حالیہ متعدد واقعات سے قطر کی خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے تین رکن ممالک بحرین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو بڑھاوا ملا ہے۔

ان میں ایران ، حماس ، حزب اللہ ، اسرائیل کے بارے میں تبصراتی بیانات ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امیر قطر سے متعلق بیان ، عراق میں قطر اور ایران کا مبینہ اجلاس ، دوحہ کا امارات پر مخالفانہ میڈیا مہم برپا کرنے کا الزام ، امیر قطر شیخ تمیم کی ایرانی صدر حسن روحانی سے فون پر گفتگو وغیرہ۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کشیدگی مزید بڑھے گی یا خاموشی سے ختم ہوجائے گی۔

جی سی سی اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے روایتی مصالحانہ کردار کے عین مطابق اومان اور کویت نے بحرین ، مصر ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرح قطری میڈیا ذرائع پر پابندی عاید نہیں کی ہے اور وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔جی سی سی کی پوری تاریخ میں کویت اور اومان کے دوحہ کے ساتھ تعلقات کبھی کسی قسم کے مسئلے کا شکار نہیں ہوئے ہیں جبکہ قطر کے بحرین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات مسائل کا شکار رہے ہیں۔

کویت اور اومان ماضی میں بھی اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کو قطر کے دوسرے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کو دور کرنے کے لیے بروئے لا چکے ہیں ۔ان دونوں ممالک نے 2014ء میں بھی جی سی سی کے رکن ممالک میں سفارتی کشیدگی ختم کرانے میں مصالحانہ کردار ادا کیا تھا۔امیرِ قطر اب کویت سے ایسے ہی مصالحانہ کردار کے خواہاں ہیں۔26 مئی کو کویت کے وزیر خارجہ شیخ صباح الخالد الصباح نے دوحہ کا دورہ کیا تھا اور شیخ تمیم سے ملاقات کی تھی۔اس کا مقصد جی سی سی میں جاری اندرونی کشیدگی کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنا تھا۔

اس سے اگلے روز قطر کے وزیر معیشت اور اومان کے نائب وزیر اعظم برائے وزارتی کونسل نے مسقط میں ملاقات کی تھی۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ اور خلیجی عرب ممالک کو درپیش علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

سنہ 2014ء کے بعد بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بعض ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن کے پیش نظر اب جی سی سی کے ان ’’ غیر جانبدار ‘‘ ممالک کے لیے اس نئی کشیدگی کو ختم کرانا مشکل ہوگا۔ واشنگٹن میں اس وقت ایک نئی انتظامیہ ہے۔متحدہ عرب امارات امریکا کی اخوان المسلمون سے متعلق پالیسی میں تبدیلی پر خوش امید ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سے بھی انھیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ قطر پر خطے میں اسلام پسندوں سے اپنے روابط توڑنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

یو اے ای کے قطر کے ساتھ دو امور کی بنا پر تعلقات کشیدہ ہیں۔ایک قطر کی جانب سے اسلامی گروپوں کی حمایت اور دوسرا اس کے ایران کے ساتھ خوشگوار تعلقات ۔اس موخر الذکر بنا پر سعودی عرب کے بھی قطر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔

سکیورٹی سمجھوتا

یہ بات بھی یقینی ہے کہ جی سی سی کے دوسرے رکن ممالک قطر کے خطے میں اسلامی تنظیموں اور گروپوں کے ساتھ تعلقات کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہے ہیں ۔ ایران اور قطر نے خلیجی عرب ریاستوں اور اسلامی جمہوریہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک سمجھوتا بھی طے کیا تھا۔دونوں ملکوں نے دہشت گردی اور سکیورٹی تعاون کے فروغ کے لیے سنہ 2010ء میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔اومان نے بھی اسی سال ایران کے ساتھ اس طرح کا الگ سے ایک سمجھوتا طے کیا تھا۔

کویت ، قطر اور اومان کی حکومتوں اور شیعہ برادریوں کے درمیان شاندار تعلقات استوار ہیں۔ان تینوں ملکوں میں آباد اہل تشیع اپنی اپنی بادشاہتوں کے وفادار ہیں۔ کویت کو پہلی خلیجی جنگ کے خاتمے اور قطر اور اومان کو ایران میں 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا ہے ۔ان تینوں ریاستوں کے حکمراں شاہی خاندانوں کو کبھی ایرانی انقلاب کی برآمد اور اس کی پروردہ انقلابی فعالیت سے کوئی خطرہ نہیں ہوا ہے۔

ان ممالک کے تعلقات میں توانائی ایک اور اہم شعبہ ہے۔ قطر اور ایران میں دنیا کے گیس کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں۔اس وجہ سے قطر کے سعودی عرب کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ مفادات وابستہ ہیں۔ اومان سمندر کے نیچے سے ایک گیس پائپ لائن کے ذریعے ایرانی گیس درآمد کرنا چاہتا ہے۔یہ گیس پائپ لائن ایران کے صوبے ہرمزگان کو اومان میں صحار کے ساتھ آیندہ سال ملا دے گی۔ دونوں ملکوں نے عرب خلیج ہنگم آئیل فیلڈ کو بھی تعمیر کیا ہے ۔یہ منصوبہ 2013ء میں منظرعام پر آیا تھا۔ایرانی ذرائع کے مطابق کویتی اور ایرانیوں نے گذشتہ سال گیس کے ایک معاہدے کے بارے میں مذاکرات کیے تھے۔

جی سی سی کے ممالک میں اس بات میں تو اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ قطر کے بعض اسلامیوں کے ساتھ منفی نوعیت کے تعلقات استوار ہیں لیکن کونسل میں ایران، عرب خلیج تعلقات کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ جی سی سی کے شاہی خاندانوں کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے تشویش اور بعض ممالک کے اس ملک ( ایران) کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں مضمر مفادات کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔

کویت اور اومان کی جانب سے جی سی سی اور ایران کے درمیان بہتر تعلقات کی حمایت اور امیر قطر کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو کو مسترد کرنے کے بعد یہ دونوں ’’ غیر جانبدار‘‘ عرب خلیجی ریاستیں اس مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھانے کی خواہاں ہوں گی۔

تاہم ان ممالک کی جانب سے ایرانی مفادات کو کونسل میں مزید جگہ دینے کی کوشش کا دوسرے ممالک خیرمقدم نہیں کریں گے کیونکہ وہ ایران کے ساتھ ہاتھ بڑھانے کو ایسے وقت میں کونسل میں کمزوری اور تقسیم کی علامت گردانتے ہیں جب ایران عرب خلیجی ممالک کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن رہا ہے۔وہ یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت کررہا ہے۔وہ شامی حکومت اور بحرین ، لبنان اور عراق میں شیعہ جنگجو گروپوں کی ہر طرح سے معاونت اور مالی مدد کررہا ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر جی سی سی میں زیادہ اتحاد اور یگانگت کی ضرورت ہے۔

_________________________________
جیورجیو فرانسیسکو کیفیرو واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک تھنک ٹینک ’’ گلف اسٹیٹ اینالٹکس‘‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شریک بانی ہیں۔وہ خلیج تعاون کونسل کی جغرافیائی سیاست کے تجزیہ کار ہیں۔ وہ گذشتہ چار سال سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے بارے میں مضامین لکھ رہے ہیں۔ٹویٹر پر ان سے اس پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
@GulfStateAnalyt.
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے