یمن میں جاری بحران کے تناظر میں دو سیاسی گروپ ایسے ہیں جو مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ایک دوسرےسے بہت حد تک مشابہ ہیں۔ یہ اخوان المسلمون اور جنوب میں علاحدگی پسند گروپ ہیں۔ یہ دونوں گروپ خود نہیں لڑتے ہیں اور دوسروں پر انحصار کرتے ہیں کہ وہی ان کے لیے لڑیں۔یہ باہمی مخاصمت اور میڈیا پر تندوتیز مباحث کے باوجود ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔

اخوان المسلمون کا خیال ہے کہ جنوب کی علاحدگی اس کے لیے قابل قبول ہے ۔ اس سے اخوانیوں کو شمال میں سیاسی منظرنامے پر بالادستی حاصل ہوجائے گی کیونکہ( حوثی) باغی لڑائی کی وجہ سے نڈھال ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب جنوب میں علاحدگی پسندوں کو یقین ہے کہ شمال سے الگ ہونے سے ان کا علاقہ اور آبادی کم ہوجائے گی لیکن عدن میں حکمرانی کے لیے ان کے مواقع بڑھ جائیں گے۔

میں نے پہلے بھی اس موضوع پر ایک مضمون لکھا تھا اور اس میں جنوبی یمن کی علاحدگی کی مخالفت کی تھی۔اس پر مجھے بہت سے جذباتی ردعمل موصول ہوئے تھے اور ان میں میرے نقطہ نظر کو مسترد کیا گیا تھا لیکن میں اختلاف کرنے والے ان سب حضرات کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ ان کے دلائل مجھے قائل نہیں کرسکے ہیں۔

علاحدگی

پہلی بات تو یہ ہے کہ علاحدگی سیاسی تبدیلی کا ایک منصوبہ ہے اور اس کا حصول بغاوت سے بھی زیادہ مشکل ہے۔اصولی طور پر ایک علاقہ ایک ریاست سے محض اس بنا پر الگ نہیں ہوجاتا کہ اس کے لوگوں نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔اگر ایسا معاملہ ہوتا تو بہت سے ممالک اب تک متعدد ریاستوں میں بٹ چکے ہوتے۔

اس عمل کے بندوبست کے لیے ایک بین الاقوامی قانون بھی موجود ہے۔عراق میں کرد 1990ء میں علاحدہ ہوگئے تھے یعنی کویت کی آزادی کے لیے جنگ سے بھی پہلے۔ لیکن ستائیس سال ہونے کو آئے ہیں ،انھیں ایک ریاست کے طور پر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کردوں کی اپنی زبان ہے ،جھنڈا ہے اور پارلیمان ہے جو انھیں باقی عراق سے الگ تھلگ ایک پہچان عطا کرتی ہے۔صومالیہ میں صومالی لینڈ کی شکل میں ایسا ہی ایک اور نمونہ بھی موجود ہے۔یہ علاقہ بیس سال قبل صومالیہ سے الگ ہوا تھا۔یہ اب ایک مستحکم چھوٹی سی ریاست ہے او ر اس کی اپنی مجاز اتھارٹی ،جھنڈا اور کرنسی ہے۔اس سب کے باوجود انھیں ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

حتیٰ کہ اسکاٹ لینڈ بھی برطانیہ کی رضا مندی کے بغیر اس سے الگ نہیں ہوسکا تھا۔ دنیا میں اس وقت علاحدگی کی تحریکوں کی دسیوں مثالیں موجود ہیں جو اپنی ریاستوں سے الگ ہونے کی مانگ کررہی ہیں۔ان میں سے بعض اگر آزادی حاصل بھی کر لیتی ہیں تو بین الاقوامی نظام انھیں تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

یمن کے جنوب میں علاحدگی پسند بھی صرف اور صرف مناسب حالات ہی میں الگ ہوسکتے ہیں اور موجودہ صورت حال میں وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں جبکہ جنگ کی وجہ سے ایک مستحکم ریاست کا وجود ہی نہیں رہا ہے۔ اگر یمن میں صورت حال مستحکم ہوتی ہے اور ایک مستقل حکومت تشکیل پاتی ہے( موجودہ حکومت عارضی ہے) اور ایک منتخب پارلیمان معرض وجود میں آجاتی ہے تو پھر اگر جنوب اور شمال متفق ہوں تو علاحدگی عمل میں آسکتی ہے۔سودان (سوڈان) میں ایسے ہی ہوا تھا اور صدر عمر حسن البشیر کی حکومت نے بین الاقوامی حمایت اور تعاون سے جنوبی سودان کی علاحدگی سے اتفاق کیا تھا۔

جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں کی غوغا آرائی اگر ملاحظہ کی جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ وہ نہ صرف ان حقائق کو نظر انداز کررہے ہیں بلکہ وہ آزادی کے بعد مستقبل میں درپیش ہونے والے مسائل سے بھی پہلو تہی کررہے ہیں۔جنوبی یمن کو بہت سے مسائل درپیش ہیں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت نے انھیں بدترین بنا دیا تھا۔

جنوب میں بہت سے فریق ہیں جن کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش جاری ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جب جنوبی یمن الگ ہوگا تو یہ مستحکم بھی رہ سکے گا۔اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہاں صورت حال خراب ترہوجائے گی اور تنازعات شدت پکڑیں گے۔یمن کے جنوب میں بھی شمال کی طرح متحارب قبائل اور مقامی سردار ہیں جو ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

مجھے اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ جنوب کے مکینوں کی اکثریت علی عبداللہ صالح کی حکومت کے دنوں ہی سے علاحدگی کی خواہاں ہے۔ان پر شمالی یمن کے ساتھ اتحاد مسلط کیا گیا تھا کیونکہ شمالی یمن میں علی صالح کی حکومت نے جنوبی جماعتوں کے اتحاد کو شکست سے دوچار کیا تھا۔

ان کے المیے کا آغاز سازشوں اور تنازعات سے ہوا تھا اور یہ نام نہاد اتحاد پر منتج ہوا تھا۔علی صالح نے شمال کی طرح جنوب کو بھی مسائل سے دوچار کیا تھا اور انھوں نے ملک کے اس حصے کو بھی قحط اور بھوک کا شکار کردیا تھا۔

تاہم اہلِ جنوب کو جشن منانے کی کوئی جلدی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ علاحدگی کا فیصلہ بین الاقوامی قانون نے کرنا ہے عدن کی شاہراہوں نے نہیں۔ یمن میں استحکام کے بعد بھی اگر علاحدگی ممکن نہیں ہوتی ہے تو اور بھی اچھے حل ہوسکتے ہیں۔ان میں وفاق کی سطح پر انتظامی آزادی یا کنفیڈریشن کا نظام رائج کیا جاسکتا ہے۔

------------------------------

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے