جونہی سعودی عرب نے عالمی مرکز انسداد برائے انتہا پسند نظریات المعروف ’’ اعتدال‘‘ کا افتتاح کیا تو یکایک بعض لوگوں کے اندر کے چھپے ہوئے ننھے اخوانی بیدار ہوگئے اور انھوں نے سعودی عرب پر تنقید کے تیر ونشتر برسانا شروع کردیے۔

یہ سب اس وجہ سے ہوا کیونکہ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے اور اس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ایک راڈار کے طور پر کام کررہا ہے۔یہ مختلف بیانات اور رونما ہونے والے واقعات کے درمیان تعلق کی نشان دہی کے لیے کثیر تعداد میں ڈیٹا کا سراغ لگاتا ہے اور پھر اس کا تجزیہ کرتا ہے۔

لیکن جو لوگ جھوٹ کے دلدادہ ہیں ، وہ زیادہ دیر تک جعلی ناموں کے پردے میں چھپے نہیں رہ سکتے اور وہ سیاسی حزب اختلاف کے نام پر زیادہ دیر تک دہشت گردی بھی نہیں پھیلا سکتے ہیں۔اس مرکز میں انٹرنیٹ یا ٹیلی ویژن چینلز پر آنے والی تمام معلومات کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔

یہ مرکز اخوان المسلمون کی سرگرمیوں اور فتنہ وفساد پھیلانے والوں کے نظریے پر خاص طور پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا تاکہ لوگ ایک شہری اور محفوظ زندگی یا بلیک لسٹ تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکیں۔ اول الذکر زندگی ریاستوں اور اداروں کے احترام پر مبنی ہے جبکہ دہشت گرد تنظیموں کے حامیوں اور مدد گاروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

کیا اب اعتدال کا وقت نہیں آگیا؟ تو پھر اس سے خوف کیسا؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے