حجتہ الاسلام حسن روحانی بھاری اکثریت لے کر کامیاب ہو چکے ہیں۔ ایک کروڑ ووٹوں کی سبقت سے کامیاب ہونے والے روحانی نے ایران کے شہری متوسط طبقے اور بےروزگار نوجوانوں کے دل جیت لئے ہیں لیکن ایران میں کچھ نہیں بدلے گا جوں کا توں رہے گا وہ مرجع الخلائق وہی ولایت فقیہ کا پراسرار ادارہ جو ایرانی انقلاب کا نگہبان اور نگران ہیں۔

حجتہ الاسلام حسن روحانی نے ماہر ناول نگار کی طرح اپنی دستان حیات کو ازسرنو خود لکھا ہے کہ وہ حالات و واقعات کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے جناب حسن روحانی 70 کی دہائی میں انگریزی سیکھنے اور ٹیکسٹائل ڈیزائن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے برطانیہ میں مقیم تھے لیکن جونہی مطلع سیاست پر انقلاب کے بادل چھاتے محسوس کئے تو ذہین وفطین حسن روحانی سب کچھ چھوڑ چھاڑ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دین مبین کے طالب علم کی حیثیت سے قم پہنچ جاتا ہے اور صرف چند ہفتے "تحصیل دین" میں صرف کرکے مہر تصدیق ثبت کروا لیتا ہے اور پھر وہ اپنا خاندانی نام فریدون ترک کرکے روحانیت کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے حسن فریدون وہ بادشاہ جو ایرانی قوم پرستی کی علامت ہے جبکہ روحانی خالص عربی لفظ ہے جو دینی تعلیم اور سلسلہ تصوف کی نشانی ہے لیکن روحانی کوعلم تھا کہ ایرانی سماج میں عوام کو متاثر کرنے کے لیے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بڑی اہم ہوتی ہے اس لیے وہ فرانس کی ایک یونیورسٹی سے بغیر پڑھے لکھے ڈاکٹر کی درجہ تحصص والی ڈگری بھی حاصل کر لیتے ہیں اس طرح ڈگریاں تیسری دنیا کے ممالک کے ذہین لوگوں کے لیے جاری کرنے کا انتظام مغربی دنیا میں عام ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا(Jack Straw) نے جناب روحانی کے لیے اسی طرح کی برطانوی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا اہتمام کیا اورجناب روحانی کچھ پڑھے لکھے بغیر''اسلامی قانون ''میں پی ایچ ڈی قرار پائے۔

حسن روحانی کئی دہائیوں سے تہران کے حکمران طبقے میں شامل ہیں اوراقتدار کی راہداریوں سے بخوبی شناسا ہونے کے باوجود ترقی پسند، میانہ رو اور روشن خیال سمجھے جاتے ہیں۔

اپنی یادداشتوں میں حسن روحانی دعوی کرتے ہیں کہ وہ 12سال کی عمر سے ایرانی انقلاب کی دیوقامت شخصیت آیت اللہ محمد بہشتی سے خصوصی قرب رکھتے تھے جنہیں 1981میں دہشت گردی کانشانہ بنایا گیا تھا پھر روحانی، دور موجود کے مرد آہن علی ہاشمی رفسنجانی کے قافلہ اقتدار میں شامل ہوگئے جنہوں نے 1988سے 1997تک بلا شرکت غیرے ایران پر حکومت کی تھی اورتہران کے ایوان اقتدار میں ان کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا اس تناظر میں جناب حسن روحانی کو میکاولی سیاست کا شاہکار کہا جا سکتا ہے۔ روحانی اقتدار کے کامیاب کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں وہ ریشم ایسے نرم  ونازک لہجے میں شرین مثال ہوتے ہوئے آہنی گرفت سے فریق مخالف کوبے بس کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ان کے مداح اور دوست انہیں میانہ رو اور اصلاح کار قرار دیتے ہیں انہوں نے اپنی زبان سے کبھی ایسا کوئی دعوی نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اصلاحات متعارف کرائیں اب انہوں نے اپنا تعارف ''اصلاح کا طالب'' کے طورپر کرانا شروع کیا ہے لیکن اس کی وضاحت کبھی نہیں کی کہ وہ کس قسم کی اصلاحات چاہتے ہیں اب ان کی میانہ روی کا چرچا ہے لیکن اب بھی وہ اپنی انقلابیت ظاہر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے یہ ان کا کمال ہے کہ وہ بیک وقت انقلابی اور میانہ روی کا شاہکار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم میں وہ والہانہ انداز میں اپنے آپ کو روشن خیال اصلاح کار اورحزب اختلاف کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے اپنے حریفوں کو گزشتہ 40 برسوں سے جاری دورظلم وستبداد کاحواری قرار دے رہے ہیں جس میں وہ خود ایک لمحے کے لیے بھی اقتدار کے ایوانوں سے باہر نہیں آئے تھے یہ حسن روحانی کا کمال ہے کہ وہ اپنے دور اقتدارپر تنقید کرکے ایران کی متوسط شہری نوجوان آبادی سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

ترقی کے تمام دعووں کے باوجود حسن روحانی کے گذشتہ 4 سالہ دور صدارت میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اقتصادی اورمعاشی پیداوار میں کسی قسم کاکوئی اضافہ نہیں ہوا افراط زر کی شرح دوہندسوں سے بڑھتے بڑھتے 50 فیصد کو چھونے لگی تھی جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد ہوگئی تھی جبکہ ہزاروں نجی کاروباری تاجروں نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا دستیاب اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ چار سال کے دوران ایران غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے اورغربت کا یہ سفر مسلسل جاری ہے۔

جناب روحانی نے دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ہونے کے بعد ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والوں کی قطاریں لگ جائیں گی اور ڈالر آسمان سے برسیں گے لیکن کئی ماہ بعد بھی ایک ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری نہیں ہوسکی جبکہ اس نام نہاد ایٹمی معاہدے کے بعد ایران نے اپنے ہاتھ پاؤں باندھ کر (1+5) مغربی طاقتوں کے سامنے پیش ہوگیا ہے جس کی قیادت شیطانِ بزرگ امریکہ کررہا ہے۔

حسن روحانی کامشرق کی طرف جھکاؤ کا فلسفہ بھی بری طرح ناکام ہوگیا روس کے ساتھ اتحاد اورشام میں فوجی مداخلت جیسے نازک معاملے پر صدر روحانی کے پر جلتے ہیں کہ وہ بزرگ علی خامنائی کے دائرہ کار میں ہیں شام اور یمن کے بارے میں تو جناب صدرسوال تک نہیں کرسکتے مداخت کو بہت دور کی بات ہے۔

روحانی کے 4سالہ دور صدارت میں امن وامان کی صورت حال اس قدر خراب رہی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی وزیرسیکیورٹی کے مطابق پاکستان اورعراق کی سرحدوں پر 100سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے اسی طرح روشن خیال اصلاح کار حسن روحانی کے دور میں 1988سے اب تک دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں ایران میں دی گئیں اسی طرح سیاسی قیدیوں، ذرائع ابلاغ اورسوشل میڈیا پر پابندیوں، اندھا دھند گرفتاریوں، اخبارات وجرائد اور کتابوں پر پابندیوں میں بھی ایران دوسرے نمبر رپا رہا ترکی کے رجب طیب اردگان ان معاملات میں ایران پر بازی لے گئے۔ کالے دھندے اور چور بازاری آج کے ایران میں معمول کا عمل ہے کل درآمدات کا 25 فیصد غیر قانونی بحری راستے سے سمگل ہوتا ہے جبکہ "امریکہ سے نفرت" کایہ عالم ہے کہ چوٹی کے 55 حکام کے پاس امریکی ''گرین کارڈ'' ہے انتخابی مہم کے دوران حریف امیدواروں سے ٹی وی مکالمے کے دوران صدر حسن روحانی نے کھل کرکہا کہ معاشیات، مسلح افواج، خارجہ پالیسی، انتظامی ا±مور اور عدلیہ میرے دائرہ کار سے باہر ہیں جو کہ سو فیصد درست ہے۔

ان کی حیثیت پتلی تماشا کے کردار سے زائد کچھ بھی نہیں جس میں وہ صدر کاکردار ادا کرتے ہیں جن کی ڈوریاں پس پردہ کوئی اور ہلاتا ہے آئندہ چاربرس بھی یہی پتلی تماشے کا کھیل جاری رہے گا۔ حرف آخر یہ کہ اصلاح پسند اور اعتدال پسند صدر حسن روحانی کے ساتھ کھڑے تھے جنہوں نے ابراہیم رئیسی اور اس کے شدت پسند سرکاری اشرافیہ کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی پشت پناہی کوبھی شکست فاش دے دی ابراہیم رئیسی کو سپریم لیڈر، جوڈیشل کونسل اور خبر گان کونسل کی حمایت حاصل ہے۔

رئیسی ایران میں سنہ 1988ءمیں سیاسی قیدیوں کے بے رحمانہ قتل عام کے لیے قائم کردہ ’ڈیتھ سکواڈ‘ کے رکن رہ چکے تھے اور انہیں سیاسی قیدیوں کے جلادوں کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ شدت پسندانہ نعروں کے ساتھ میدان عمل میں نکلے تھے۔

روحانی اعتدال پسند اور اصلاح پسند قرار دئے جاتے ہیں۔ ان کے پہلے دور صدارت میں امریکا اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنا متنازع ایٹمی پروگرام محدود کرنے کے بدلے تہران کو عالمی تنہائی سے نکالا اور کسی حد تک معاشی پابندیوں سے بھی آزاد کرایا۔

علیل اور عمر رسیدہ آیت اللہ علی خامنہ ای' ڈوبتا سورج ہیں۔ وہ اپنی موجودگی میں کسی ایسے شخص کو ریاستی نظم ونسق سپرد کرنے کے خواہاں ہیں جو ولایت فقیہ کے اسرارو رموز سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ایرانی انقلاب کے پرتشدد اصولوں پر عمل درآمد کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ یہ کام صرف ابراہیم رئیسی ہی کرسکتے تھے

جو سپریم لیڈر کے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے ان کے راز دان بھی ہیں لیکن رئیسی کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اس کا نفسیاتی پہلو تو ہوسکتا ہے لیکن عملا کچھ نہیں بدلے گا حسن روحانی تمام تر مقبولیت کے باوجود کٹھ پتلی ہی رہیں گے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے