امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہفتے کے روز ریاض کے دورے کے آغاز سے جس کے ذریعے وہ اپنی بین الاقوامی بیرونی سرگرمی کا افتتاح کر رہے ہیں.. ایران اور اس کے تمام متعلقین کو سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے نو سینئر اہل کار بھی پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں جو POLITICO نامی ویب سائٹ پر بھی نشر کیا گیا ہے.. ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اُن کا سعودی عرب کا دورہ اور اس کے نتائج نیوکلیئر معاہدے JCPOA کو نقصان پہنچانے یا سعودیوں اور اماراتیوں کی خاطر یمن میں امریکا کے ملوث ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہم سب کو اس دورے کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے جو خطے میں اور خطے کے باہر کئی فریقوں کے لیے ایک سیاسی پیغام ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے بعض ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جن سے اُن کی سنجیدگی اور امریکا کی جانب سے اپنائے گئے سیاسی راستے کی تصدیق ہوتی ہے جو ان کے پیش رو صدر اوباما سے بڑی حد تک مختلف ہے۔ ان اقدامات میں اردن کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں شامی افواج اور ایرانی ملیشیاؤں پر حالیہ امریکی فضائی بم باری شامل ہے۔ یہ کارروائی شامی حکومت اور ایران کے لیے واضح دھمکی ہے کہ وہ اردن کو نشانہ نہ بنائیں۔ اس سے قبل شام میں الشعیرات کے ہوائی اڈے پر بم باری شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مسلسل استعمال کے خلاف ایک اہم پیغام تھی۔ علاوہ ازیں امریکی انتظامیہ نے یمن میں اپنی پالیسی کو درست کیا اور باغیوں کے خلاف برسرِ جنگ سعودی عرب اور اس کے زیر قیادت اتحاد کی حامی بن گئی۔ امریکا نے بحری تفتیش کی کارروائیاں کیں، گولہ بارود دوبارہ بھیجنا شروع کیا اور یمن میں پھر سے فوجی انٹیلی جنس کا تعاون نظر آیا جو عرب اتحاد کے لیے بہت اہم ہے۔

تاہم ان تمام امور کا یہ مطلب نہیں کہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ جنگ کا محاذ کھولنا چاہتے ہیں یا ایران کے ساتھ مغربی ممالک کے نیوکلیئر معاہدے کی منسوخی چاہتے ہیں۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ایسا ہونا اِن ممالک کے مفاد میں نہیں اور یہ سرکاری طور پر اپنے موقف کا اعلان کر چکے ہیں۔ ابتدائی تحریروں میں مذکور مضمون لکھنے والی نو امریکی شخصیات اس مسئلے کو جانتی ہیں کہ ایران نے اوباما کی دوسری مدت صدارت میں امریکا کو اُس وقت یرغمال بنا لیا جب واشنگٹن نے تہران میں ایرانی نظام کی عدم ناراضگی کو اپنی شدید خواہش بنایا تا کہ ایران نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کر دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایران کا عسکری وجود پھیل گیا۔ اوباما انتظامیہ نے اس معاہدے کی خاطر خطے کے ممالک کے امن کے خلاف ایران پر نوازشوں کی بارش کر دی جو خطے میں اس خطرناک انارکی اور خطے کی تاریخ میں بدترین المیے کا سبب بنی۔

مضمون کے لکھاریوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو طیش میں نہ لائیں۔ بالخصوص اُن کا ریاض کا دورہ ایرانی صدارتی انتخابات پر اثر ہو گا جس کا مطلب "معتدل" صدر حسن روحانی کی شکست اور اور ان کے شدت پسند حریف ابراہیم رئیسی کی کرسی صدارت تک رسائی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ سابقہ امریکی اہل کار اپنے مضمون میں تضاد کا شکار ہیں کیوں کہ وہ اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ انتخابات میں شدت پسند امیدوار کے حق میں دھاندلی ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی وہ ٹرمپ کے دورہ ریاض کے سبب ہونے والے ردّ عمل سے بھی خوف کھا رہے ہیں۔ ایران پر مرشد اعلی اور پاسداران انقلاب کی حکم رانی ہے لہذا یہ بات اہم نہیں کہ صدارتی انتخابات میں جیت کسی کی ہوتی ہے۔ یاد رکھیں کہ ایران کا تمام تر عسکری پھیلاؤ جو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں اور خطے میں ایرانی جنگیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی.. یہ سب کچھ "معتدل مزاج" روحانی کے دور میں سابق امریکی انتظامیہ کے زیرِ نظر ہوا۔ پھر یہ بھی بتائیے کہ تہران میں صدارتی اعتدال کہاں گیا اور اُن بہت سی ترغیبات کی قیمت کیا ہے جن کو اُس وقت واشنگٹن نے ادا کیا؟

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ امریکی انتظامیہ ایران کو نئی حقیقت کے سامنے لے کر آ سکتی ہے اور ایران پر لازم ہے کہ وہ خطے اور ساری دنیا میں انارکی اور تشدد پھیلانے کا سلسلہ روک دے۔ اس امر کو نہ صرف امریکا اور مغرب بلکہ خطے کے ممالک اور ایران کے پڑوسی بھی کشادہ دلی کے ساتھ مثبت طور پر لیں گے۔ البتہ کوئی واضح پیغام بھیجے بغیر، تہران دنیا بھر میں بحران پھیلانے اور کشیدگی پیدا کرنے کے علاوہ دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھے گا اور ساتھ ہی امریکا کے حلیفوں پر حملے بھی کرے گا۔ ایران نے خطے کو یرغمال بنا کر طویل برسوں تک واشنگٹن کو بلیک میل کیا جس کے نتیجے میں آخرکار اُس کو نوازا دیا گیا.. مگر اربوں ڈالر، بوئنگ طیاروں اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھی وہ اپنی روش سے باز نہ آیا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے