ایرانی میڈیا کے ذرائع نے سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ انٹرویو پر اپنے غصے بھرے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے واضح اور دوٹوک انداز میں یہ کہا تھا کہ ایران کو ایک سول ریاست یا بدستور ایک انقلابی ریاست برقرار رہنے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ ایک شہری ریاست سے تو باہمی مفادات اور سیکولر اصولوں کی بنیاد پر کسی فریم ورک پر کوئی اتفاق رائے کیا جاسکتا ہے لیکن انقلابی ریاست سے ایسا معاملہ کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

شہزادہ محمد نے روس کے بارے میں بھی اس انٹرویو میں گفتگو کی تھی۔انھوں نے کہا کہ روس کے ساتھ اس کے مختلف منصوبوں اور نظریات کے باوجود اتفاق کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی ایک مشترکہ بنیاد ہے اور اس سے مذاکرات کی بنیاد برسرزمین ترقی ، دوطرفہ مفادات اور خوبیوں اور خامیوں پر ہے۔

انھوں نے ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ ماضی میں سعودی عرب کے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ مرحلہ تھا جب انھیں ’’ ڈسا‘‘ گیا تھا اور مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ ڈسا نہیں جاتا۔

یہ بہت آسان ہے کہ ایران کو ایک شہری ریاست ہونا چاہیے جو بین الاقوامی کرداروں کا احترام کرے۔ دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کا پختہ وعدہ کرے اور ان کی خود مختاری کو نقصان نہ پہنچائے۔اگر ایران اس کا وعدہ کرتا ہے تو اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیشتر مسائل خود بخود ہی ختم ہوجائیں گے۔

---------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے