حق اور باطل کے باہم گڈمڈ ہوجانے کو بالعموم فتنہ کا نام دیا جاتا ہے۔ مورخین ،ماہرین لسانیات ودینیات پوری اسلامی تاریخ میں اور اوائل کی صدیوں میں شورشوں کو ’’ فتنے کے سال‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔تاریخی طور پر اس گڑ بڑ کی بنیاد پر اس کو فتنے کا نام دیا گیا تھا۔

اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اختلافات اور تنازعات کے تذکرے کتب میں موجود ہیں۔

لیکن اس مفہوم کا ہمیشہ اچھائی اور برائی میں تصادم پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا ہے۔سعودی عرب نے اپنے دشمنوں کے خلاف جو بھی جنگیں لڑی ہیں ،ان کے دوران میں بعض لوگوں نے خفیہ طور پر دشمن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور انھوں نے فتنے کے تصور کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ نظریاتی طور پر فتنے کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔

چناں چہ انھوں نے فتنے کے نام پر دشمن کا چوری چھپے اس انداز میں دفاع کیا کہ ان کی اپنی وابستگی مشتہر نہ ہوسکے ۔یہ عقیدے کی شاید سب سے کم زور شکل ہے۔

اپنے ملک کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا فتنے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ تو دین اور حُب الوطنی کا تقاضا ہے اور یہ خالصتاً ملک سے حلفِ وفاداری پر مبنی ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے