حماس نے حال ہی میں اپنے نئے منشور کا اعلان کیا ہے۔اس میں تضادات کے باوجود خطے کی سیاسی صورت حال کے تناظر میں ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بظاہر یہ نئی دستاویز 1988ء کے منشور سے کہیں بہتر نظر آتی ہے۔

اس نئے منشور کے اعلان کے بعد حماس کے سبکدوش ہونے والے رہ نما خالد مشعل نے میڈیا کو متعدد انٹرویو ز دیے ہیں اور اس میں حماس کے سیاسی ارتقاء کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے لیے ایک تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انھوں نے کہا :’’ ڈونلڈ ٹرمپ بڑی دبنگ شخصیت ہیں۔ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور فلسطینی عوام کے لیے ایک منصفانہ حل تلاش کرسکتے ہیں‘‘۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ حماس نے کسی امریکی صدر سے فلسطین کے بارے میں منقسم سیاسی نقطہ نظر کو تبدیل کرنے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن حماس نے سابق صدر براک اوباما سے کیے جانے والے سابقہ مطالبات کی مانند اب کے نئے صدر سے مطالبہ نہیں کیا ہے اور اس کی اپیل محاذ آرائی پر مبنی نہیں ہے۔

خالد مشعل نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’ میری طرف سے یہ ٹرمپ انتظامیہ ۔۔۔ نئی امریکی انتظامیہ ۔۔۔سے اپیل ہے۔وہ ماضی کی غلط حکمت عملیوں سے اپنا ناتا توڑ لے کیونکہ اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔ نئی انتظامیہ حماس کی دستاویز میں پیش کردہ موقع سے فائدہ اٹھائے‘‘۔

بہت سے فلسطینی امریکا سے متاثر نہیں ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی اتھارٹی سیاسی ساکھ اور اپنی بقا کے لیے امریکا کی مالی امداد پر نظر رکھے ہوئے ہے۔تاہم حماس کی جانب سے فلسطین کے سرکاری موقف کو اختیار کرتے دیکھنا اور ٹرمپ سے یہ امید کہ وہ اپنے پیش رو صدور سے زیادہ شفاف ہوجائیں گے،اس جماعت کے رویے اور طرز سیاست میں ایک دلچسپ تبدیلی کا عکاس ہے۔

حماس کی قیادت اپنے حامیوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی بھی کوشش کررہی ہے کہ صرف زبان میں تبدیلی کی گئی ہے اور اس کی سابقہ اقدار کا اسی طریقے سے اور مکمل مضبوطی سے تحفظ کیا جائے گا لیکن شاید اب ایسا معاملہ نہیں رہا ہے۔

نیا اور پرانا منشور

اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس دسمبر 1987ء میں برپا ہونے والی پہلی انتفاضہ تحریک کے بطن سے برآمد ہوئی تھی۔حماس نے اپنے قیام کے چند ماہ کے بعد اگست 1988ء میں اپنا پہلا منشور جاری کیا تھا۔ پہلی انتفاضہ تحریک کے دوران میں پتھر پھینکنے والے ہزاروں فلسطینی بچوں کا قتل عام ہوا تھا۔تب ایک طرح سے سیاسی دانش اور سیاسی فہم وفراست میں کمی نظر آتی تھی۔

اس نے فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کے قبضے کے مقابلے کے لیے سامنے آجائیں۔اس نے ’’ شہادت یا فتح‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔اس نے یہود کے فلسطینیوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنے پر عرب حکمرانوں اور فوجوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس وقت حماس کی قیادت کی جڑیں بنیادی سطح تک تھیں اور یہ تمام کی تمام قریباً فلسطینی مہاجرین پر مشتمل تھی۔

حماس کے بانیوں نے اپنے نظریے کو اخوان المسلمون کی تحریک سے اخذ کیا تھا۔ ان کی سیاست فلسطینی مہاجر کیمپوں اور اسرائیلی جیلوں میں پروان چڑھی تھی۔ اگرچہ حماس نے خود کو ایک بڑے علاقائی گروپ کا حصہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ زیادہ تر ایک منفرد فلسطینی تجربے کا حاصل تھی۔

حماس کے پہلے منشور کی زبان سنجیدہ سیاسی ناپختگی کی عکاس ہے۔اس میں کوئی حقیقی ویژن بھی نظر نہیں آتا اور اس نے اپنی مستقبل کی اپیل کے بارے میں بھی ایک غلط تخمینہ لگایا تھا۔ تاہم یہ منشور اخلاص کا عکاس ہے اور ایک عوامی لہر کا بھی مظہر ہے کیونکہ یہ عوامی لہر فتح کی بالادستی والی تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) سے غیر مطمئن تھی۔

فتح اور پی ایل او میں شامل دوسرے دھڑے 1982ء میں لبنان میں اسرائیل کے حملے کے بعد سے فلسطین کی زمینی حقیقت سے دور ہٹتے چلے گئے تھے۔ 1987ء کی انتفاضہ تحریک دراصل اسرائیل کے فوجی قبضے اور پی ایل او کی لاتعلقی ، ناکامی اور کرپشن سے پیدا ہونے والی مایوسی کا نتیجہ تھی۔

اس لیے فلسطینی تاریخ کے اس مخصوص دور میں حماس کی تشکیل کو انتفاضہ سے الگ تھلگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ اس انتفاضہ نے فلسطینی تحریکوں کی نئی نسل ، قیادت اور عوام میں جڑیں رکھنے والی تنظیموں کو متعارف کرایا تھا۔

حماس نے قومیت کے بجائے اپنی اسلامی شناخت پر زوردیا تھا اور اس لیے مغربی کنارے اور غزہ میں اس کا دوسرے قومی گروپوں کے ساتھ کم کم ہی میل ہوا تھا۔ چنانچہ انتفاضہ تحریک کے خاتمے کے بعد یہ فلسطینی گروپ آپس ہی میں لڑ پڑے تھے اور ان فلسطینیوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہی تشدد کے حربے آزمانے شروع کردیے تھے۔اندرونی اختلافات نے انتفاضہ کو اندر سے بہت کم زور کردیا تھا جبکہ اسرائیل کے قابض فوجیوں نے بھی اس کو بے رحمانہ اور سفاکانہ انداز میں کچلنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

1993ء میں اوسلو معاہدے پر دستخط اور پھر اس معاہدے اور نام نہاد امن عمل کی ناکامی نے حماس کو ایک اور موقع دیا تھا اور امن عمل کے فلسطینی عوام کی کم سے کم توقعات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے حماس کو نئی قوت ملی تھی ۔

’’امن‘‘ کے دور میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں غیر قانونی طور پر یہودی آباد کاروں کو بسانے کا سلسلہ جاری رہا تھا ،غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی تعداد دگنا ہوگئی تھی اور مزید فلسطینی اراضی ہتھیا لی گئی تھی۔اس تناظر میں حماس کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی تھی۔

اس دوران میں تنظیم آزادیِ فلسطین کو ایک طرف کردیا گیا تھا اور اس کی جگہ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) نے لے لی تھی۔ پی اے 1994ء میں معرض وجود میں آئی تھی اور یہ اوسلو معاہدے کا براہ راست حاصل تھی۔اس کے قائدین انتفاضہ کے قائدین نہیں تھے بلکہ زیادہ تر فتح کے وہ دولت مند رہ نما تھے جو عرب دارالحکومتوں سے فلسطینی سرزمین پر لوٹے تھے۔

مرحوم فلسطینی لیڈر یاسر عرفات فلسطین کی حزب اختلاف کی قوتوں کے درمیان توازن کی ضرورت کو سمجھتے تھے۔ان پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ’’ دہشت گردی کے ڈھانچے‘‘ کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے سخت دباؤ رہا تھا لیکن وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ حماس اور دوسری تنظیموں کو دبانے سے خود ان کی جماعت کی مقبولیت پر فرق پڑ سکتا ہے۔

ان کی وفات کے بعد فلسطینی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے پہلے انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ان میں حماس نے پہلی مرتبہ حصہ لیا تھا اور میدان مار لیا تھا۔ اس نے فلسطین میں سیاسی طاقت کے توازن کو بھی یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔حماس نے فلسطینی قانون ساز کونسل ( پی ایل سی) کے انتخابات میں بھی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرلی تھیں۔

حماس کی 2006ء میں منعقدہ ان انتخابات میں جیت کے فوری بعد مغرب نے اس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔اسرائیل نے اس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا اور حماس اور فتح کے درمیان بھی جھڑپوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔نتیجتاً غزہ کی پٹی کی بری ،بحری اور فضائی ناکا بندی کردی گئی اور گذشتہ برسوں کے دوران میں اسرائیل نے غزہ پر متعدد جنگیں مسلط کی ہیں جن میں ہزاروں فلسطینی مارے گئے تھے۔

متبادل کی تلاش

گذشتہ دس سال کے دوران میں حماس کو متبادل کی تلاش کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔اس کو کرہ ارض پر معاشی طور پر سب سے غربت زدہ اور مسائل کا شکار علاقے کا نظم ونسق سنبھالنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

غزہ کا محاصرہ ایک اسٹیٹس کو بن چکا ہے اور جب بعض یورپی طاقتوں نے حماس کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی تو اسرائیل ،امریکا اور فلسطینی اتھارٹی نے اس کی شدید مخالفت کی اور اس کو مسترد کردیا تھا۔

اسلامی تحریک مزاحمت کے پرانے منشور کو عام طور پر ان آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے جو حماس کی تنہائی اور غزہ کے محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا کرتی تھیں۔حماس کے منشور کو تاریخی تناظر سے ہٹ کر پیش کیا جاتا رہا ہے اور اس کا ذکر ان پرانے عہد ناموں کی طرح کیا جاتا تھا جن میں کسی بھی طرح کی سیاسی دانش کا فقدان ہوتا تھا۔

حماس نے یکم مئی 2017ء کو اپنا نیا منشور متعارف کرایا تھا۔اس کا عنوان یہ تھا: ’’ عمومی اصولوں اور پالیسیوں کی دستاویز‘‘۔اس میں اخوان المسلمون کا کوئی حوالہ نہیں ہے بلکہ اس میں حماس کے سیاسی ناک ونقشے کو فلسطینی قومیت اور اسلامی جذبات کے درمیان میں کہیں فٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس میں جون 1967ء کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز کی حمایت کی گئی ہے۔ البتہ تمام فلسطینی سرزمین پر فلسطینی عوام کے قانونی اور اخلاقی دعوے پر بھی اصرار کیا گیا ہے۔اس میں اوسلو معاہدوں کو مسترد کیا گیا ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی کو ایک حقیقت بھی قرار دیا گیا ہے۔اس میں مزاحمت کی تمام شکلوں کی حمایت کی گئی ہے مگر ساتھ ہی مسلح مزاحمت کو کسی محکوم اور مقبوض قوم کا حق قرار دیا گیا ہے اور توقع کے عین مطابق اس میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

بظاہر حماس کا نیا منشور سیاسی توازن قائم کرنے کی ایک محتاط کوشش نظر آتا ہے۔ یہ ایک طرح سے اتھل پتھل کا شکار ماضی سے رخصتی بھی ہے اور اس کو خطے کی نئی سیاست کے تناظر میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ 1988ء کی حماس زیادہ بالغ نہ ہو اور اس میں سیاسی دانش کا بھی فقدان ہو لیکن اس کا قیام بہت سے فلسطینیوں کے جذبات کا حقیقی اظہار تھا۔2017ء کی حماس اپنے الفاظ اور عمل میں بہت زیادہ محتاط نظر آتی ہے لیکن یہ اس لحاظ سے نئی جگہ میں بے مقصد نظر آتی ہے کہ اس کو عرب دولت سے چلایا جارہا ہے۔علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کا اس پر دباؤ ہے ۔گذشتہ دس سال سے جاری محاصرے اور جنگوں کی وجہ سے بھی یہ دباؤ کا شکارہے۔

حماس کی قیادت میں روایتی دانش کی موجودگی اس بات کی بھی مظہر ہے کہ توازن اب بھی ممکن ہے۔سیاسی اثباتیت اور مسلح جدوجہد کو شانہ بشانہ چلا یا جاسکتا ہے۔ دراصل اس تحریک کے مستقبل اور اس کی سیاست اور مزاحمت کے برانڈ کا تعین اسی معقولیت سے برآمد ہونے والے نتیجے سے ہوگا۔

تاہم حماس کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی حریف جماعت فتح کے سیاسی سفر کا احتیاط سے مطالعہ کرے۔ موخر الذکر جماعت کا نظریہ قومیت اور مذہب کا آمیزہ تھا۔اس نے بھی گزرے وقتوں میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی تھی۔

قریباً سینتالیس سال قبل فتح کے لیڈروں نے اپنی انقلابی تحریک الجزائر کی گوریلا جنگ کے طرز پر استوار کی تھی۔اس گوریلا جنگ نے بالآ خر خونیں فرانسیسی نوآبادی کو الجزائر سے نکال باہر پھینکا تھا۔1993ء میں اوسلو معاہدے پر دست خط کرنے سے قبل فتح نے بھی یہ کہا تھا کہ امن عمل اور مسلح مزاحمت ساتھ ساتھ چلیں گے۔

حتیٰ کہ فتح کی آج بھی عوامی ریلیوں میں گذشتہ برسوں ہی کی زبان کا اعادہ کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فتح کی حکمت عملی کے تحت شروع کیے گئے امن عمل سے کچھ حاصل وصول ہو ا ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد سے فلسطینیوں کے ہاتھ کچھ آیا۔

فتح اور حماس کے تجربات کے موازنے سے ان میں واضح مشابہتیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔شاید حماس لاشعوری طور پر آہستہ آہستہ فتح کا ماضی کا ورثہ اختیار کرتی نظر آتی ہے۔

عام آدمی کے لیے ماضی میں حماس میں دلچسپی کی ایک بات یہ تھی کہ وہ ایک فلسطینی موقف اختیار میں کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اس وقت اتنی پختہ اور بالغ نظر نہیں تھی لیکن وہ امریکا کے دباؤ اور عرب اثرورسوخ سے آزاد ضرورتھی۔

درحقیقت بہت سے فلسطینیوں کو 1960ء کی دہائی میں فتح میں بھی یہی کچھ نظر آیا تھا۔حماس اب آہستہ آہستہ اپنی اس خاصیت سے محروم ہورہی ہے جبکہ فتح تو پہلے ہی اس سے محروم ہوچکی ہے۔اگر یہ تحریک اس راستے پر اپنا سفر جاری رکھتی ہے تو وہ خود کو بہت جلد فتح کے ماضی میں پائے گی جس نے فلسطینیوں کو برسوں سے سیاسی طور پر گم کردہ راہ پر ڈال دیا تھا اور داخلی تنازعے میں شکست خوردہ بنا دیا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے