یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ داعش نے اپنی فوجی تربیت گاہوں کی تصاویر جاری کی ہیں لیکن اس کی گذشتہ جمعہ کو جاری کردہ تصاویر نے توجہ اپنی جانب مبذول کرالی تھی کیونکہ یہ فلپائن میں داعش کی تصاویر تھیں اور انھیں ’’مشرقی ایشیا میں خلیفہ کے فوجی‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

فلپائن میں داعش کی موجودگی کا گذشتہ سال شام کے شہر الرقہ سے اعلان کیا گیا تھا۔’’ ریاست فلپائن‘‘ میں اس جنگجو گروپ کے ایسنیلون ہیپلون نامی سربراہ نے یہ اعلان کیا تھا۔ ہیپلون ابو سیاف گروپ کے جنگجوؤں سے مختلف نہیں ہے۔ وہ بالعموم جاہل اور ناخواندہ ہوتے ہیں۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں فلپائن کی مسلح افواج نے ابو سیاف گروپ کے سب سے فعال اور مشہور جنگجو معمر عسکری کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ عمار یا ابو رامی کے نام سے بھی معروف تھا۔ اس نام کی الگ سے ایک کہانی ہے۔

مجھے جون 2012ء میں ابو سیاف گروپ نے اغوا کر لیا تھا۔ اغوا سے دوسرے روز عسکری میرے پاس آیا۔ اس نے ہاتھ میں قرآن پکڑ رکھا تھا اور وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں مجھ سے یوں گویا ہوا:’’ آپ عرب ہیں اور عربی بولتے ہیں۔ اس لفظ کے کیا معنی ہیں ۔وہ لفظ ’’رمیت‘‘ کا مطلب پوچھ رہا تھا جس کا معنی (کنکر وغیرہ) پھینکنا ہے۔ میں نے اس کو اس لفظ کا مطلب بتایا اور اس کو سمجھایا کہ رامی سے مراد وہ شخص ہے جو پھینکتا ہے۔ اس کے جواب میں وہ یوں گویا ہوا: آج سے میرا یہی نام ہو گا۔ اس کے بعد وہ اسی عرفی نام کے ساتھ زندہ رہا اور مرا تھا۔

وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ایک جامعہ میں داخل ہوا تھا لیکن اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی اور پہلے ہی سال وہ مورو نیشنل لبریشن فرنٹ (ایم این ایل ایف) میں شامل ہو گیا تھا۔ وہ میرے اغوا کاروں میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھا جبکہ اس گروپ کے زیادہ تر جنگجو جنگلوں کے سوا کچھ نہیں جانتے تھے کیونکہ وہ جنگلوں ہی میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑے تھے۔ اس لیے وہ ناخواندہ رہ گئے تھے۔

ہر مرتبہ جب ابو رَمی یہ محسوس کرتا کہ میری رہائی کے لیے مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور تاوان کی رقم نزدیک آ رہی ہے تو وہ مجھے کہتا:’’آپ میرے بھائی ہیں اور ہم آپ کو بہت جلد رہا کر دیں گے‘‘ لیکن جب ایم آئی ایل ایف سے مذاکرات منقطع ہو جاتے تو وہ مجھے خوارجی کہہ کر پکارتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے اس سے یہ پوچھ ہی لیا کہ کیا وہ اس لفظ کا مطلب جانتا ہے۔ اس نے خاموشی اختیار کر لی کیونکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتا تھا کہ خوارج اور خوارجی کا کیا مفہوم ہے۔

ابو سیاف گروپ کے جس دھڑے نے مجھے اغوا کیا تھا، اس کے سربراہ کا نام کسمان سوادجان تھا۔ وہ ایک جاہل تھا اور اپنے ماضی کے قصے بڑھا چڑھا کر سنایا کرتا تھا۔ وہ قزاق رہا تھا اور اس نے تاوی تاوی کے جزیرے میں مچھیروں کی بیسیوں کشتیوں کو لوٹنے کا دعویٰ کیا تھا۔پھر وہ اچانک ابو سیاف گروپ کا لیڈر ٹھہرا تھا۔

ایک مرتبہ اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ’’کیا امریکی شیعہ ہیں اور کیا لندن امریکا میں ہے؟‘‘میں نے اس کو یہ جواب دیا تھا کہ جب مجھےاغوا کیا گیا تھا تو امریکا ایک الگ جگہ تھی اور لندن الگ تھی۔ اب کچھ معلوم نہیں ہے کہ میرے اغوا کے بعد دنیا میں کیا تبدیلیاں رونما ہوگئی ہیں۔

فلپائن کے جنوب میں دس سے زیادہ گروپ یا کمیونٹیاں خود کو ابو سیاف گروپ کہلاتی ہیں۔ ان میں زیادہ تر سولو اور باسیلان کے جزائر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ہر کمیونٹی مختلف خاندانوں پر مشتمل ہے اور اس کا سربراہ ان میں کھانے پینے کی اشیاء اور دوسرا امدادی سامان تقسیم کرتا ہے۔ ابو سیاف گروپ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی یہ سودے کاری ہوتی ہے کہ وہ لوٹ مار کے سامان میں سے ایک خاص شرح سے انھیں دیں گے اور پھر انھیں گروپ کا نام استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

ان میں سے بیشتر کمیونٹیوں نے داعش میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ داعش نے فلپائن کے جنوب میں اپنی تین ریاستون کا اعلان کیا ہے۔ داعش، بیسیلان، اس کے قائد ہیپلون ہیں۔ داعش لاناؤ، اس کی قیادت موتی برادران کرتے ہیں اور داعش میجنڈا ناؤ، اس کی قیادت اسماعیل ابوبکر یا بنگوس کرتے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا داعش کی دونوں موخر الذکر ریاستوں نے ہیپلون کی بیعت کرلی ہے یا نہیں کیونکہ انھیں ناخواندہ ہونے کی وجہ سے کم تر سمجھا جاتا ہے۔

داعش اور ابو سیاب گروپ دونوں ہی مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (ایم آئی ایل ایف) کے خلاف ہیں کیونکہ اس تنظیم نے فلپائن کے جنوب میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے حکومت کے ساتھ ایک خود مختار نظم ونسق قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

ایم آئی ایل ایف کے چیئرمین حاجی مراد ابراہیم کو اول الذکر دونوں گروپ ’’ کافر‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس علاقے میں اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے لوگوں کو کافر قرار دینے کا عام چلن ہے۔

_____________________
بکر عطیانی ایک تجربے کار عرب صحافی ہیں اور وہ گذشتہ دو عشروں کے دوران میں ایشیا سے تعلق رکھنے والے مختلف جنگجو گروپوں کے بارے میں رپورٹنگ کرچکے ہیں۔ وہ اسلام آباد میں العربیہ نیوز چینل کے بیورو چیف تھے۔ پاکستان سے وہ صحافتی ذمے داریوں کے سلسلے میں فلپائن گئے تھے جہاں انھیں جنوبی فلپائن میں ابو سیاف گروپ نے اغوا کر لیا اور اٹھارہ ماہ تک یرغمال بنائے رکھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے