جن لوگوں نے ایک زبردست کویتی ڈراما ’’ حامی الدیار‘‘ الدسمہ تھیٹر میں 1986ء میں دیکھا ہوگا ،انھیں سعد الفرج کی اداکاری کے دلچسپ مناظر یاد ہوں گے۔

ایک منظر میں سعد الفرج نے اخبار کے ایک ایسے امیر کبیر مدیر کا کردار ادا کیا تھا ،جس کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ ملک میں سیاسی تنازعات میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔اس دوران میں اس کو ایک مذہبی گروپ کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوتی ہے۔وہ اس گروپ کو پہلے سے نہیں جانتا لیکن وہ اس سے اخبار میں دینی صفحے کے اضافے کا مطالبہ کرتا ہے۔

وہ انھیں بتاتا ہے کہ اخبار تو پہلے ہی ایک دینی صفحہ شائع کررہا ہے لیکن اس مذہبی گروپ کے لوگ مدیر کو یہ جواب دیتے ہیں کہ ان کا موجودہ صفحہ تو سلفیوں کے لیے ہے،ان کے لیے نہیں ہے۔پھر وہ مدیر ان سے پوچھتا ہے،آپ کون لوگ ہیں؟ کس گروپ سے آپ کا تعلق ہے؟وہ بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے۔مدیر اعلیٰ یہ سن کر حیران ہوتا ہے اور پھر انھیں خوب صورت کویتی لہجے میں کہتا ہے: ’’ بہت اچھا۔ تو بھائیو آپ کیسے ہو؟‘‘

طویل تاریخ

اخوان المسلمون کی خلیج اور خاص طور پر کویت میں موجود ہونے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اخوانی وہاں ایک طویل عرصے سے رہ ر ہے ہیں۔قطر اور اخوان المسلمون کے درمیان تعلقات ، اس گرو پ اور اس کے میڈیا کے لیے رقوم کی فراہمی اور سیاسی حمایت ۔۔۔ان سب کا صرف ایک شخصیت سے تعلق ہے: قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی اور شاید چار پانچ اور لوگوں سے بھی تعلق ہو جبکہ کویت میں اخوان المسلمون کی موجودگی بہت گہری اور مؤثر ہے۔

اللہ کریم کویت اورا س کے عوام کو مسائل سے محفوظ رکھیں۔کویت میں جب اخوان المسلمون کا بائیں بازو اور قوم پرست حزب اختلاف کے ساتھ ظہور ہوا تھا تو انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ قومی پالیسیوں کا دفاع چاہتے ہیں۔اب وہ اپنے مخالفین کے خوب لتے لیتے رہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خلیج کا اتحاد برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

مثال کے طور پر اخوان المسلمون کے مشہور کویتی لیڈر ،مبارک الدویلہ نے چند روز قبل کویتی روزنامے القبس میں اخوان المسلمون ؛ اور اس کے قطری اتحادیوں کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا۔اس میں وہ لکھتے ہیں:

’’ قطر کے بائیکاٹ کا کوئی قابل قبول جواز پیش نہیں کیا گیا ہے‘‘۔

’’ قطر سے دوسرے خلیجی ممالک اس کی جانب سے پسے ہوئے عوام کے لیے حمایت اور اس کی انصاف اور عوامی آزادیوں کے دفاع کی وکالت کی پالیسی کی وجہ سے ناراض ہوئے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید لکھا :’’ خطہ خلیج کے شہری یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں کہ اخوان المسلمون کو غیر معمولی طور پر مرکز ومحور بنایا جارہا ہے حالانکہ اس گروپ نے تو اپنی طویل تاریخ کے دوران میں ایک گولی بھی نہیں چلائی ہے‘‘۔

ٹھیک ۔ان کی بات مان لی جائے تو پھر اخوان المسلمون تونوبل امن انعام کی حق دار ٹھہرتی ہے اور اس کا میڈل ( تمغا) سید قطب ، عبدالر حمان السندھی ، عبدالحکیم بلحاج ، صالح سریہ اور اسامہ بن لادن کی تصویروں پر سجایا جانا چاہیے۔

بعض دوسرے لوگوں نے بھی کویت میں اخوان المسلمون کے خلیج کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے نام پر پروپیگنڈے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مگر الدویلہ اچانک ہی اس ایشو کے بارے میں حساس ہوگئے ہیں اور انھوں نے متحدہ عرب امارات پر حملے شروع کردیے ہیں ۔انھوں نے دسمبر 2014ء میں مجلس چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں متحدہ عرب امارات اور شیخ محمد بن زاید پر سنی اسلام کو نشانہ بنانے،ملک میں اخوان المسلمون کے خلاف من گھڑت الزامات عاید کرنے اور اس کے خلاف معاندانہ موقف اختیار کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

اس سنجیدہ مسئلے پر تنازع حقیقی ہے ۔اخوان المسلمون ، حزب اللہ ،حوثی ملیشیا ، داعش ، النصرہ محاذ اور لیبی گروپوں کے کردار متنازع فیہ ہیں۔مبارک الدویلہ کو اس مسئلے پر تشویش لاحق ہے ۔یہ بات اخوان المسلمون کے نقطہ نظر سے تو قابل فہم ہے لیکن وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی ان کے اس موقف کا کیا جواز پیش کرے گا جو وہ طوائف الملوکی کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔

تو بھائیو ! آپ کیسے ہیں؟

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے