثابت ہوا، ہر کوئی اپنی شخصیت اور نظریے کا غلام، اپنے مسلک کا وفادار، اپنی ہوس اقتدار کا پجاری، ایسا صرف اور صرف اس لیے ہے کہ اس امت میں لیڈر شپ کا معیار اور پیمانہ سیدالانبیاء کی ذات نہیں۔ یہ وژن سیدالانبیاء کے سبز گنبد سے نہیں بلکہ اپنے اپنے لیڈروں کی قبروں، مزارات اور قبرستانوں سے لیتے ہیں۔ اس کی کسوٹی چرچل، آئزن ہاور اور ڈیگال ہے۔ جس دن کسوٹی سیدالانبیاء کی ذات ان کا اسوہ اور سنت ہوگئی، روح شرق کو بدن

مل جائے گا۔ اقبال کا خواب تعبیر پا جائے گا
نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نموداسکی
کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی                                                                               بشکریہ روزنامہ "92 نیوز"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے