سعودی عرب میں شیعت تب سے موجود ہے جب سے سنی یا سنیت ہے۔شیعہ ہمارے ملک کے قومی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔وہ سب سے پہلے سعودی ہیں۔

ان کی عرب شیعہ کے طور پر مذہبی شناخت دوسرے نمبر پر آتی ہے۔اہل تشیع اسلام کے فرقہ وار تنوع کا حصہ ہیں۔سعودی عرب کے پہلے ، دوسرے اور تیسرے دور میں قائدین اور بادشاہوں نے شیعوں سے ان کی فرقہ وار وابستگی کی بنا پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا تھا بلکہ شاہ عبدالعزیز نے انھیں یہ برادرانہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی ظاہری شکل وشباہت میں منفرد نظر آنے کے لیے کسی قسم کی بناوٹ سے کام نہ لیا کریں۔ان کے شیعہ ہونے سے سعودی عرب سے ان کے تعلق پر کچھ فرق نہیں پڑا تھا۔

البتہ مسئلہ شیعہ اور سنی انتہا پسندوں کے ساتھ درپیش ہے اور اس کا تعلق ایران اور ولایہ فقیہ کے حکمرانی کے تصور اور اس دعوے سے ہے کہ امام مہدی کی آمد پر مسلمانوں پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں اول الذکر دعویٰ کیا ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان امام مہدی کے بارے میں اختلاف جانا پہنچانا ہے۔اسلامی تاریخ سے شناسائی رکھنے والا ہر کوئی اس سے آگاہ ہے۔

جدید نقطہ نظر کے حامل بعض شیعوں نے امام مہدی سے متعلق مختلف تشریحات پیش کی ہیں اور انھوں نے ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ کیا وہ ایک غائب شخصیت ہیں؟ کیا وہ ہماری طرح ہی کے انسان ہیں۔کیا وہ اہل البیت میں سے ہیں۔حسن نصر اللہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امام مہد ی کی آمد کے بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہ ان کا سیاسی بیان تو ہوسکتا ہے لیکن اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

بہر کیف ، مسئلہ ولایہ فقیہ کی حکمرانی اور نظریاتی اعتقادات میں نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اس سیاسی نظریے سے ہے جس کے تحت لوگوں کو ہلاک کیا جاتا ہے اور ملکوں کو تباہ کرد یا جاتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے