قطر کے معاملے کو انہونی قرار دینے والے یا تو حقائق سے لاعلم ہیں یا پھر جان بوجھ کر اپنے اپنے مفادات کے مطابق رنگ دے رہے ہیں۔ ہنسی آتی ہے ان لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ قطر خطے میں آزادانہ خارجہ پالیسی اختیار کئے ہوئے تھا، معدنی دولت اور وسائل سے مالا مال قطر کا اصل تعارف تو یہ ہے کہ یہ خلیجی ریاست امریکہ کا سب سے بڑا جنگی اڈا ہے، جدید ترین اسلحے کے ڈھیر، سینکڑوں لڑاکا طیارے اور 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی جس مقام پر موجود ہیں اسے عملاً امریکہ کی ایک ریاست ہی سمجھا جائے گا،

اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مختصر آبادی والا یہ ملک امریکی بیس کے باعث علاقے میں دفاعی وجنگی حوالے سے غیر معمولی مقام کا حامل ہے، کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں کہ سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کی موجودگی اور نگرانی کے فول پروف انتظامات کے باوجود قطر نے اپنے ہاں کبھی طالبان کا دفتر کھولنے کی اجازت دی کبھی امریکی مخالف حماس کے خالد مشعل کو مہمان بنائے رکھا. 

قطر نے ہی حزب اللہ کو بھاری رقوم دیں، داعش کو معاونت فراہم کرنے کا الزام بھی سہا، ایک ہی وقت سعودی قیادت میں فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تو دوسری جانب ایران سے راہ ورسم اس حد تک بڑھائے کہ یمن میں حوثی باغیوں کو بھی خوش کر ڈالا، اس مختصر سے جائزے سے یہ نتیجہ نکالنا ہر گز مشکل نہیں کہ قطری حکام علاقے میں امریکی رابطہ کار کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ امریکہ کو بائی پاس کر کے اپنے طور پر بظاہر امریکہ مخالف نظر آنے والے ممالک اور گروپوں سے تعلقات قائم کرتے، امریکہ کی بنیادی پالیسی کے عین مطابق جس میں طے کیا گیا ہے کہ ہر متحرک گروہ کو کسی نہ کسی موقع پر براہ راست یا غیر محسوس طریقے سے اپنے حق میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے شام میں عرب ممالک کو جہادی گروپوں کی حمایت کرنے کا کہا، اس کا بنیادی مقصد پہلے ہی سے معاشی اور عسکری دباؤ میں آئے ہوئے عرب ممالک کو اپنی سرحدی حدود سے باہر جنگ میں الجھانا تھا۔

عرب ممالک خصوصاً سعودی قیادت اس چال سے کسی حد تک آگاہ تھی مگر کوئی اور چارہ نہ پا کر فریق بننا پڑا، دھوکہ ہوا اور کھلا دھوکہ ہوا۔ امریکی جنگی مشینری جس کے لئے دمشق میں موجود بشار الاسد کو نشانہ بنانا محض چند گھنٹوں کا کام تھا، غچہ دے گئی، ایک حد سے آگے جا کر کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ فریق بننے والے عرب اور مسلم ممالک ابھی صورت حال کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ انہیں معلوم ہواکہ ایران اور اس کے حمایتی مسلح گروہ بشار الاسد کی مدد کے لئے آگئے ہیں۔ شام میں موجود جہادی گروپ نے عسکری صلاحیتوں کا غیر معمولی مظاہرہ کر کے دمشق کے دروازے تک رسائی حاصل کر لی۔

بشار الاسد کے تمام حامی دیوار کے ساتھ لگنے ہی والے تھے کہ روس جنگ میں کود پڑا، بظاہر طرطوس میں موجود اپنا اڈا بچانے کے لئے مگر بعد کے حالات میں واضح کر دیا گیا کہ روس کو امریکہ کی مکمل تائید حاصل تھی۔ ادھر یمن میں ایک روز اچانک حوثی باغی اٹھے اور جگہ جگہ قبضہ کرتے چلے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت امریکہ یمن میں موجود القاعدہ کے ارکان اور ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے پوری طرح سے سرگرم تھا۔ حوثیوں نے بظاہر ایران کی مدد سے ہلہ بولا مگر حقیقت میں امریکہ ان کے ساتھ تھا، امریکی فوج نے کئی مقامات پر اسلحے کی بھاری مقدار جان بوجھ کر چھوڑی جو بعد میں حوثیوں کے ہاتھ لگتی رہی۔


سعودی عرب کو ہر طرف سے گھیرے میں لینے کا پلان تکمیل کے قریب تھا، امریکہ، سعودیہ تعلقات اس حد تک تناؤ کا شکار ہو چکے تھے کہ اوباما نے سعودیہ کیخلاف علانیہ بیان بازی کرنے والے پہلے امریکی صدر ہونے کا ’’اعزاز‘‘ حاصل کر لیا۔ اس دوران کئی واقعات رونما ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح کشیدگی تو مرحوم شاہ عبداللہ کے دور سے ہی پیدا ہو چکی تھی مگر شاہ سلمان کے دور میں تو حالات نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ سعودی عرب نے عرب اور مسلم ممالک کو اکٹھا کر کے فوجی اتحاد بنانے کا فیصلہ کر لیا، نہ صرف فیصلہ، بلکہ یمن کو حوثیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لئے باقاعدہ لڑائی چھیڑ دی۔ جدید ترین طیارے اور دیگر جنگی ساز وسامان کی موجودگی کے باوجود یہ لڑائی بہت احتیاط سے لڑی جا رہی ہے، عدن میں منصور ہادی کی حکومت بحال کرنے کے بعد اب تعز میں معرکہ جاری ہے۔ عرب اتحاد کی مجبوری ہے کہ وہ صنعا اور حوثیوں کے زیر قبضہ دیگر علاقوں میں دمشق اور حلب طرز کی بمباری نہیں کر سکتا۔ عالمی رائے عامہ اپنے خلاف کرنے کا چانس تو بہرطور نہیں لیاجا سکتا۔ یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کا جواب دینے کے لئے خلیج تعاون کونسل کا اجلاس بلایا گیا تو فرانس کے صدر کو خصوصی دعوت دے کر مدد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔اسلحہ خریداری کی بڑی ڈیل ہوئی تو فرانس کے صدر بھی کھل کھلا اٹھے اور عرب اتحاد کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

فرانس کے صدر کو مدعو کرنے کا مقصد امریکہ کو باور کرانا تھا کہ آپ کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے، مخالفین کو یہ چیلنج کیسے ہضم ہو سکتا تھا ۔سو ایک دن پتہ چلا کہ سمندری راستے سے آنے والے داعش کے دہشت گردوں نے پیرس کو خون میں نہلا دیا ہے، اس واقعہ سے پھر واضح ہو گیا کہ شدت پسندوں کے گروہوں کو کس طرح سے عالمی سطح پر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اوباما دور تک کا معاملہ بالکل ٹھیک تھا، ایران کی طاقت ظاہر کرنے کے لئے ایک سے زائد مرتبہ امریکی کشتیوں کو سمندر میں روکنے کے واقعات پیش آئے۔ ایک مرتبہ تو ایرانی گارڈز نے 12 سے زائد امریکی فوجی بھی پکڑ لئے، جنہیں معافی کے بعد رہائی ملی۔ یہ صورت حال دلچسپ بھی تھی اور مضحکہ خیز بھی، پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی یہ اصول طے کر لیا گیا تھا کہ خصوصاً امریکی فوجیوں کو دوران ڈیوٹی زبردستی روکنے ٹوکنے والوں کو نمونہ عبرت بنا دیا جائے گا مگر ایران کے معاملے پر امریکہ نے حیرت انگیز طور پر ’’برداشت‘‘ کی پالیسی اختیار کی۔

ایران کی تو آج بھی عسکری طاقت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے مگر 1990 ء کی دہائی میں سابق یوگوسلاویہ حقیقی معنوں میں منی سپرپاور تھا۔ طیاروں سمیت تمام جدید ترین روسی اسلحہ اور بہت ہی بڑی فوج کے ساتھ بوسنیا کے معاملے پر نیٹو نے یوگوسلاویہ پر حملے کا منصوبہ بنایا تو امریکی فضائیہ نے پلک جھپکتے ہی تمام جدید ترین طیارے، میزائل اور جنگی ساز و سامان جہاں جہاں موجود تھے وہیں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دئیے ۔چین ان دنوں سابق یوگوسلاویہ کا بہت بڑا اور سرگرم حامی تھا، چینی حکام نے امریکی حملے پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ امریکی حکام نے کارروائی کے دوران کئی منزلہ عمارت کے بیچ میں واقع چینی سفارتخانے پر بھی میزائل برسا دئیے، عملے کے ارکان سمیت کئی لوگ ہلاک ہو گئے، بعد ازاں ’’معذرت‘‘ کرتے ہوئے اسے فرینڈلی فائر قرار دے ڈالا۔

عالمی صورت حال پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا پہلے ہی سے کہنا تھا کہ ٹرمپ کے آنے سے مشرق وسطیٰ پالیسی میں تبدیلی آئے گی، گو کہ اس حوالے سے امریکی صدر اور اسٹیبشلمنٹ کے درمیان زبردست کھینچا تانی چل رہی ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرح اپنے حکمران صدر کو دباؤ میں لانے کے لئے میڈیا سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے ،لگتا ہے ٹرمپ آسانی سے قابو نہیں آئیں گے۔ ریاض کانفرنس کا اعلامیہ کھلا اور واشگاف ہے، اب تو یہ رپورٹس شائع ہو چکی ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے مصلحتاً قطر کو آن بورڈ لے رکھا تھا، ریاض کانفرنس کے دوران ہی امریکی انتظامیہ کا بدلتا ہوا موڈ دیکھ کر اسے آگاہ کر دیا گیا کہ قطر کی سرگرمیاں قابل قبول نہیں۔ چند روز بعد ہی قطری حکام نے حیرت انگیز طور پر ایران کے حق میں بیان دے ڈالا، سعودی عرب اور اتحادی ممالک نے زبردست ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سفارتی تعلقات تک توڑ ڈالے اور پوری دنیا کو پیغام دے دیا کہ خطے کی صورت حال کے حوالے سے سعودی پالیسی کی مخالفت کرنے والوں کے لئے ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ قطری حکام کو امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کسی حصے نے ترغیب دی ہو یا پھر امریکی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا مشترکہ پلان ہو، دکھائی مگر یہی دیتا ہے کہ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ پالیسی، اوباما سے مختلف ہو گی۔

سعودی عرب اور اتحادی ممالک خود کو جنگی لحاظ سے مضبوط کرنے کی پالیسی پر پہلے ہی سے گامزن ہیں، مقامی طور پر اسلحہ سازی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ امریکہ سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدا جائے گا، ہاں !مگر اس سودے پر کسی دوسرے کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہر ملک اپنے وسائل اور دفاعی ضروریات کے حوالے سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ دفاعی خود انحصاری ہی اصل چیز ہے، کسی دوسری طاقت پر زیادہ دیر بھروسہ کرنا بے حد خطرناک امر ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے کس حد تک آگے جائے گا، پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، مگر قطر کے خلاف سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے سخت ایکشن سے واضح ہو گیا کہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو معاملہ جنگ کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ پراکسی وار والے پہلے جیسے حربے شاید زیادہ دیر نہ چل پائیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لی جائے کہ اس سارے معاملے میں پاکستان اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلہ کرے گا، امریکی دباؤ پہلے جیسے انداز میں آنے کے امکانات کم ہیں سو موجودہ پالیسی ہی جاری رہے گی۔

تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جس میں منظر بالکل برعکس ہے، یہ کہا جارہا ہے کہ قطر کے اقدامات مسلم امہ کے وسیع تر مفاد میں تھے، ترکی اس حوالے سے فی الوقت قطر کا حامی ہے مگر کرد علیحدگی پسندوں کے حوالے سے امریکی موقف اور اس پر ترک صدر کے تحفظات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بعض امور بھی وضاحت طلب ہیں، امیر قطر نے ایران کے حق میں بیان جاری کرنے کے بعد سعودی عرب اور اتحادیوں کا ردعمل آتے ہی ویب سائٹس ہیک ہونے کی بات کر دی تھی مگر اس کے بعد انہوں نے ایرانی صدر روحانی سے فون پر کم وبیش انہی الفاظ پر مبنی گفتگو کی، عالمی برادری اور مسلم ممالک کی غالب اکثریت کی کوشش ہے کہ اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے طے کر لیا جائے۔ کئی امور ابھی پردہ راز میں ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھلتے جائیں گے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے