صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوری میں اقتدار سھایہلنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ہفتہ کی صبح الریاض پہنچ گئے ہیں۔

وہ جب واشنگٹن سے روانہ ہوئے تو وہاں ایک غوغا آرائی جاری تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خواہ کوئی کچھ ہی کہے لیکن وہ ایک ایسے شخص ہیں جو اپنے دل اور دماغ سے بولتے ہیں۔

انھوں نے انتخابات کے دوران میں مختلف موضوعات پر جو بلند آہنگ گفتگو کی تھی اور جو بلند بانگ دعوے کیے تھے ،اس پر بہت سے لوگ تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔

انھوں نے میکسیکیوں اور مسلمانوں کے بارے میں جو کچھ کہا،اس پر امریکا کے مختلف حلقوں میں پائی جانے والی تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

ان کے مسلمانوں کے بارے میں بیانات سے مسلم دنیا میں بہت سے لوگوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی تھی جبکہ ان کے انتخابی نعرے بہت سے لوگوں کو بھائے بھی تھے۔ان کے اس بیان:’’ میرے خیال میں اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے‘‘ ، سے کروڑوں مسلمانوں کے دل دُکھے تھے۔

لیکن آج جب وہ سعودی سرزمین پر اترے ہیں تو ہمیں حقیقی معنوں میں یہ یقین کرنا ہوگا کہ انھوں نے جو کچھ کہا تھا ، وہ سب کچھ ایک انتخابی مہم کا حصہ تھا۔ وہ بہت سے مسلم لیڈروں سے گفتگو کرنے والے ہیں اور وہ بھی ان کی اس گفتگو کے منتظر ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ قیاس یہ ہے کہ وہ امن اور رواداری کی ضرورت پر زور دیں گے اور یہ کہیں گے کہ لوگوں کو اسلام کو دہشت گردی سے نہیں جوڑنا چاہیے۔

اس موقع پر انھیں کسی اکھڑپن کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔انھیں دوٹوک انداز میں اسلام فوبیا کو مسترد کرنا چاہیے اور اس کی تبلیغ اور اس پر عمل پیرا ہونے والوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

یہ سعودی عرب کا ایک کریڈٹ ہے کہ اس نے بڑی تعداد میں عرب اور مسلمان لیڈروں کو ایک چھتری تلے اکٹھے کیا ہے تاکہ امریکی صدر سے بات کی جاسکے۔

مشرق وسطیٰ کو اپنے داخلی مسائل اور بیرونی مداخلت سے نمٹنے کی صلاحیت نہ ہونے کی بنا پر بھاری قیمت چکا نا پڑی ہے۔ یہاں بہت سا خون بہ چکا ہے۔اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کو جو بنیادی ایشوز درپیش ہیں ،ان میں عراق ،شام اور خطے کے دوسرے ملکوں میں نظم ونسق کی بحالی پہلے نمبر پر ہے۔تاہم اس مقصد کے لیے توپوں کو خاموش کرانا ہوگا اور لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کا احترام کرنا ہوگا۔

بڑے تصفیہ طلب تنازعات میں سے مسئلہ فلسطین اور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ سب سے نمایاں ہے۔وہ اقوام متحدہ کی ہر قرارداد کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے۔اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے امریکا ایک دیانت دار بروکر کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ ہر کسی کی داد وتحسین کے مستحق ٹھہریں گے ،اگر وہ اسرائیل کو اس بات پر آمادہ کر لیتے ہیں کہ وہ قبضے اور جبر واستبداد کو جاری رکھ کر دنیا کی نظروں میں اچھا نہیں بن سکتا ہے۔

اس صورت حال میں ان کا بیانیہ ان کی دورے کی مصروفیات اور میل ملاقاتوں سے زیادہ طاقت ور اور تعمیری ہوگا۔ دنیا بھر کے امن پسند لوگ امریکا کی مسلم دنیا کے ساتھ شراکت داری کو کامیابی سے ہم کنار ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خالد المعینا اخبار سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
kalmaeena@saudigazette.com.sa
اورTwitter: @KhaledAlmaeena

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے