محدود جغرافیے کے حامل ممالک بالعموم اپنے حجم سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر کسی چھوٹے ملک کو اس کے محدود علاقے کی بنا پر کسی چیز سے محروم رکھا جاتا ہے ، تو وہ ایک بھوت پالیسی کے ذریعے اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ ممالک جلد یا بدیر خطرناک کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں جس سے ان کی ہمسایہ ریاستیں متاثر ہوتی ہیں۔وہ یہ سب کچھ اس یقین کی بنا پر کرتے ہیں کہ اس طرح انھیں زیادہ تحفظ حاصل ہوجائے گا یا وہ علاقائی سیاست میں اپنے قد سے بڑھ کر حصہ وصول سکتے ہیں۔

عام طور پر ممالک ایک وسیع تر تناظر میں جو کردار ادا کررہے ہوتے ہیں ،وہ اسی کو بہتر اور موثر بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کا یہ کردار شفافیت سے مشروط ہوتا ہے اور وہ میز پر جائز طریقے سے روابط و تعامل کرتے ہیں۔چور دروازے یا غیر تحریری پالیسی کو اختیار کرنے کا راستہ پُرخطر ہوتا ہے اور بالآخر مایوسی یا ناکامی پر بند ہوجاتا ہے۔

یہاں لفظ چھوٹے کا استعمال کسی تضحیک کے مقصد کے تحت نہیں کیا جارہا ہے بلکہ یہ جغرافیائی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔میرا اپنا ایک چھوٹے ملک لبنان سے تعلق ہے۔یہ نہ صرف اپنے جغرافیے کے اعتبار سے چھوٹا ہے بلکہ اس کے ساتھ عدم استحکام کا بھی شکار رہتا ہے۔

پہلے ممالک عالمی یا علاقائی سیاست میں اپنی گنجان آبادی اور فوجوں کے حجم کے اعتبار سے کردار ادا کیا کرتے تھے یعنی حصہ بقدر جثہ، لیکن اب وقت تبدیل ہوچکا ہے۔اب اگر کسی ملک کو تزویراتی اثرورسوخ حاصل ہے یا وہ ’’ نرم طاقت‘‘ ہے،اس کے پاس میڈیا کا ایسا پلیٹ فارم ہے جو سنا جاتا ہے،اس کے پاس بھاری آمدن کے باثروت وسائل ہیں تو وہ بآسانی علاقائی سیاست میں قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔

جمال عبدالناصر کا ورثہ

مصر کے دوسرے صدر جمال عبدالناصر نے پان عرب اتحاد کے نام پر ایک ایسے ورثے کی قیادت کی جس میں سرحدوں کی نفی کی گئی تھی۔اس کا ایک ہی مقصد تھا کہ اس طرح نئی علاقائی لکیریں کھینچی جائیں ۔اس طرح بہت سے حکمرانوں کے لیے اپنی بالادستی قائم کرنے کے در وا ہوگئے تھے۔

ناصر کے تجربے سے عراق کے صدام حسین اور لیبیا کے معمر قذافی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ قذافی کی اپنے قد کاٹھ سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی روش سے لیبیا کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

مختلف سیاسی میدانوں اور ممالک میں کردار ادا کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس درکار وسائل وصلاحیتیں ہوں۔ بااثر حکمران ، قانونی جماعتیں یا تنظیمیں کسی بھی ملک کی ثالث کار کے طور پر کرداری صلاحیت کا ناک ونقشہ بنانے یا تبدیلی کی راہ روکنے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔

بعض ممالک اس حد تک عدم استحکام کا شکار ہوجاتے ہیں کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی ان میں مداخلت ناگزیر ہوجاتی ہے اور وہ ثالثی کے لیے کود پڑتے ہیں۔وہ نامساعد صورت حال کو سنبھالتے ہیں اور حتیٰ کہ وہ انتہا پسندوں سے بھی مفاہمت کر لیتے ہیں۔

سرد جنگ کے زمانے میں تمباکو کے کھیتوں سے بھرے پڑے ایک چھوٹے سے ملک کیوبا نے امریکا اور سوویت یونین کے درمیان محاذ آرائی میں ایک درمیانی چینل کا کردار ادا کیا تھا۔دوسری صورت میں ان کے درمیان ایک تباہ کن فوجی محاذ آرائی ہوسکتی تھی۔

کیوبا کا میزائل بحران

بعد میں اس کو کیوبا کے میزائل بحران کا نام دیا گیا تھا اور یہ امریکا کی اس یقین دہانی کے ساتھ ختم ہوا تھا کہ کیوبا اگر جوہری ہتھیاروں سے لیس سوویت میزائلوں کی اپنے ہاں تنصیب ختم کردیتا ہے تو اس کے بدلے میں صدر فیدل کاسترو کی حکومت کو کچھ نہیں کا جائے گا ۔

اس کے بعد کئی سال تک انکل سام نے کیوبا میں جوکچھ ہوتا رہا تھا،اس سے کوئی سروکار نہیں رکھا تھا۔دوسری جانب کاسترو نے لاطینی امریکا اور افریقا میں امریکا مخالف تحریکوں اور انقلابوں کی حمایت جاری رکھی تھی اور وہ امریکا کے ساتھ چھیڑ خانی کے لیے کچھ بھی کر گزرتے تھے۔

لیکن کاسترو کا یہ طویل سفر 1991ء میں اس وقت اپنے اختتام کو پہنچ گیا جب سوویت یونین کا انہدام ہوگیا اور وہ پھر سے ’’ چھوٹے ملک کے خبط‘‘ ( کمپلیکس) میں مبتلا ہوگئے۔ لیبیا کے بدنام زمانہ آمر معمر قذافی پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔و ہ اس حد تک پاگل پن کا شکار ہوگئے تھے کہ انھوں نے اسکاٹ لینڈ میں لاکربی کے اوپر امریکا کے ایک مسافر طیارے کو دھماکے سے اڑانے کا حکم دے دیا۔اس بم دھماکے میں 243 مسافر اور طیارے کے عملے کے 16 ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

جزیرہ نما عرب کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں گھرے ہوئے گیس کی دولت سے مالا مال قطر نے بھی اپنے قد کاٹھ سے بڑھ کر سیاسی اہمیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور اس کی انتہاؤں تک پہنچ گیا۔اس نے اپنے باغیانہ خوابوں کو عملی جامہ پہنانے اور اپنی خواہش کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے علاقائی سیاست کی نئی تصویر کشی شروع کردی تھی ۔

ہم برسوں سے شام ،قطر ، ترکی کی تکون کے شام ، سعودی اور مصر کی تکون کی جگہ لینے کی باتیں سن رہے ہیں لیکن اس طرح کا کوئی بھی منصوبہ خطرات سے لبریز تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج تک تو اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا ہے۔ان میں سے ہر ملک نے خطے میں جو تاریخی کردار ادا کیا ہے،اس سے اس ابہام کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

قطر کے علاقائی کردار کو ’’دوحہ سمجھوتے ‘‘کے ذریعے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔اس پر لبنان میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے ہوا تھا۔ تب حزب اللہ کے جنگجوؤں نے مغربی بیروت پر چڑھائی کردی تھی اور اس پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے فلسطینی اتھارٹی پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ حماس کو اس کا حصہ دے اور اس کی سرکاری فنڈ سے چلنے والی میڈیا کمپنی الجزیرہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ویڈیو ٹیپس نشر کیا کرتی تھی۔

اسامہ کے پیغامات غلط وقت میں اور غلط جگہ سے نشر کیے جارہے تھے۔ان میں غربت ، عوامی مایوسی ،بے روزگاری اور قدیم منافرت کو موضوع بنایا جاتا تھا۔

عرب بہاریہ تحریکیں

پھر عرب بہاریہ تحریکوں کا دور آگیا۔تب قطری قیادت نےایک گہرا غوطہ لگایا اور خطے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔تنازعے کے نقشے میں ہر کہیں دوحہ کی انگلیوں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔خواہ یہ مصر ہے ،لیبیا ، شام یا یمن ہے۔قطر نے مصر میں اخوان المسلمون کی اقتدار تک رسائی کے لیے بڑی بازی لگائی تھی اور عرب بہاریہ تحریک کے دوران میں یہ کھیل کھیلا گیا تھا۔ جب یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اخوان المسلمون کا ایجنڈااور حقیقت دو مختلف چیزیں ہیں تو پھر بھی قطر نے اپنے طرزعمل میں تبدیلی نہیں کی۔

قطر نے ہر کسی کے ساتھ ابلاغی چینل قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں وہ ایک خطرناک متناقض صورت حال سے دوچار ہوگیا کیونکہ ایک طرف تو اس کے ہاں امریکا کا ایک فوجی ہوائی اڈا تھا اور دوسری جانب وہ بلیک لسٹ دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بھی تعلقات پروان چڑھا رہا تھا۔

قطرنے عرب بہاریہ تحریکوں کے دوران اعتدال پسند ذہنی ساخت کے ساتھ راہ ورسم استوار کرنے کا موقع بھی گنوا دیا تھا۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ قطر کی حکمت عملی کے تحت سعودی عرب اور مصری حکومتوں کو ہدف بنایا گیا۔ بالخصوص اس نے خلیج مخالف حزب اختلاف کی حمایت کا انتخاب کیا خواہ اس کا تعلق کسی ملک سے تھا یا بیرون سے۔دوحہ نے اپنے ہمسایوں کی حفاظتی باڑوں کو جلانے کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھی تھی۔

قطر کے پاگل پن کے طریق کار نے بہت سےسوالات کھڑے کردیے ہیں۔کیا دوحہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مصریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی سزا دینے کے لیے اپنے تزویراتی اثرورسوخ کو استعمال کرے؟ کیا یہ درست ہے کہ دوحہ نے لیبیا میں متحارب فریقوں کے درمیان جنگ وجدل میں بھی بالا دستی کے حامل گروہ پر اپنا ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ہے؟یا کیا یہ اس کے لیے ٹھیک تھا کہ اس نے ایک فلسطینی جماعت کو فائدہ پہنچایا؟

یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ قطر کی تخریبی مداخلتوں سے متعلق تحفظات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کسی تردد کے بغیر پورے خطے ہی کو فرقہ ورانہ تنازعات کے ذریعے تار تار کرنے کے درپے ہے۔

اب قطر کی ہمسایہ ریاستوں نے اس کی جارحانہ پالیسی کو روک لگا دی ہے۔یہ خلیجی ریاست جب تک کیوبا کے طرز کے خوابوں سے دست بردار نہیں ہوجاتی ہے،اس وقت یہ چھے ملکی خلیج تعاون کونسل میں کوئی موثر اور مثبت کردار ادا نہیں کرسکتی ہے۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے عرب ممالک اس سے صرف یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اپنا فطری کردار ادا کرنا شروع کردے۔ وہ کاسترو کے ’’بھوت کیوبا‘‘ کی طرح نہیں بلکہ اپنے جغرافیائی قد کاٹھ کے مطابق کردار ادا کرنے والے کیوبا کی طرح ہوجائے۔

---------------------------------------------------------

(غسان شربل لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشر ق الاوسط کے ایڈیٹر انچیف ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے