ایران کی حکومت کا ایک واضح مقصد ہے ۔وہ اپنے مفاد کے مطابق حقیقت کو ڈھالنے کی کوشش کررہی ہے۔اس نے جب شام کی قسمت کا فیصلہ کیا تو اس پر خود بخود ہی عمل درآمد شروع ہوگیا تھا ۔بعد میں اس نے اپنے کردار کو عراق تک توسیع دے دی تھی۔ عراق میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ ملیشیاؤں کی قیادت کررہا ہے۔اس نے بعض ملیشیائیں اور گروپ تشکیل دے رکھے ہیں۔ ان کے ذریعے وہ اب عراق کے بعد شام میں بھی بڑی لڑائیاں لڑرہا ہے اور دمشق اور دوسرے اہم علاقوں میں سرحدی گذرگاہوں (بارڈر کراسنگز) کو کنٹرول کررہا ہے۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ شام میں تنازع کئی سال اور چلے گا اور علاقائی ممالک ایران کی مخالفت کرنے والے دوسرے گروپوں کی حمایت کریں گے۔اس سے دوبارہ داعش ظہور پذیر ہوگی اور اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچےگا۔

ایران اپنے اس منصوبے کو جائز ثابت کرنے کے لیے مختلف جواز اور عذر ہائے لنگ پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑرہا ہے اور عراق کے ساتھ اپنی سرحدوں کا دفاع کررہا ہے۔تاہم ایران اپنے کنٹرول والے علاقوں کی نقشہ کشی بھی کررہا ہے۔وہ شام میں سرحدی گذرگاہوں کو بھی کنٹرول کررہا ہے اور تین سو کلومیٹر کے علاقے میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔پھر وہ عراقی ملیشیاؤں سے مل کر سرحد عبور کر کے شامی علاقوں میں داخل ہوجاتا ہے۔

ایران کی القدس فورس شام میں صدر بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے داخل ہوئی تھی اور اس نے اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ وہ تو شیعہ مزارات کے دفاع کے لیے آئے ہیں۔اب ایرا ن داعش کے خلاف لڑائی کے نام پر شام میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔

تاہم سچ یہ ہے کہ اس کا عراق ،شام اور لبنان میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے۔

پاؤں پھیلانے کا منصوبہ 

عراق اور شام میں موجودہ کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ان دونوں ممالک میں ایرانی موجودگی میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ہی فرقہ ورانہ انتہا پسندی طول پکڑے گی۔ اس سے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے داعش کو ختم کرنے کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا کیونکہ داعش تنظیم کو بھی فرقہ ورانہ بنیاد پر تشکیل پانے والی الحشد الشعبی فورسز کی موجودگی سے سنی آبادی والے علاقوں میں ایسے گروپ کھڑے کرنے کا موقع ملے گا جو ان ملیشیاؤں سے لڑ سکیں۔

ایران کی عراق اور شام کی سرحدوں کی جانب پیش قدمی سے داعش مخالف بین الاقوامی مہم کی سنجیدگی کے حوالے سے بہت سے سوال پیدا ہوگئے ہیں اور مسلح کردوں کے ساتھ بھی نئے جنگی محاذ کھل گئے ہیں کیونکہ الحشد الشعبی کے جنگجو ان کے علاقوں سے ہی گذر کر جاتے ہیں ۔

بہ الفاظ دیگر عراق کی ایک مسلح تنظیم سرحد سے گذر کر شام میں داخل ہوتی ہے۔اس سے علاقائی خود مختاری کے حوالے سے بھی قانونی سوال پیدا ہوگئے ہیں ۔ جیسا کہ ترک فوج کے عراق کے علاقے میں داخلے کے وقت ہوا تھا اور عراق نے ان کی موجودگی کو اپنی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

ایران اپنے اتحادی روس سمیت بین الاقوامی فورسز پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ اس نے روس کے موقف میں جزوی تبدیلی کی بُو سو نگھ لی تھی ۔ روسیوں نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ انھیں ،موجودہ مرحلے میں ایران اور اس کی غیر ملکی ملیشیاؤں سے بھی معاملہ کرنا ہوگا ۔ایران اب روس کے اس موقف میں تبدیلی کو جاننے اور اس کی تصدیق کی کوشش کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے ہزاروں عراقی جنگجوؤں اور دوسری ملیشیاؤں کو شمالی عراق میں بھیج دیا ہے تا کہ انھیں وہاں سے شام کے علاقے میں داخل کیا جاسکے۔

ایران اپنی اس سرگرمی کے ذریعے عراق اور شام کو پارہ پارہ کردے گا ۔وہ دہشت گردی کے خطرات کو بھی بڑھا دے گا کیونکہ مختلف محوروں کے درمیان طوائف الملوکی اور تنازعات سے دہشت گرد گروپ فائدہ اٹھائیں گے۔اس لیے متعلقہ فریق آستانہ یا جنیوا مذاکرات کے ذریعے شامی تنازعے کا کوئی سیاسی حل نہیں چاہتے ہیں اور انھوں نے ایران کے فوجی لیڈروں کو صورت حال اور بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کھلی آزادی دے رکھی ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جائے اور اس کے پروردہ تمام غیرملکی جنگجوؤں کو دونوں جنگ زدہ ممالک سے باہر نکلوانے کو ترجیح دی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے