قطر کے بائیکاٹ کے پیچھے پنہاں پیغام بالکل واضح تھا۔قطری عوام ہمارے بھائی ہیں اور وہ خطہ خلیج کی مصدقہ توسیع ہیں۔اصل مسئلہ تو معاندانہ کارستانیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت سے پیدا ہوا ہے۔اس سے نہ صرف خلیج بلکہ خلیج سے مصر اور لیبیا سے دوسرے ممالک تک کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں جو سچ کو مسخ کرنے اور گمراہ کن تشریحات کی کوشش کررہے ہیں۔انھوں نے بائیکاٹ کو محاصرہ بنا دیا ہے جس کا مقصد قطریوں کو قحط سے دوچار کرنا ہے۔بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قطر پہلے ڈوبے گا اور اس کے بعد دوسرے ممالک بھی ڈوبیں گے۔

یہ لوگ اپنی گمراہ کن کوششوں اور کذب بیانیوں کے ذریعے خلیج اور عرب عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ قطری ہمسائے ،بھائی اور رشتے دار اور ’’ قطریائے‘‘ گئے لوگوں میں بہت فرق ہے۔یہ لوگ قطریوں کی طرح اداکاری اور بولنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کا قطری عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگ اس طرح کے تمام بحرانوں کا سبب ہوتے ہیں۔

لیکن ان قطریائے گئے افراد سے ہماری کیا مراد ہے؟قارئین شاید یہ خیال کریں کہ ہماری مراد وہ شخص ہے جس نے حال ہی میں قطری شہریت حاصل کی ہے لیکن یہ بالکل بھی درست نہیں ہے۔ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال آبادی اور شہریت کا حصول ثقافتوں کو متنوع بناتا اور انھیں مالا مال کرتا ہے۔اس تمام عمل کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ یہ شہری نئے ملک کی ترقی میں معاون ہوتے ہیں۔ خلیج اور عرب ممالک میں یہی کچھ ہوا ہے۔دانشور ، سیاست دان ، علماء ،کھلاڑی اور فن کار ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔وہ ان ممالک کی قومیت حاصل کرتے ہیں اور پھر وہ اپنے نئے ممالک میں نئی توانائی اور روح پھونکتے ہیں۔

قطر کو بھی کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔جو نمایاں شخصیات قطر منتقل ہوئی ہیں،ان میں سابق قطری مفتی عبداللہ بن زاید آل محمود بھی شامل ہیں۔ وہ نجد کے صحرا سے آئے تھے۔وہ وہاں اپنے وسیع علم اور روشن خیال نقطہ نظر کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔انھوں نے امام مہدی کے متوقع ظہور کے تصور کو بھی مسترد کردیا تھا۔وہ اس کو ایک التباس اور دھوکا خیال کرتے تھے۔

باغی کردار

تاہم قطر کی گذشتہ دو عشروں کی پالیسیوں سے یہ سب مثبت مظہریت ختم ہوچکی ہے اور اب ہم ’’ قطریائے گئے‘‘ لوگ دیکھ رہے ہیں۔باغی کردار جو نہ صرف اپنے نئے ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ وہ ہمسایہ ممالک کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

قطریائے گئے لوگوں کی سب سے نمایاں مثال شیخ یوسف القرضاوی ہیں۔وہ بغاوت کے بیج بوتے رہے تھے ۔انھیں سیاسی تقریروں کی اجازت دی گئی اور ان کا مقصد عرب ممالک میں ابتری طوائف الملوکی کی شہ دینا تھا۔ان میں مصر سب سے نمایاں ملک ہے اور اس کو ان کی مخالفانہ سرگرمیوں اور زہریلے نظریات کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

کیا کوئی قطری شخص جو اپنے ملک میں امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ،وہ خلیج میں اپنے بھائیوں کی سکیورٹی کو ہدف بنانے والی کارروائیاں کرے گا۔یقیناً نہیں۔ کیا قطریائے گئے افراد ایسا کرسکتے ہیں؟ یقیناً ہاں اور ہم نے ایسی متعدد مثالیں دیکھی ہیں۔

ہمارے پاس ایک ’’ انقلابی ‘‘ سعودی ماہر تعلیم کی مثال موجود ہے جو سعودی قومیت کو ٹھکرا کر قطری بن گیا تھا۔اس نے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیزی اور حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔بہت سے مصریوں نے بھی ایسے کیا تھا۔وہ دوحہ میں ہوٹلوں میں پُر تعیش زندگی گزارتے تھے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے مصری حکومت کے خلاف متشدد میڈیا مہم برپا کی تھی اور مصری عوام کو سڑکوں پر نکالنے کی کوشش کی تھی۔

اگر ہم قطریائے گئے لوگوں کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ان 59 دہشت گردوں کے بارے میں جاننا ہوگا جن کے نام سعودی عرب ، مصر ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں آئے ہیں۔

ان تمام لوگوں کا قطری عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے( اگرچہ ان میں سے بعض قطری نژاد ہیں)۔وہ محب وطن نہیں بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو تشدد ، دہشت گردی اور سرقلم کرنے کے کلچر کے پروپیگنڈے میں مہارت رکھتے ہیں۔ان کا ایک ہی مقصد ہے: ملکوں کو تباہ کیا جائے اور انتہا پسند تنظیموں کے پھیلنے کی راہ ہموار کی جائے ۔دوحہ میں سیاسی اثر ورسوخ بڑھایا جائے اور داروں اور میڈیا میں قدم پھیلائے جائیں۔

ان میں سے بعض لوگ ہمیں گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ دوحہ میں جدید جامعات اور روشن خیال ماہرین تعلیم کے ناموں اور تھنک ٹینکس کے حوالے دیتے ہیں لیکن یہ تمام لوگ سیاسی قیادت کی جانب سے وضع کردہ ایک ہی جیسے منصوبے کے لیے خدمات بجا لارہے ہیں۔اس کا پتا خفیہ سودوں اور افشا ہونے والی ریکارڈنگز سے ہوا ہے۔

’’ قطریانے‘‘ کی مظہریت ان تمام افراد ،گروپوں اور نظریات کو اپنی جانب کھینچتی ہے جو قطر کو چھوڑ کر دوسرے ممالک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ایک عمومی باغیانہ روش بالعموم کویت سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے ایک دانشور پر مشتمل ہو سکتی ہے۔اگر ان میں سے کسی کو ان کے بارے میں کوئی یقین نہیں ہوتا تھا تو پھر کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ ان کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا۔ اگرچہ اس کو پانے کے لیے ان کے ذرائع مختلف ہوتے تھے۔

یہ مظہریت اچانک ظہور پذیر نہیں ہوئی ہے۔ قطر کی سیاسی قیادت نے دولت اور بہت سی زبانوں میں میڈیا مہموں اور ویب گاہوں کے ذریعے اس کو پروان چڑھایا اور پھیلایا مگر انھوں نے اس کو ایسے مختلف نعروں تلے چھپا کر رکھا تھا جن کے ذریعے دہشت گردی ، افراتفری اور خون ریزی کو فروغ دیا جاتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ چار ممالک نے طویل عرصے تک ضبط وتحمل کے بعد آخر کار ایسے ناگزیر اقدامات کیے ہیں جن کا مقصد اس مظہریت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔وہ ان اقدامات کے ذریعے قطری شہریوں کی بہت بڑی خدمت اور معاونت کررہے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ قطریائے گئے لوگ بازاری قسم کے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔
________________________

ممدوح المہینی العربیہ نیوز چینل کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے