ایران نواز تجزیہ کار اور مبصرین یہ لکھتے اور کہتے رہتے ہیں اور دوسروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ایرانی رجیم ایک علاقائی قوت ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔اس طرح کا دعویٰ بالعموم دھوکا دہی پر مبنی حب الوطنی کے پردے میں کیا جاتا ہے اور اب کے یہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ بحران اور عدم استحکام سے دوچار ہے اور یہی رجیم بنیادی طور پر اس کا ذمے دار ہے۔

ایرانی رجیم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک علاقائی طاقت ہے اور مبصرین بعض اوقات بین الاقوامی سطح پر اس کے لیے سودے بازی کرتے ہیں اور وہ یہ فرض کیے لیتے ہیں کہ اس طرح کے دعوے درست ہوسکتے ہیں۔

برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ ایرانی رجیم یا یمن ،بحرین ، عراق ،شام اور لبنان میں موجود اس کے گماشتہ گروپ ان ممالک میں ہلاکتوں ، نسلی تطہیر ، تباہ کاریوں اور عدم استحکام میں ملوث ہیں۔موصل کو داعش سے آزاد کرانے کا معاملہ بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔

عراق کے شمالی صوبے نینویٰ میں آباد عرب قبائل کے سربراہوں نے عالمی برادری سے حال ہی میں مطالبہ کیا ہے کہ حشد الشعبی سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو موصل اور اس کے نواحی علاقوں سے نکال باہر کیا جائے اور خطے میں ایرانی رجیم اور اس کی گماشتہ تنظیموں کی بالادستی ختم کرائی جائے۔

بہ الفاظ دیگر ایرانی رجیم دوسروں کے خون پسینے سے فصل کاشت کرتا ہے اور پھر ان کے مصائب کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عراق پر قبضے اور صدر براک اوباما کی مصالحانہ پالیسی کے نتیجے میں ایرانی رجیم کو عراق اور شام میں قدم جمانے اور پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا موقع ملا تھا لیکن یہ ایرانی رجیم کی قوت یا مضبوطی کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔

اس سکے کے دوسرے رُخ پر خوف ، علاقائی بحران ، تنازعات اور عدم استحکام ہیں۔چنانچہ وہ اس انداز میں اپنے ہی خوف ، مجبوریوں اور کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ورنہ دوسری صورت میں وہ کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔دوسری جانب روزانہ کی بنیاد پر غیر مسلح اور بے گناہ حکومت مخالفین کو سرعام سزائیں دی جاتی ہیں،انھیں قید میں ڈالا جاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ پھر ان سب کی بھی پردہ پوشی کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایرانی رجیم نے خطے میں ایک ایسی اسلامی خلافت کا خواب دیکھا تھا جو برسراقتدار آنے کے بعد سے ڈیڑھ سے دو سو سال تک برقرار رہے۔ نظام خلافت چونکہ قرونِ وسطیٰ سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اکیسویں صدی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے ،اس لیے اس خواب کے پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔

انقلاب کی ہائی جیکنگ

ایرانی رجیم نے ایک جانب تو انقلاب کو یرغمال بنا کر اپنی بالا دستی قائم کررکھی ہے۔یہ انقلاب دراصل لوگوں کی آزادی ، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے سیکڑوں برس کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ تھا۔اس تاریخی جدوجہد کا بڑاثمر مسعود رجوی کی قیادت میں تحریک ہے۔ وہ خمینی کے منصوبے سے آگاہ تھے اور وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ایران کی مجاہدین خلق تنظیم گذشتہ قریباً چالیس سال سے متشدد بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے آگے سینہ تانے کھڑی ہے۔ دوسری جانب صنعتی اور سرمایہ دار انہ دور میں قرون وسطیٰ کی خلافت کا خواب ایک ناقابل عمل آئیڈیا نظر آتا ہے۔

ایرانی رجیم کے اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ عوام اور آزادی کےمتوالے لوگوں کو دبائے رکھے ، دہشت گردی کی برآمد اور خطے اور دنیا بھر میں بحران پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے تا کہ وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پاسکے۔اس کے لیے ایک اور لفظ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور وہ اچیلس کی ایڑی کو چھپانا ہے۔

ایرانی رجیم کی کمزوریاں کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے دو اور سوالوں کا جواب دینا ضروری ہے:

۱۔ وہ کیا وجہ بنی تھی کہ ایرانی رجیم برسوں کی خفیہ کاری اور دھوکا دہی کے بعد مذاکرات کی میز پر آگیا اور اس نے مشترکہ جامع لائحہ عمل کو قبول کر لیا تھا؟

۲۔ ایران میں منعقدہ حالیہ صدارتی انتخابات میں خامنہ ای کی شکست کی کیا وجہ بنی اور ان کا رئیسی کے نام سے کھیلا گیا پتا کامیا ب نہیں ہوسکا ہے؟

ایرانی رجیم کی سب سے بڑی کمزوری اس کے قانونی جواز کا بحران ہے۔ 2009ء میں لاکھوں ایرانیوں نے ’’ آمر مردہ باد ‘‘ اور ’’ ملاّ ؤں کی حکمرانی مردہ باد ‘‘ کے نعرے بلند کیے تھے۔سرکاری حکام کے مطابق بیداری کی اس تحریک نے رجیم کو قریب قریب اقتدار سے نکال باہر پھینکا تھا اور اس کی کمزوریوں کو عیاں کردیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بہ قول اگر اس وقت براک اوباما ایرانی عوام کی پشت پناہی کرتے تو ایرانی رجیم کا چھے ماہ سے بھی کم عرصے میں دھڑن تختہ ہوجاتا کیونکہ وہ اس وقت اوباما ، اوباما پکار رہے تھے اور انھیں یہ باور کرارہے تھے کہ وہ رجیم کے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ ہیں۔

ایرانی رجیم مذاکرات کی میز پر آنے پر اس وجہ سے بھی مجبور ہوا تھا کیونکہ ایرانی حزب اختلاف نے ایران کو ایک وسیع تر بارود گاہ میں تبدیل کردیا تھا اور رجیم کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ کسی معمولی سی غلطی سے ایک سماجی دھماکا ہوجائے گا اور لاوا اُبل پڑے گا۔بین الاقوامی پابندیوں کے علاوہ ایرانی رجیم کے مذاکرات کی میز پر آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بات بنی تھی۔اس کے علاوہ یمن میں مداخلت کی وجہ سے بھی علاقائی ملکوں کا اس پر دباؤ تھا۔

طاقت کی جعلی نمائش

ایرانی رجیم کی جانب سے طاقت کی نمائش جعلی ہے۔براک اوباما کی مصالحانہ پالیسی اور یورپی ممالک کی سہولت کاری کی وجہ سے ایرانی رجیم کو خطے کے ملکوں میں بحران پیدا کرنے اور انھیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کا موقع ملا ہے۔

حال ہی میں سعودی عرب میں منعقدہ امریکی ،اسلامی ،عرب سربراہ اجلاس میں ہم نے ایک اور مشاہدہ کیا ہے۔ ایران کے لیڈر خود کو مسلم دنیا کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن انھیں اس سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی اور 55 مسلم ممالک کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ دراصل ایرانی رجیم کی مسلم ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پالیسیوں کے خلاف بیان تھا۔

اس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ’’ لبنان سے عراق اور یمن تک ایران دہشت گردوں ، ملیشیاؤں اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کو تربیت دے رہا ہے، انھیں رقوم اور اسلحہ مہیا کررہا ہے اور یہ گروپ خطے میں تباہی اور افراتفری پھیلا رہے ہیں۔ایران عشروں سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آگ کو ہوا دے رہا ہے‘‘۔

ایران نے سب سے خوف ناک اور تباہ کن مداخلت شام میں کی ہے۔ایران کی حمایت سے بشارالاسد نے ناقابل بیان جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ذمے دار اقوام کو شام میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور داعش کے استیصال کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

ایرانی عوام کے مصائب

ایرانی رجیم کے ہاتھوں سب سے زیادہ ایرانی عوام ہی مشکلات ومصائب کا شکار ہوئے ہیں۔ ایران کی ایک توانا تاریخ اور ثقافت ہے لیکن ایران کے عوام اپنے لیڈروں کے تنازعات میں کود پڑنے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

23 مئی 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے اور خطے کے مختلف ممالک کے لیڈروں سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا تھا۔اس کے مطابق ان لیڈروں نے مشرقِ وسطیٰ میں بحرانوں کے اسباب سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے داعش اور القاعدہ کو شکست سے دوچار کرنے ، ایران کی خطے کے ممالک میں مداخلت کی مخالفت اور علاقائی تنازعات اور ان کے حل کے لیے کوششیں تیز کرنے سے بھی اتفا ق کیا تھا۔

ان لیڈروں نے جی سی سی کے ممالک کی خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت کو مضبوط بنانے ، ایران کی تخریب کارانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی فرقہ واریت اور علاقائی کشیدگیوں کو کم کرنے کے لیے مل جل کام کرنے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

ان لیڈروں نے پہلے خلیج، امریکا سربراہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے قائم کیے گئے مشترکہ ورکنگ گروپوں کی بیلسٹک میزائلوں سے دفاع ، اسلحے کی منتقلی ، تربیت ،دہشت گردی ، میری ٹائم سکیورٹی اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں کار گزاری کا بھی جائزہ لیا تھا۔

ایرانی رجیم صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے ۔اس لیے ایرانی رجیم کی دوسرے ممالک میں مداخلت اور عدم استحکام کے لیے اقدامات کو روک لگانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

22 مئی کو ایران کی مرکزی حزب اختلاف قومی کونسل برائے مزاحمت نے عرب ،اسلامی ،امریکی سربراہ اجلاس اور اس کے موقف کا خیرمقدم کیا تھا۔کونسل کی صدر مریم رجوی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملاّؤں کے رجیم کی مذمت کے ساتھ ساتھ مناسب اقدامات بھی کیے جانے چاہییں اور خاص طور پر درج ذیل اقدامات کیے جائیں:

ملاّؤں کے رجیم سے ناتا توڑا جائے۔
عالمی برادری سے اس کو بے دخل کیا جائے۔
پاسداران انقلاب ایران کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔اس کے علاوہ رجیم سے وابستہ فوج ، نیم فوجی دستوں اور سکیورٹی کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے اور انھیں خطے سے نکال باہر کیا جائے۔

اس طریقے سے ہی رجیم کی کمزوریوں کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے