سعودی عرب عوامیہ کے علاقے مسورہ میں جن ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہا ہے، اس میں ایران کے حمایت یافتہ انتہا پسند گروپ اور مذہبی جماعتیں رخنہ ڈالتی رہتی ہیں۔

ان کا مقصد ان خالی گھروں میں اپنی تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنانا ہے ،جن کے مکین انھیں چھوڑ کر جاچکے ہیں یا وہ ایسے خستہ حال مکانوں کو اپنی آماج گاہیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جن کے مکین نقل مکانی کرکے زیادہ ترقی یافتہ علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پرانے محلے خستہ حال ہیں اور وہاں مکانات ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔گذشتہ تین عشروں کے دوران میں انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی عرب کو عوامیہ سمیت متعدد علاقوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

لیکن جب سعودی حکومت نے عوامیہ شہر کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے از خود منصوبے شروع کیے اور اس کے مکینوں کو زیادہ بہتر معیار زندگی مہیا کرنے کی کوشش کی تو جولوگ پہلے ترقیاتی منصوبوں کے مطالبے کرتے رہتے تھے،انھوں نے ہی ان کی مخالفت شروع کردی اور اس کا جواز یہ تراشا کہ یہ تو سکیورٹی کے مقاصد کے لیے وضع کیے گئے منصوبے ہیں اور یہ کوئی ترقیاتی منصوبے نہیں ہیں۔

دراصل یہ سب غلط ہے۔حکومت عوامیہ کی تعمیر وترقی اور بحالی کے لیے منصوبہ بندی کررہی ہے۔ دہشت گردی کے پیش نظر یہ ممکن ہے،اس عمل کو تیز کردیا گیا ہو لیکن ان کاموں کی بنیاد ترقی ہی ہے اور یہ سکیورٹی سے متعلق نہیں ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی مشتبہ تنظیموں کو کون قائل کرسکتا ہے کیونکہ وہ حقائق کو مسخ کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔

-------------------------------------

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے