قطری شہری دنیا میں آخری شخص ہے جو موجودہ خلیجی بحران کا شکار ہوا ہے۔ قطری اچانک اپنی حکومت کی دوسرے ممالک کو نقصان پہنچانے کی طویل المیعاد پالیسیوں اور انتہا پسند گروپوں کی حمایت کا خمیازہ بھگتنے لگے ہیں۔

قطر پہلے خطے کے دوسرے ممالک کو نشانہ بناتا رہا ہے اور اب وہ خود نشانہ بن گیا ہے۔اب وہ اپنے شہریوں کو یقین دہانی کرانے اور ان کی سلامتی کی ضمانت دینے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ اس کے ہاں امریکی فوج کا اڈا ہے۔ تمام کھیل نے اس وقت پلٹا کھایا ہے جب سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بیک وقت اور مشترکہ طور پر قطر کے ساتھ تعلقات توڑنے کا فیصلہ کیا۔

دوحہ میں حکام نے اپنے شہریوں کے استحصال کی کوشش کی اور اب وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پابندیوں کا ہدف قطری شہری ہیں۔اس معاملے میں قطر عراق کے سابق صدر صدام حسین اور حماس کی زبان کی جگالی کررہا ہے۔

پالیسیوں کا خمیازہ

یہ پہلا موقع ہے کہ قطر کی حکومت کو خطرہ محسوس ہوا ہے اور وہ دوسرے ممالک کے خلاف معاندانہ پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔اس نے انتہا پسندانہ تحریکوں کی حمایت اور مسلح تنظیموں کی مالی معاونت کے ذریعے عرب معاشروں کو مسلسل سبوتاژ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر قطر کی حمایت میں احتجاج زیادہ تر ان لوگوں کی جانب سے کیا جارہا ہے جو بین الاقوامی دہشت گردوں کے پیروکار ہیں۔ان میں سعودی دہشت گرد عبداللہ المحیسنی ،کویتی انتہا پسند حامد العلی اور دسیوں دوسرے انتہا پسند شامل ہیں جنھوں نے نہ صرف مصر اور سعودی عرب بلکہ پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔

مذکورہ چاروں ممالک نے جن افراد کو بلیک لسٹ کیا ہے،ان میں زیادہ تر قطر میں مقیم ہیں یا پھر وہ ان کی حمایت کررہا ہے۔امریکا نے بھی ان افراد پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں اور ان کے نام اس کی ممنوعہ فہرست میں شامل ہیں۔قطر اتھل پتھل کا شکار خطے میں امن وسکون سے رہتا رہاہے۔ گذشتہ تیس سال میں صرف دو مرتبہ اس کو نشانہ بنایا گیا۔سنہ 2005ء میں دوحہ میں ایک برطانوی اسکول کو دہشت گردی کے حملے میں ہدف بنایا گیا تھا۔اس سے ایک سال قبل چیچن حزب اختلاف کے رہ نما سلیم خان یندر بائیوف کو دوحہ کی ایک شاہراہ پر قتل کردیا گیا تھا۔

قطری عدالت نے اس مقدمے میں روسیوں کو قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں لیکن جب روس نے دھمکیاں دیں تو قطر نے چند روز کے بعد ہی ان کو رہا کردیا تھا ۔جب وہ روسی رہا ہوکر ماسکو پہنچے تو سرکاری سطح پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔

مصر قطر کے پروردہ گروپوں کی دہشت گردی کا برسوں سے شکار چلا آرہا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ بھی ایسا معاملہ درپیش ہوا ہے اور اس نے 2003 سے 2009ء تک القاعدہ کے خلاف ایک جنگ لڑی تھی۔سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے القاعدہ کی اپیل پر آمنا وصدقنا کرنے والے گروپوں کو دوحہ کی واضح حمایت حاصل تھی۔الریاض ، قاہرہ ، تیونس اور خون ریزی کا شکار ہونے والے دوسرے دارالحکومتوں نے قطری حکام کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کیا تھا جو ماسکو نے کیا تھا۔ وہ صرف سفارتی سطح پر ہی احتجاج کرتے رہے تھے۔

وعدہ ایفائی سے گریز

ہم دوحہ کے حکام کی کارستانیوں کے ردعمل میں غیر قانونی اقدامات کی بات نہیں کررہے ہیں۔تعلقات کو توڑنا ہی کافی ہونا چاہیے تھا۔ہم قطر کی جانب سے ان پالیسیوں کے دوبارہ ظہور اور روایتی چابک دستی کو بروئے کار لانے کی توقع کرتے ہیں۔قطر نے کم وبیش ہر مرتبہ ہی اپنے وعدوں سے پہلو تہی کے لیے گومگو کی صورت حال پیدا کردی تھی۔

اب قطر اپنے تئیں غیر منصفانہ محاصرے کی شکایت کررہا ہے۔یہ شکایت اس لحاظ سے مضحکہ خیز نظر آتی ہے کہ قطر کی فضائی حدود تو کھلی ہیں۔مذکورہ چار ممالک کے ساتھ ملنے والی سرحدوں کے سوا اس کی آبی حدود بھی کھلی ہیں۔قطر کے پاس وافر مالی وسائل موجود ہیں۔اس کے پاس بڑا فضائی بیڑا ہے ۔ وہ یورپ اور آسٹریلیا کی پرتعیش مارکیٹو ں سے اپنے لیے اشیائے ضروریہ کو روزانہ کی بنیاد پر درآمد اور دوحہ منتقل کر سکتا ہے۔یہ خطے کا سب سے چھوٹا ملک ہے اور اس کے زیادہ تر شہری صرف ایک ہی شہر میں رہتے ہیں۔

جہاں تک غزہ کی تقلید کرنے اور حماس کی تقریروں کی نقل کرنے کی بات ہے تا کہ عرب اور عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہوا جاسکے تو یہ طرز عمل قطر ایسی امیر ریاست کی پہچان سے کچھ لگا نہیں کھاتا ہے۔

دوحہ کے حکام کا بائیکاٹ کیا گیا ہے،محاصرہ نہیں ۔بحرین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے جو کچھ کیا ہے، وہ صرف قطری حکام کو اپنی راہداریوں کے استعمال سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت یہ ان کا حق ہے۔ دوحہ کے حکام عرب حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے جو کچھ کرتے رہے ہیں، یہ اس کے مقابلے میں ایک مہذب طریقہ ہے۔جب آپ ہمسائیگی کے تعلقات کو سبوتاژ کریں گے تو پھر اس کی قیمت تو چکانا پڑے گی۔

یہاں قطر ائیرویز اس کی قیمت چکا رہی ہے۔اب اس کے طیاروں کو منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے کیونکہ قطر کے تین ہمسایہ ممالک نے اس کی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔اس اقدام سے صرف سعودی عرب کے لیے قطر ائیر ویز کی 1200 پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔اس کی پروازوں کے ذریعے سعودی عرب میں ہر ماہ ڈھائی لاکھ مسافروں کو لایا اور واپس لے جایا جاتا تھا جبکہ سعودی عرب کی فضائی کمپنی کی قطر کے لیے ہرماہ پروازوں کی تعداد صرف 120 تھی۔قطر ی حکام کو اب اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور مالی نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔

اس بائیکاٹ سے دوحہ کے حکام پر مالی ، اخلاقی اور سیاسی طور پر بھی اثر پڑے گا۔تاہم اس کو کسی بھی صورت میں محاصرہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے جب تک کہ قطری طیارے اور بحری جہاز دنیا بھر میں سفر اور تجارت کرتے رہتے ہیں۔ناکا بندی تو تب ہوگی جب تمام راستے اور راہداریاں بند کردی جائیں گی جیسا کہ اس سے قبل عراق کے ساتھ ہوچکا ہے۔

اس لیے قطر کو ایسے جواز تراشنے چاہییں جو قابل قبول ہوں یا دباؤ میں شدت اور بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافے سے قبل مصالحت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے