ہم سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب اور مسلم دنیا کے سربراہان ریاست و حکومت کے درمیان اجلاس کے (نتائج کے) منتظر ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس اجلاس کے میزبان ہیں۔

جیسا کہ امریکی اور سعودی عہدہ داروں نے کہا ہے۔اس سربراہ اجلاس کا مقصد انتہا پسندی اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ایک مضبوط تزویراتی اتحاد تشکیل دینا ہے تاکہ امن اور زندگی کی بقا ممکن ہوسکے۔ یہ کوئی مجرد الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایسے پروگرام ہیں جن پر ماہرین ایک عرصے سے کام کررہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کا اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے انتخاب بہ ذات خود ایک پیغام کا حامل ہے۔سعودی عرب تمام مسلمانوں کی منزل اور اسلام کا نقطہ آغاز ہے۔اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی ، انٹیلی جنس ،عسکری ،قانونی اور میڈیا کی سطح پر سب سے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

مسلم دنیا کے ساتھ دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور دہشت گردی کو استعمال کرنے والے ظہور پذیر کلچرکو شکست دینے کے لیے ایک اتحاد کی تشکیل دراصل اس جنگ میں جیت کے لیے ایک درست راستہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کےایک سینیر عہدہ دار نے قبل ازیں العربیہ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں نیٹو کے طرز پر ایک سکیورٹی تنظیم کی تشکیل چاہتے ہیں اور سعودی عرب کے دورے میں اس کا اعلان کریں گے۔

صدر ٹرمپ اور مسلم اور عرب ممالک کے لیڈروں کے درمیان الریاض میں اس بڑے اجلاس کا مقصد داعش اور دوسری تنظیموں کو شکست دینا ہے۔اس کا ایک مقصد ایسا اسلامی اتحاد تشکیل دینا ہے جو اس نظریے کو شکست دے سکے اور حقیقی اسلام کی تشہیر کرے۔اس کا مقصد واشنگٹن اور الریاض کے درمیان عسکری ،سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو گہرا اور مضبوط کرنا بھی ہے۔اس سلسلے میں بہت سی تفصیل کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

اس امریکی عہدہ دار نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے موقف کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ امریکا میں سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ایک حقیقی خواہش پائی جاتی ہے۔

یہ اتحاد دراصل صرف داعش کے خلاف ہی نہیں ہے بلکہ یہ افراتفری ، انارکی ،ملیشیا ؤں اور ہجوم کو تحریک دینے والوں کے خلاف بھی اتحاد ہے جیسا کہ خمینی ازم کی پالیسیوں میں ان سب باتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

الریاض میں تشکیل پانے والے عظیم اتحاد کا مقصد دہشت گردی اور اس کے تمام کلچروں : القاعدہ ، النصرہ ، انصار الشریعہ ،خمینی کے انقلابی گارڈز ، عراق میں خمینی کے پیروکاروں ،لبنان میں خمینی پارٹی اور یمن میں حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس نئے اتحاد کے بھی کسی قسم کے امتیاز کے بغیر یہی مقاصد ہیں۔اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں الریاض میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مرکز کا افتتاح ایک خصوصی پیغام کا حامل ہوگا اور یہ پوری دنیا اور بالخصوص شیعہ اور سنی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والی مسلم دنیا کے لیے ایک وعدہ اور ایک عزم ہے۔

الریاض اس مقصدِ عظیم کی اہمیت سے آگاہ ہے اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ عرب امریکی اسلامی سربراہ اجلاس عربوں اور مغرب کے درمیان ایک شراکت داری قائم کرنے جارہا ہے۔اس لیے اس سربراہ اجلاس کا یہی ایک سب سے بڑا مقصد ہے۔

حرف آخر کے طور پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مذہبی اصلاحات کی کامیابی اور مسلم انتہا پسندی کے خلاف جنگ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔بالکل ایسے ہی جیسے عالمی حدت ( گلوبل وارمنگ) کا مسئلہ ہے اور اس سے تمام انسانوں پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اس تناظر میں عرب ،اسلامی ، امریکی سربراہ اجلاس ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اچھائی کے لیے ایشوز پر تعاون بھی ایک اچھی بات ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے